Saat Larkiyan Aur Jadu Gar Reech

سات لڑکیاں اور جادو گر ریچھ

غربت کے مارے یہ میاں بیوی اپنا اور بچیوں کا گزر بسر بھیک مانگ کر کیا کرتے تھے۔ ایک دن فقیر نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا کھیر کھانے کا دل چاہ رہا ہے، یہ بات سن کر اسکی بیوی نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ کھیر ہم غریبوں کے نصیب میں کہاں ہے۔ فقیر اسکا جواب دیتے ہوئے بولا

منگل دسمبر

saat larkiyan aur jadu gar reech

عیشتہ الرّا ضیہ
کہانیاں سننا بچوں کا دلچسپ مشغلہ اور نا نی، دادی کا نواسے نواسیوں ، پوتے پوتیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا بہترین موقع رہتا ہے۔اس سننے سنانے کے عمل سے ہم بچوں میں اچھے اوصاف بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

زندگی جب اتنی تیز اور مصروف نہ تھی ،والدین کے پاس بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا ٹائم ہوتا تھا تب نونہالوں کی اچھی تربیت کے لئے اخلاقی کہانیاں سنانا ایک موثر ہتھیار سمجھا جاتا تھا۔مجھے آج بھی وہ خوشی کے لمحات نہیں بھولتے جب میں نانی کے پاس بیٹھ کر شوق سے شہزادوں شہزادیوں ، پریوں اور جادوگروں کی کہانیاں سنا کرتی تھی۔
جن میں سے ایک کہانی ہمیشہ میری پسندیدہ رہی اور جسے میں نے کئی ہا مرتبہ فرمائش کر کے نانی سے سنا۔

(جاری ہے)

آج وہ کہانی میں ہمارے نو نہالوں کو بھی سنانا چاہوں گی تاکہ ایک نسل سے دوسری نسل میں ہماری کہانی سننے سنانے کی روایت منتقل ہوتی رہے۔

کہانی ہے سات بہنوں کی۔ کسی گائوں میں ایک فقیر اور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ ان کی سات بیٹیاں تھیں۔ غربت کے مارے یہ میاں بیوی اپنا اور بچیوں کا گزر بسر بھیک مانگ کر کیا کرتے تھے۔ ایک دن فقیر نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا کھیر کھانے کا دل چاہ رہا ہے، یہ بات سن کر اسکی بیوی نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ کھیر ہم غریبوں کے نصیب میں کہاں ہے۔
فقیر اسکا جواب دیتے ہوئے بولا کہ ہم دودھ ،چاول اور چینی بھیک میں مانگ لیں گے پھر تم مجھے کھیر بنا کر کھلانا ،بیوی بولی کہ میاں! بھیک میں تو یہ سب اتنا نہیں مل سکے گا کہ ہماری سات بیٹیاں بھی کھاسکیں۔ فقیر گویا ہوا کہ اری پریشان کیوں ہوتی ہے؟ ہم کھیر تب بنائیں گے جب ساری لڑکیاں سو جائیں گی۔
اس طرح انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور ہم جی بھر کر کھیر کھا بھی لیں گے۔ ماں کا دل بچیوں کے لئے تڑپا لیکن دل پر پتھر رکھ کر شوہر کی بات مان لی۔ فقیر بولا ! اب سو جا کل جلدی اٹھ کر کھیر بنانے کا سامان بھیک میں مانگنا ہے ۔ فقیر فقیرنی کی ساری گفتگو انکی سب سے چھوٹی بیٹی نے چارپائی کے نیچے چھپ کر سن لی۔
ا س کا دل دکھ گیا کہ امّا ں اباّ ہمارے بغیر کھیر کھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس نے یہ ساری گفتگو اپنی باقی بہنوں کو بتائی اور کہا کہ ہم بھی کھیر کھائیں گے۔ سب سے بڑی بہن بو لی کہ ہم کیسے کھا ئیں گے؟ تو ساتویں بہن نے کہا کہ ہم کھیر بنانے کے برتن اور کھیر کا سامان چھپا لیں گے ۔
اگلے دن فقیر اور فقیرنی کھیر کا سامان مانگ کر جب گھر لائے توایک خفیہ جگہ پر سب چھپا دیا۔ اس جگہ کو چوتھے نمبر والی لڑکی نے چپکے سے دیکھ لیا۔ رات ہونے پر سب لڑکیاں سونے کا ڈرامہ کرتے ہوئے ایک ایک چیز ساتھ میں لے کر لیٹ گئیں۔
تھوڑی دیر بعد فقیر اٹھا اور اپنی بیوی کو جگایا کہ سب سو گئیں ہیں اب تم اٹھو اور میرے لئے کھیر بنائو۔ فقیرنی دبے پا ئوں آ ہستہ آ ہستہ کچن میں گئی ۔ دیا اور چولھا جلانے کہ لئے ماچس ڈھونڈنے لگی ،بہت تلاش کر نے کے بعد سب سے بڑی بیٹی جاگی اور کچن میں آ کر کہا کہ کیا ڈھونڈ رہی ہیں اماّں؟ فقیر اور فقیرنی بڑی بیٹی کو دیکھ کر گھبرا گئے۔
کہنے لگے کہ آہستہ بو لو !ہم کھیر بنا رہے ہیں تم بھی کھا لینا۔ مگر ماچس نہیں مل رہی۔ بڑی بیٹی بو لی کہ وہ تو میں نے سنبھال کر رکھ دی تھی ابھی لا کر دیتی ہوں۔ چولھا جلانے کے بعد اب دیگچی نہیں مل رہی تھی۔ اسی اثناء میں دوسرے نمبر والی لڑکی کچن میں وارد ہوئی اور گویا ہوئی کہ امیّ د یگچی میں نے سنبھال کے رکھ دی تھی،آپ لوگ کیا بنا رہے ہیں؟ فقیر نے اس سے کہا کہ خاموشی سے بیٹھ جائو، ہم کھیر بنا رہے ہیں تمہیں بھی چکھا دیں گے۔
اب ڈوئی تلاش کرنے کی باری آئی جسے تیسرے نمبر والی لڑکی لے کر وارد ہوئی۔ لڑکیوں کی بڑھتی تعداد دیکھ کر فقیر کے دل میں ناگواری پیدا ہو نے لگی۔ایسے کرتے کرتے دودھ ، چینی، چاول، پلیٹ لیکر سب لڑکیاں ہی کھیر کے گرد گھیرا بنا کر بیٹھ گئیں۔
یوں سب کے حصے میں تھوڑی تھوڑی کھیر آئی۔ کم مقدار میں کھیر ملنے پر بھی بچیاں خوش ہوئیں اور اپنے اپنے بستروں میں سونے کے لئے لیٹ گئیں۔ ادھر فقیر غصے میں بھناّیا بیٹھا تھا۔اس نے سوچ لیا کہ اب وہ اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنگل میں چھوڑ آئے گا۔
بچیوں کی ماں بہت بلبلائی کہ وہ ایساظلم نہ کرے مگر فقیر پر جنون سوار تھا۔ اگلے دن صبح ہوتے ہی اس نے بچیوں سے کہا کہ تیار ہو جائیں آج ان کے ماموں کی شادی ہے ہم نے وہاں جانا ہے۔ لڑکیاں خوشی خوشی تیار ہونے لگیں کہ وہ ماموں کی شادی پر جا رہی ہیں۔
بیل گاڑی پر سب سوار ہو گئے۔( اس زمانے میں لوگ دور دراز جانے کے لئے بیل گاڑی پر سفر کرتے تھے)۔راستے میں ایک گھنا جنگل آیا ،فقیر نے بچیوں سے کہا کہ ماموں کی شادی پر دینے والے تحائف تو ہم گھر میں بھول آئیں ہیں ، تم لوگ یہاںٹھہرو میں اور تمہاری ماں گھر سے تحایف لیکر آتے ہیں،سب سے چھوٹی بیٹی نے گھبرا کے کہا کہ ابا ّ جلدی آنا ، ہمیں ڈر لگے گا، فقیر بولا کہ میری بیٹی پریشان نہ ہو۔
میں ہم سورج ڈوبنے سے پہلے واپس آ جائیں گے۔ یہ کہہ کر دونوں میاں بیوی واپس ہو لئے۔ ادھر شام ڈھلنے لگی مگر اماں ابا کا دور دور تک کوئی پتہ نہ تھا۔ سورج ڈوبنے کو آیا ،جنگل سے مختلف جانوروں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اندھیرا چھانے لگا تو چوتھی بہن نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اباّ ہمیں یہاں چھوڑ گئے ہیں۔
سب سے چھوٹی بہن رونے لگی کہ اب ہمیں جنگلی جانور کھا جا ئیں گے۔اچانک دور سے کوئی روشنی ٹمٹماتی ہوئی دکھائی دی،تیسرے نمبر والی بہن نے کہا کہ وہ دیکھو وہاں کیا ہے؟ لگتا ہے وہاں کسی کا گھر ہے، ہم ان کے پاس جا تے ہیں اور ان سے پناہ مانگتے ہیں۔
شاید وہ ہماری مدد کر دیں۔

وہ ایک گول جھونپڑی تھی مگر قد میں کافی بڑی تھی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا مگر کھٹکھٹانے پر کوئی باہر نہ آیا۔ پھر چھوٹی بہن نے ہمت کی اور گھر میں داخل ہو کر آواز لگائی : کوئی ہے؟کسی کا کوئی جواب نہ آیا۔
گھر میں کو ئی نہ تھا۔ سب بہنیں گھر میں داخل ہو گئیں۔ یہ ایک شاندار جھونپڑی تھی، جہاں بڑے بڑے مرتبان چینی ،چاول اور دودھ سے بھرے تھے۔لڑکیاں اتنی وافر مقدار میںچاول، چینی دودھ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ صبح سے بھوکی تھیں اور کھیر ان کی من پسندیدہ ڈش تھی چنانچہ لڑکیوں نے کھیر بنانے کی تیاری پکڑی اور کھیر بنا کر چاٹ چاٹ کر کھائی اور آرام کرنے کے لئے ایک کمرے میں نیم دراز ہو گئیں۔
اتنے میں ایک دراز قامت سیاہ ریچھ جونپڑی کے گول دروازے سے داخل ہوا۔ یہ جھونپڑی اس ریچھ کی تھی۔ ریچھ کو بھوک لگ رہی تھی چنانچہ وہ اپنی من پسندیدہ خوراک کھیر بنانے کے لئے کچن کی طرف گیا، وہاں دیگچی میں پہلے سے ہی بقیہ کھیر موجود تھی جسے سونگھ کر ریچھ کو انسان کی خوشبو آنے لگی۔
وہ سمجھ گیا کہ اس کے گھر میں کو ئی انسان آیا ہے، چنانچہ وہ اپنے گھر کی تلاشی لینے لگا، ریچھ کے غرانے سے لڑکیوں کی آنکھ کھل گئی ساتھ ہی ساتھ ان پر یہ راز بھی عیاں ہوا کے وہ جس کے گھر میں ہیں وہ ایک ریچھ کا گھر ہے، بس پھر کیا تھا، لڑکیوں کے ہاتھ پائوں خوف کے مارے پھول گئے ۔
چھوٹی بہن چالاق تھی اس نے ایک ترکیب سو چی اور ایک بڑی کڑا ہی میں ڈھیر سارا تیل ڈال کر تیز آنچ میں چولھا جلا دیا۔ اتنے میں ریچھ کچن میں داخل ہوا اور چھوٹی بہن کی طرف لپکا۔ چھوٹی لڑکی چالاکی سے کام لیتے ہوئے تیزی سے کڑاہی کہ سامنے سے ہٹی اور ریچھ سیدھے اس کھولتے ہوئے تیل میں جا گرا مگر یہ کیا؟ لڑکیاں یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ ریچھ تیل میں جلنے سے سونے کا بن گیا۔
اصل میں وہ کوئی معمولی ریچھ نہ تھا بلکہ ایک جادوگر تھا۔اب کیا تھا، لڑکیوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا، وہ بیٹھے بٹھائے امیر ہو گئیں۔اور جنگل کی شہزادیاں بن گئیں۔ پیارے بچو اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملا کہ ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
ان لڑکیوں کو اللہ پر بھروسہ تھا چنانچہ انھیں فقیری سے بجات ملی۔ جبکہ ان کے باپ نے غربت سے تنگ آ کر اللہ سے اچھے کی امید چھوڑ دی اور فقیری اس کا مقدر رہا، اس کہانی سے ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ ضروری نہیں کہ ہمیں جو غلط نظر آئے وہ ویسا ہی غلط ہو۔ بلکہ بعض اوقات پس پردہ ہمارے لئے کچھ بہت ہی اچھا لکھا ہوتا ہے جس کا علم ہمیں آگے چل کر معلوم ہوتا ہے۔

Your Thoughts and Comments