Kissan or Ghora

Kissan Or Ghora

کسان اور گھوڑا

وقت کے ساتھ ساتھ گھوڑا بوڑھا ہوگیا اب وہ کسی کام کا نہیں رہا تھاکسان کو اپنے گھوڑے سے بہت پیار تھا

حاجی محمد لطیف کھوکھر:
ایک کسان کے پاس ایک نہایت شاندار اور خوبصورت گھوڑا تھا جس پر وہ اپنے جانوروں کے لیے چارہ وغیرہ لایا کرتا تھا جب کبھی کہیں جانا ہوتا تو وہ اسی پر سواری کرلیتا تھا اس گھوڑے کا یہ بھی فائدہ تھا کہ جب کبھی کسان کو اپنے گھر والوں کو کہیں لے کر جانا ہوتا وہ اس کے پیچھے تانگہ لگالیتا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ گھوڑا بوڑھا ہوگیا اب وہ کسی کام کا نہیں رہا تھاکسان کو اپنے گھوڑے سے بہت پیار تھا جب اس کے دوستوں نے دیکھا کہ کسان کا گھوڑا بوڑھا ہوچکا ہے اور کسان کے کسی کام کا نہیں رہا توانہوں نے مشورہ دیا کہ اس کو شہر میں جاکر فروخت کرکے نیا گھوڑا خریدلے کسان کا دل بھی یہی چاہتا تھا لیکن اس گھوڑے کو خریدتا کون؟بوڑھا گھوڑا تو کسی کام کا نہیں تھا پھر کسان کو اپنے اس گھوڑے سے پیار بھی بہت تھا۔

(جاری ہے)

آخر ایک دن کسان ایک دوست آیا اور اُس نے مشورہ دیا کہ قریبی شہر میں ایک نہایت چالاک بروکر رہتا ہے وہ یہ گھوڑا ضرور فروخت کردے گا بس اس کو تھوڑا بہت معاوضہ دینا پڑے گا کسان نے کہا کہ اگر یہ گھوڑا فروخت ہوگیا تو بروکر کو معاوضہ دینے میں کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔
اگلے دن کسان نے گھوڑے کو نہلا دھلا کر تیار کیا اور اسے لے کر شہر کی جانب چل پڑا شہر پہنچ کر اس نے بروکر کا پتہ معلوم کیا اور تھوڑی تگ و دو کے بعد اسے ڈھونڈ ہی لیا کسان نے بروکر سے کہا تم میرا یہ گھوڑا بیچ دو تو میں تمہیں اس کام معقول معاوضہ دوں گا۔
بروکر نے کسان کی ساری بات سن کر کہا کہ لو بھئی یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں یہ گھوڑا فروخت کرنا میرے لیے معمولی کام ہے تم نے کچھ نہیں بولنا گاہکوں کو متوجہ کرنا میرا کا م ہوگا تم بس ایک طرف جاکر بیٹھ جانا تمہارا گھوڑا صبح فروخت کرادوں گا بروکر یہ کہہ کر کسان کو مہمان خانہ میں لے گیا اور وہاں جاکر اسے آرام کرنے کیلئے کہا اس دوران بروکر کا ملازم کھانا بھی لے آیا کسان نے کھانا کھایا اور آرام سے سو گیا۔
صبح فجر کی نماز پڑھ کر بروکر نے کسان کو ساتھ لیا اور گھوڑے کو لے کر مویشی منڈی پہنچ گیا جہاں پر مختلف قسم کے جانور فروخت ہونے کے لیے لائے گئے تھے کسان خوش تھا کہ اس کا گھوڑا بک گیا تو وہ یہیں سے ہی نیا گھوڑا خرید لے گا۔بروکر نے کسان کے گھوڑے کو پکڑا اور آواز لگائی۔
”لو جی۔آج ایک شاہکار اور لاجواب گھوڑا لایا ہوں اس گھوڑے کو خریدنے کے لیے کئی وزرا اور امرا کے دل مچلتے تھے یہ کوئی عام گھوڑا نہیں ہے بلکہ نہایت قیمتی گھوڑا ہے اس پر تاریخ کی کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں مشہور سوانح عمری میں اس گھوڑے کا ذکر موجود ہے اسی گھوڑے پر بیٹھ کر ہمایوں بادشاہ نے جنگ لڑی تھی اور فاتح بنا۔
اس گھوڑے پر ظہیر الدین بابر نے کئی جنگیں لڑیں اور کئی علاقے فتح کئے اور تو اور ہلاکو خان نے بھی اسی گھوڑے پر بیٹھ کر دنیا کو فتح کیا تھا۔سکندر اعظم تو اس گھوڑے کا شیدا تھا اسی گھوڑے پر بیٹھ کر سکندر اعظم دنیا کو فتح کرنے نکلا تھا یہ گھوڑا کوئی عام گھوڑا نہیں ہے اس کو خریدنے کے لئے کئی بادشاہوں نے کئی چالیں چلیں کئی بار لڑائیاں ہوئیں اس گھوڑے پر کئی مقابلے کیے لیکن یہ گھوڑا قسمت والوں کے پاس ہی رہتا ہے،اس گھوڑے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس پر نا صرف بادشاہوں بلکہ گلی محلے میں بھی کئی جھگڑے ہوئے کئی الیکشن اس گھوڑے کی وجہ سے جیتے گئے ہیں اس کی خوبیوں کی لمبی فہرست میرے پاس موجود ہے جوکہ میں بیان کرنے لگوں تو کئی دن لگ جائیں مختصر یہ کہوں گا کہ گھوڑا نایاب ہونے کے ساتھ ساتھ قسمت والا بھی ہے۔
جس مالک کے پاس بھی گیا اُس کو امیر بنادیا آرے یاد آیا کہ اس کی تاریخی اہمیت پر ایک بندے نے تو پورا کالم لکھ ڈالا تھا وہ کالم میں اپنے ساتھ لایا ہوں کہاں گیا وہ کالم؟بروکر نے کمال کی اداکاری کرتے ہوئے اپنی جیبوں کو ٹٹولا اور ایک چُر مُڑ سا کاغذ نکالا اور دیکھ کر پڑھنے لگا۔
اسی دوران کسان بھاگتا ہوا اُس کے پاس آیا اور لوگوں کے مجمے کو بھگاتے ہوئے بولا ارے ارے رکو مجھے یہ گھوڑا نہیں بیچنا مجھے اس کی تاریخی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا مجھے اتنا قیمتی گھوڑا بالکل نہیں بیچنا لاؤ اس کی باگ مجھے پکڑاؤ میں اتنا قیمتی گھوڑا کیوں فروخت کروں،،،،،ہٹو،،،،یہ میرا قیمتی گھوڑا مجھے دے دو۔بروکر حیرانی سے کسان کو دیکھ رہا تھا اور کسان نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی باگ پکڑی اور اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگیا۔

Your Thoughts and Comments