Mumani Ka Hajj

Mumani Ka Hajj

ممانی کا حج

یہ ایک گورنمنٹ اسکول تھا، جس میں جماعت اول سے پنجم تک تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ اسکول کل سات کمروں اور ایک چھوٹے سے میدان پر مشتمل تھا ۔ پانچ کمرے بطورجماعت اور ایک ہیڈماسٹر کا کمرا تھاجہاں تمام اساتذہ کرام بیٹھا کرتے تھے۔

انوار آس محمد :
یہ ایک گورنمنٹ اسکول تھا، جس میں جماعت اول سے پنجم تک تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ اسکول کل سات کمروں اور ایک چھوٹے سے میدان پر مشتمل تھا ۔ پانچ کمرے بطورجماعت اور ایک ہیڈماسٹر کا کمرا تھاجہاں تمام اساتذہ کرام بیٹھا کرتے تھے۔
ساتواں کمراممانی کا تھا۔ ان کااصلی نام تونہ جانے کیاتھا، مگر ہم بچے انھیں ممانی کہا کرتے تھے۔ ممانی کادنیا میں کوئی نہیں تھا۔ یہ اسکول کبھی ممانی کی ملکیت تھا۔ انھوں نے یہ اسکول حکومت پاکستان کو وقف کردیا تھا۔ ممانی جس کمرے میں رہتی تھیں، وہیں انھوں نے ایک کینٹین کھولی ہوئی تھی۔
وہ اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی صاف ستھری چیزیں مثلاََ سموسے، سینڈوچ، نمک پارے فروخت کیاکرتی تھیں۔ بس اسی میں ان کی گزربسر ہوجاتی تھی۔

(جاری ہے)

ان دنوں میں جماعت چہارم میں تھا۔
وہ بچوں سے بہت پیار کرتی تھیں۔ مگر جب بچے انھیں تنگ کرتے تھے وہ غصہ بھی دکھایا کرتی تھیں ، لیکن ان کے غصے میں بھی شفقت ہوتی تھی۔

میں ممانی کے ہاتھ کے بنے ہوئے سموسے بہت شوق سے کھایا کرتا تھا۔ وہ ہمیں بھی پاکستان سے محبت کا درس دیا کرتی تھیں۔ ہمیں لڑائی جھگڑے سے روکا کرتی تھیں وہ تو ہمیں پودوں اور جانوروں سے بھی محبت کا درس دیا کرتی تھیں۔ کہتی تھی کہ پودے بھی جان دار ہوتے ہیں، انھیں نہ توڑا کرو۔
جانوربے زبان ہوتے ہیں، انھیں تنگ نہ کیا کرو۔ ممانی بھی ایک طرح سے ہماری استاد ہی تھیں۔ ان کی بس ایک ہی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ حج کرلیں۔ انھوں نے گھی کے ایک خالی ڈبے میں پیسے بھی جمع کررکھے تھے۔ میں نے رپوں سے بھراوہ ڈبا دیکھا تھا۔

پھر ایک دن ہم اسکول آئے تو پتا چلا کہ ممانی حج کرنے جارہی ہیں اور سارا بندوبست بھی ہوچکا ہے۔ ہمارے اساتذہ بھی ممانی کی عزت کرتے تھے۔ وہ بھی بہت خوش تھے کہ ممانی کی دلی خواہش پوری ہورہی ہے۔ ہم سب نے ممانی کو بہت مبارک باد دی۔
مجھے آج بھی وہ دن بہت اچھی طرح یاد ہے۔ ممانی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور وہ ہم سب کو بہت پیار کررہی تھیں۔
ہم بچوں کے ششماہی امتحان ختم ہوچکے تھے اور سردیوں اور عید کی چھٹیاں ملا کر پندرہ دن کی چھٹیاں شروع ہونے والے تھیں، نتیجہ بھی آچکا تھا۔
میں پاس ہوگیا تھا اور بہت خوش تھا۔ وہ ہمارا اسکول میں آخری دن تھا اور اسی دن ممانی کو بھی حج کے لیے روانہ ہونا تھا۔ ہم سب چھٹی ہوتے ہی ممانی کے پاس گئے۔ انھیں پھر سے مبارک باددی اور اپنے اپنے گھر کی طرف چل دیے۔ ممانی بھی ایک ماہ کے لیے جارہی تھیں۔

چھٹیاں کتنی بھی مل جائیں کم ہی لگتی ہیں۔ پندرہ دن جلد ہی ختم ہوگئے۔ عید کے بعد جب میں اسکول گیا تو ممانی کو اسکول ہی میں پایا۔ میں حیران رہ گیا کہ ممانی کو تو ایک مہینے کے بعد آنا تھا ، وہ اتنی جلد کیسے آگئیں میں نے ممانی کو سلام کی اور حج کی مبارک باددی۔

انھوں نے مسکرا کرمیرے سلام کا جواب دیا۔ پھر میں اپنی جماعت میں آگیا۔ اس دن آدھی چھٹی میں جب میں ممانی کے پاس سموسے لینے گیا تو پتا چلا کہ ممانی تو حج کے لیے جاہی نہیں سکیں۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ ممانی حج پر جاتے جاتے آخر رک کیوں گئیں۔
شاید ان کی طبیعت خراب ہوگئی ہو، میں نے سوچا ، لیکن میں نے ممانی سے پوچھا نہیں کہ وہ حج پر کیوں نہیں گئیں۔
دودن بعد جب ہم جماعت میں نیکی کے موضوع پر مضمون لکھ رہے تھے تو ہمارے استادنے ممانی کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہ حج پر کیوں نہ جاسکیں۔

دراصل ہمارے اسکول کے چوکیدار کی بیٹی کی شادی ہونے والی تھی۔ چوکیدار کے گھر چوری ہوگئی۔ اس نے اپنی بیٹی کی شادی کے لیے جو پیسے جمع کیے تھے وہ نہ رہے تو چوکیدار بہت پریشان رہنے لگا تھا۔ پریشانی کی وجہ سے اسے دل کا دورہ بھی پڑگیا تھا۔
پھر کیا تھا ممانی نے اپنا نوٹوں سے بھرا ہوا ڈبا چوکیدار کو دے دیاتھا، تاکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کرسکے۔ یہ سن کر ہم سب کا منھ کھلاکا کھلارہ گیا، کیوں کہ سب ہی جانتے تھے کہ حج کرنا ممانی کی سب سے بڑی خواہش تھی۔
مجھے یاد ہے، ممانی ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی تلقین کرتی تھیں۔
چوکیدار کی مدد کرکے انھوں نے عملی طور پر ثابت کردیاتھا کہ نیکی کیاہوتی ہے۔ ممانی کاکہنا تھا کہ زندگی رہی تو وہ حج بعد میں بھی کرسکتی ہیں۔ اللہ تو حج کرنے کا موقع ہر سال دیتا ہے۔ میں ایک سال بعد اسکول سے پانچویں جماعت پاس کرکے سیکنڈری اسکول میںآ گیا۔
بعد میں ایک دوست سے پتا چلا کہ ہیڈماسٹر نے اپنی کوششوں سے اتنے پیسوں کا بندوبست کردیا، جس سے ممانی حج کر لیا تھا۔ ہم کبھی کبھی ممانی سے ملنے ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ آج ممانی دنیا میں نہیں رہیں ، لیکن ان کی نیکی کی تعلیم آج بھی ہمارے دلوں میں ہے۔

Your Thoughts and Comments