Naiki Ka Asar

Naiki Ka Asar

نیکی کا اثر

صبح صبح بیکری میں داخل ہوتے ہوئے ’ ابیشے ‘ کی نظر فٹ پاتھ پر بیٹھے کم زور اور عمر رسیدہ شخص پر پڑی تو اسے بہت ترس آیا ۔ وہ اپنے والد کے ہمراہ بیکری سے ڈبل روٹی اور انڈے خریدنے آیا ہوا تھا اور۔۔۔

روبنسن سیموئیل گل:
صبح صبح بیکری میں داخل ہوتے ہوئے ’ ابیشے ‘ کی نظر فٹ پاتھ پر بیٹھے کم زور اور عمر رسیدہ شخص پر پڑی تو اسے بہت ترس آیا ۔ وہ اپنے والد کے ہمراہ بیکری سے ڈبل روٹی اور انڈے خریدنے آیا ہوا تھا اور اسکول لے جانے کے لیے بھی کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدنی تھیں ۔
ابیشے نے اپنے ابو سے کہا پاپا وہ دیکھیں بے چارے بوڑھے بابا جی جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں ، کتنے کم زور اور بھوکے ہیں ۔ اٌن کے کھانے کے لیے بھی کچھ خریدلیں ۔
ابیشے کی بات سن کر اس کے پاپا بہت خوش ہوئے ۔ رات کی باتیں ابیشے کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں ۔
جو امی جان سے اسے اور اُس کی چھوٹی بہن ’ جوآنہ ‘ کو بتائی تھیں ”بچو جب بھی ہم کوئی اچھا کام کرسکتے ہوں اور ہمارے پاس موقع بھی ہو مگر ہم پھر بھی نہ کریں تو یہ خدا کی نافرمانی اور گناہ ہے ۔

(جاری ہے)

جب کوئی نیکی کرتے ہیں تو خدا کبھی بھی ہمارا مقروض نہیں رہتا وہ ضرور اس کا اجر دیتا ہے ۔

کسی کے ساتھ بھلائی کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہم خدا کو قرض دیتے ہیں “ اس لیے وہ فوراََ ہی اس کا بدلہ دیتا ہے ․․․ اور ہاں بچو یہ بھی یاد رکھو کہ جب ہم کوئی نیکی کرتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہم نے کسی ایک کی مددکی ہے مگر خدا تعالیٰ اٌسے بہتوں کی بھلائی اور فائدے کے لیے استعمال کر لیتا ہے۔

اُس بوڑھے کو دیکھ کر جہاں ابیشے کو اُس پر ترس آیا ، وہاں یہ خیال بھی آیا کہ اگر ہم نے اس کی مدد نہ کی تو خدا ناراض ہوجائے گا ۔
تمام سوداسلف خریدنے کے بعدابیشے کے والد نے دکاندار کو ایک شیِر مال بھی دینے کو کہا ۔ تازہ شِیر مال کی مہک بڑی بھلی معلوم ہورہی تھی ۔
ابیشے کو شِیر مال تھماتے ہوئے اُس کے پاپا بولے ”لوبیٹا اب اٌن بابا جی کو آپ اپنے ہاتھ سے دے دو۔
ابیشے نے بڑی خوشی اور جوش کے ساتھ وہ شِیرمال باہر فٹ پاتھ پر بیٹھے اُس لاغر سے بوڑھے کو دیا جس کے کپڑے میلے کچیلے تھے ، بال بے تربیت انداز میں بڑھے ہوئے تھے ۔
سفید داڑھی بھی اُسی طرح سے بڑھی ہوئی تھی اور اُس کے جھریوں والے چہرے کو چھپارکھا تھا ۔ نہ جانے اس اُداس چہرے کے پیچھے اُس بوڑھے شخص نے کتنے غم ، کتنے دُکھ چھپارکھے تھے ۔ نوسالہ ابیشے نے اُسے بڑی محبت کے ساتھ شیِر مال پکڑایا ۔
اُسی دوران ساتھ والے کھوکھے سے ایک عدد چائے کا کپ بھی کوئی اُس بوڑھے بابا کو دے گیا تھا ۔ شیِرمال پکڑتے ہوئے بوڑھے کی آنکھیں خوشی اور شکرگزاری کے ساتھ جھلملانے لگیں ۔ اپنے میلے کچیلے ہاتھوں سے اُس نے ابیشے کے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا دیتے ہوئے کہا ” اللہ خوش رکھے بچے“
ابیشے ایک عجیب سی خوشی اور احساس لیے ہوئے اپنے والد کے ساتھ گھر کی طرف روانہ ہوگیا ۔
سچ ہے کہ دوسروں کی مدد کر کے اور ان کی ضرورت پوری کر کے انسان کوہمیشہ ایک عجیب خوشی اور طمانیت حاصل ہوتی ہے ۔
باباجی نے شِیرمال کا لفافہ کھولا اور پھر چاے میں بھگو بھگو کر کھانے لگا ۔اسی دوران ایک کتا بھی کھوکھے کے پاس ایک تختے کے نیچے سے آنکلا ۔
باباجی نے شیِرمال کا ایک ٹکڑا اُس کی طرف اُچھال دیا وہ بھی خوشی خوشی کھانے لگا ۔
باباجی نے بھی پیٹ بھر کر کھایا ۔چاے کی پیالی ختم ہوئی تو انھوں نے بچا ہوا شِیرمال کاٹکڑا ایک طرف رکھ دیا ۔ بالکل اٌوپر ہی بجلی کی تاروں پر ایک کوا بیٹھا موقع کا انتظار کر رہا تھا ۔
جونہی اس نے دیکھا کہ باباجی کا دھیان دوسری طرف گیا اور شِیرمال کا ٹکڑا ایک جانب پڑا ہوا ہے تو اس نے جھپٹ کروہ ٹکڑا اُٹھالیا اور یہ جاوہ جا ، نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔ باباجی کوے کی اس شرارت اور چالاکی پر مسکراکررہ گئے ۔
کوا وہ ٹکڑا چونچ میں لیے ہوئے قریب ہی ایک گھنے درخت پر جا بیٹھا اور مزے سے تازہ شِیرمال سے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے لگا ۔
وہ اپنی چونچ کی مدد سے اپنے پنجوں میں پکڑے شِیرمال کو توڑتوڑ کر کھانے میں مصروف تھا ۔
وہ جس درخت پر بیٹھا تھا وہ ایک بڑے احاطے میں واقع تھا ، جودراصل ایک بڑی ورکشاپ کا حصہ تھا ۔ اُسی درخت کے نیچے پرانی کار کاڈھانچا گزشتہ کئی سالوں سے پڑا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کار کے ڈھانچے میں بھی زندگی کے آثار موجود تھے۔

اچانک کوے کے پنجوں سے شِیرمال کا باقی ماندہ ٹکڑا چھوٹ گیا اور اُسی کار کے ڈھانچے کے قریب جاگرا ۔ کوا تیزی سے اس شاخ سے اُڑا، تاکہ اُس ٹکڑے کو واپس لے سکے ، مگر اُسی دوران کار کے اُس ڈھانچے کے نیچے سے ایک سلیٹی رنگ کی میلی کچیلی سی لاغربِلی خود کو گھسیٹتے ہوئے باہر نکلی اُس کی پچھلی دو ٹانگیں کسی حادثے کی وجہ سے بیکار ہوچکی تھیں ۔
وہ اگلی دوٹانگوں کی مدد سے ہی اپنے پچھلے حصے کو گھسیٹ گھسیٹ کر چلتی تھی اور زیادہ دور تک جانے یا اپنے لیے چوہوں کا شکار کرنے سے قاصر تھی۔ اس حالت کے باوجود اب تک زندہ تھی ، یعنی کائنات کا خالق اور مالک اسے بھی روزانہ رزق مہیا کرتا تھا ۔
بِلی کو دیکھ کر کوا گھبرا گیا اور اُس نے شِیر مال دوبارہ اٹھانے کا ارادہ ترک کرکے واپسی کی راہ لی ۔
بِلی اُس ٹکڑے کو رغبت کے ساتھ کھانے لگی اور پھر اُسی طرح اپنے پچھلے دھڑکو گھسیٹتی ہوئی واپس اُسی کار کے ڈھانچے کے نیچے جاگھسی ۔
چندہی لمحوں میں چیونیٹوں کی ایک قطار شِیر مال کے بچے ہوئے چھوٹے چھوٹے ذرات کولے کر اسی درخت کی جڑ میں اپنے بل میں داخل ہونے لگیں ۔ وہ خوش تھیں کہ صبح صبح ہی اتنی لذیذ خوراک انھیں اتنی آسانی سے مل گئی ۔
ابیشے گھر پر ناشتا کرنے کے بعد اپنے ابو کے ساتھ اسکول کی جانب رواں دواں تھا ۔
اُس ناناشتے کی میز پر ہی امی کو بتایا کہ ان کی نصیحت کے مطابق اُس نے ایک بوڑھے شخص کی مدد کی اور ایسا کرکے اسے بہت خوشی حاصل ہوئی ۔
اُس کی امی نے مسکراتے ہوئے کہا ” شاباش بیٹا یہی خوشی ہے خدا ہمیں نیکی کرنے کے بعد عطا کرتا ہے ۔
یہ خوشی پیسوں سے نہیں خریدی جاسکتی ۔“
ابیشے کو تو خوشی اس بات کی تھی کہ اٌس نے ایک بھوکے باباجی کو کھانے کے لیے کچھ دیا ، مگر اُسے اندازہ نہیں تھا کہ خدا نے نہ صرف باباجی کو ، بلکہ ایک کتے ، ایک کوے ایک معذور بِلی اور کئی چیونٹیوں کو بھی ابیشے کی اُس نیکی کی وجہ سے رزق مہیا کیا ہے ۔

سچ ہے کہ خدا ہماری کسی بھی نیکی کو ضائع نہیں جانے دیتا ۔ اس نیکی کا اثر بہت دور تک جاتا ہے ۔ ہمیں بھی اُس کا اَجر ملتا ہے اور دوسرے بھی بہت سے لوگ اور جان دار اُس سے فائدہ اُٹھالیتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments