Soha Shehzadi - Article No. 1739

سوہا شہزادی

شہزادی سوہا نے کہا مجھے ایک گلاب کا پھول چاہئے ان کا باپ کوئی نہ کوئی بات بھول جاتا تھا اس لئے صرف شہزادی سوہا کے لئے پھول لے آیا، باقی چیزیں وہ بھول چکا تھا۔

پیر 8 جون 2020

Soha shehzadi
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک نیک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔وہ اپنی رعایا کے ساتھ بہت نیک سلوک کرتا تھا، اس کی چار بیٹیاں تھیں ،جن میں سے ایک شہزادی بہت حسین تھی ،جس کی خوبصورتی پر باقی شہزادیاں نفرت کرتی تھیں۔

اس شہزادی کا نام شہزادی سوہا تھا۔ ایک دفعہ ان کا باپ کسی کام کی غرض سے بیرون ملک گیا ،اس نے اپنی ساری بیٹیوں سے ان کی خواہشات پوچھیں۔ ان تین بہنوں نے قیمتی زیورات لانے کو کہا جب بادشاہ نے چوتھی بیٹی سے پوچھا کہ اگر تمہیں کسی چیز کی ضرورت ہوتو مجھے بتادو۔

شہزادی سوہا نے کہا مجھے ایک گلاب کا پھول چاہئے ان کا باپ کوئی نہ کوئی بات بھول جاتا تھا اس لئے صرف شہزادی سوہا کے لئے پھول لے آیا، باقی چیزیں وہ بھول چکا تھا۔ جب وہ گھر آیا تو شہزادیاں دروازے پر کھڑی اپنے باپ کا انتظار کر رہی تھیں ،جب ان کا باپ آیا تو صرف ایک پھول کے علاوہ اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی ۔

(جاری ہے)

شہزادیوں نے اپنے باپ کو برا بھلا کہہ کر باپ کی نافرمانی کی ۔شہزادی سوہا کمرے میں جاکر رونے لگی ۔اس کا باپ کمرے میں آیا اس کا پھول اسے دے دیا۔ بادشاہ نے کہا ”دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز والدین کی خدمت ہے ۔چنانچہ جب بادشاہ دوسری مرتبہ بیرون ملک گیا تو سب نے اپنی اپنی چیزیں لانے کے لئے کہا مگر شہزای سوہا اس پر خاموش رہی ،اس نے سوچا کہ اس بار کوئی ایسی بات نہ ہو کہ جس سے میرے باپ کا دل دکھے تو بادشاہ نے اپنی بیٹیوں کے لئے زیورات لئے۔

راستے میں ایک جنگل تھا ،بادشاہ اس جنگل میں سے گزر رہا تھا تو اس نے درخت پر بیٹھے ایک چمگادڑ کو دیکھا ۔وہ چمگادڑ اصل میں ایک خوف ناک جن تھا۔اس نے بادشاہ کو قید کر لیا ۔ایک شہزادہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا، اس نے اپنی تیز دھار تلوار نکالی اور چمگادڑ کی گردن پر دے ماری ،چمگادڑ اسی وقت مر گیا۔

شہزادہ بادشاہ کو محل لے گیا اور ان کی بیٹیوں کو سارا قصہ سنا دیا ۔شہزادیاں اپنے باپ کے پاس آئیں اور اپنے باپ سے نافرمانی پر معافی مانگی۔ بادشاہ نے اس وقت اپنی ساری بیٹیوں میں سے سوہا پر فخر محسوس کیا اور اپنی ساری بیٹیوں کو گلے لگا لیا، سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔
دیکھا بچو!والدین کا ادب کرنے سے برکت ہوتی ہے ہمیں بھی چاہئے کہ شہزادی سوہا کی طرح اپنے والدین کی خدمت کریں اور ایسی بات زبان پر نہ لائیں جس سے والدین کا دل دکھے۔

مزید اخلاقی کہانیاں

Kahani Quaid E Azam Ki

کہانی قائداعظم رحمتہ اللہ کی

Kahani Quaid E Azam Ki

Sainkaron Saal Baad

سینکڑوں سال بعد

Sainkaron Saal Baad

School Ka Pehla Din

اسکول میں پہلا دن

School Ka Pehla Din

Bewaqoof Daku Or Aqalmand Mochi

بیو قوف ڈاکو اور عقلمند موچی

Bewaqoof Daku Or Aqalmand Mochi

Gumnaam Dost

گمنام دوست

Gumnaam Dost

3 Lakh Ki Chori

تین لاکھ کی چوری

3 Lakh Ki Chori

Dou Chuhey

دو چوہے

Dou Chuhey

Sifarish

سفارش

Sifarish

Ju Hua Acha Hua

جو ہوا اچھا ہوا

Ju Hua Acha Hua

Maimnay Ka Bhai

میمنے کا بھائی

Maimnay Ka Bhai

Darwaish Aur Is Ka Chaila

درویش اور اس کا چیلا

Darwaish Aur Is Ka Chaila

Neki Ka Rasta

نیکی کا راستہ!

Neki Ka Rasta

Your Thoughts and Comments