Youm E Yakjehti - Article No. 1651

یوم یکجہتی

کشمیری بچے آزادی چاہتے ہیں

ہفتہ فروری

Youm e Yakjehti
سردار سر فراز ڈوگر
ہر سال 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر بڑے جوش اور جذبے سے منایا جاتاہے اس سلسلے میں سرکاری وغیر سرکاری سکولوں میں تقاریب کا اہتمام کیا جاتاہے،بچے کشمیر کے حوالے سے تقاریر کرتے ہیں اور اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ وقت آنے پر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے کیونکہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔
پاکستانی اپنی شہ رگ کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔کسی بھی قوم کا نو جوان طبقہ جب اپنے آپ کو مظلوم ومحکوم پاتاہے تو قدرتی طور پر اس کے اندر آزاد ہونے کا جوش اور جذبہ انگڑائی لیتاہے کیونکہ ایک طرف تو غلامی کا احساس ،جبکہ دوسری طرف قومی جذبہ کی حرارت اسے تڑپاتی ہے لہٰذا یہی تڑپ اسے متحرک کرکے ایک بہترین حریت پسند بنا دیتی ہے اور وہ اپنی قوم کی آزادی حاصل کرنے کے لئے ہر وقت ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہتاہے اس معاملہ میں اگر بچوں یا نوجوان طبقہ کو تاریخ سے روشناس یا آگاہ نہ کرایا جائے تو قوم کے یہ بچے اور نوجوان نسل علمی طور پر نہ تو محب وطن بن سکتے ہیں اور نہ ہی قومی جذبات ان کے اندر پیدا ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)


بچوں اور نوجوانوں کی تربیت اور آگاہی کے لئے ضروری ہے کہ انہیں نہ صرف اپنی تاریخ بلکہ تمام تر تواریخ کا درس دینا چاہیے ان کے لئے یہ آگاہی اس لئے ازحد ضروری ہوتی ہے تاکہ وہ ملک وملت کے لئے ایک تنآور اور پھل دار درخت کی صورت اختیار کر پائیں ،وہ معاشرے کے مفید اور کار آمد شہری کہلائیں،ملک وقوم ان سے فائدہ حاصل کر سکیں۔
کچھ ایسی یہ صورتحال اس وقت کشمیر کے اندر دکھائی دیتی ہے ہمارے کشمیری بہن بھائی اور بڑے بزرگ بھی آزادی چاہتے ہیں،وہ اپنا حق مانگتے ہیں لیکن انہیں ان کے جائزحقوق سے محروم رکھا جارہا ہے جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے،حکمران نے کشمیر کا نعرہ تو لگایا اور یقینا کوشش بھی کی ہو گی لیکن کوئی بھی حکمران کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کروا سکا ،ہمارے کشمیری بھائی بچے اور بوڑھے اپنی آزادی حاصل کرنے کے لئے اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں اور دیتے رہیں گے ،آئے روز ان پر ظلم کیا جاتاہے جس وجہ سے کشمیری قوم اور بالخصوص نو جوان نسل کے اندر ایک احساس محرومی پائی جاتی ہے جسے احساس محکومی کہا جائے تو زیادہ بہتر ہو گا۔

بھارت غاصب بن کر ایک کروڑ سے زائد مسلمانان کشمیر کو محکوم بنا کر ان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہوئے ہے۔مظلوم عورتوں اور بچوں تک کو اپنی وحشت کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔نہایت بوڑھے اور بزرگ افراد پر بھی ظلم وجبر سے باز نہیں آتا اور نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ پورے کشمیر میں دندناتا پھرتاہے۔
عورتوں اور بچوں پر ظلم کرنا،انہیں تشدد کا نشانہ بنانا وہ اپنی دلیری اور بہادری سمجھتاہے کئی ایک واقعات ایسے بھی سامنے آئے کہ ان بھارتی درندوں نے معصوم بچوں کو گولیوں سے بھون ڈالا، نوجوانوں کو اندھا کر دیا اور کئی ایسے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ کمسن بچوں کو سنگین جرائم میں ملوث کرکے انہیں عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ان میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان پر کون سا جرم عائد کیا گیا ہے۔

یہاں تک کہ چند برس قبل ایک دو سال کی بچی پر مقدمہ درج تھا پولیس رپورٹ کے مطابق اس بچی نے پولیس پر اس وقت حملہ کیا تھا جب پولیس اس کے والدکو گرفتار کرنے آئی تھی رپورٹ پر یہ لکھا گیا ہے کہ اس نے نہ صرف پولیس کو مارا بلکہ پولیس سے اپنے والد کو رہا کروالیا اس سے بڑا اور جھوٹ کیا ہو گا کیا دو سال کی بچی یہ کام کر سکتی ہے؟بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں واقع بچوں کی طبی نگہداشت کیلئے واحد ہسپتال ہے جہاں اب تک سینکڑوں بچے موت کی آغوش میں چلے گئے ہیں۔
جہاں ہسپتال کا یہ عالم ہے وہاں عام بچے کو اس طرح زندگی گزار رہے ہوں گے ان پر کیا بیت رہی ہو گی۔صرف یہی نہیں اب تک کئی بچوں اور عورتوں کو زندہ جلا ڈالا۔
بچوں کے سامنے ان کی ماؤں بہنوں پر ایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جسے سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
انہیں ذہنی وجسمانی تکلیفیں دی گئیں مگر آسمانوں کو چیرتی ہوئی ان کی دلخراش صدائیں اور آہ وبکا بھی ان بھارتی ظالموں اور درندوں کے دلوں میں رحم پیدا نہ کر سکی۔ان سب مظالم کے باوجود کشمیر عورتیں، نوجوان ،بوڑھے اور بچے اپنے ایمان کی روشنی اور وادی کی حفاظت میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یقینا دیتے رہیں گے۔

ان کے حوصلے پہاڑوں سے بلند اور چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہیں کشمیر کا بچہ بچہ آزادی چاہتا ہے اور آزادی کے نعرے لگاتا ان بھارتی درندوں کے سامنے میدان میں نکل پڑتاہے۔ان کے اندر آزادی کی تڑپ نے مرنے کا خوف نکال دیا۔وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں مگر غلامی کے ساتھ نہیں۔
وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں مگر بزدلی کے ساتھ نہیں،وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں مگر بے حمیتی کے ساتھ نہیں۔وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں مگر محکومی کے ساتھ نہیں وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں مگر بے بسی کے ساتھ نہیں ہاں!وہ سب زندہ رہنا چاہتے ہیں مگر وقار کے ساتھ عزت کے ساتھ،آزادی کے ساتھ ،شان کے ساتھ،ہمت کے ساتھ،غیرت کے ساتھ جوایک زندہ قوم کا حق ہے اور زندہ قومیں ایسی ہی ہوا کرتی ہیں۔
آج تمام کشمیری بھائی،بہنیں، بوڑھے،جوان اور بچے ہندو بنیے اور بھارت فوج کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں اور اپنا حق مانگ رہے ہیں۔آزادی کا حق جسے کافروں نے جبراً چھین رکھا ہے اور وہ وقت بھی اس وقت زیادہ دور نہیں جب کشمیری نو جوان اور کشمیر کا بچہ بچہ اپنا آزادی کا یہ حق بھارت سے چھین لے گا اور کشمیر کی یہ خوبصورت اور حسین وادی اپنے تمام تر حسن کے ساتھ آزاد ہواؤں اور فضاؤں میں مہک اٹھے گی ۔انشاء اللہ

مزید اخلاقی کہانیاں

Maila Aur Bail

میلا اور بیل

Maila Aur Bail

Shair Ya Bhair

شیر یا بھیڑ

Shair Ya Bhair

Sultan Ka Adal

سلطان کا عدل

Sultan Ka Adal

Fuzool Kharch Ka Hashar

فضول خرچ کا حشر

Fuzool Kharch Ka Hashar

Sheer Ki Badshahat

شیر کی بادشاہت

Sheer Ki Badshahat

Siana Bhulakkar

سیانا بھلکّڑ

Siana Bhulakkar

Makkar Pari

مکّار پری (پہلی قسط)تحریر: مختار احمد

Makkar Pari

Darzi Aur Sipahi

درزی اور سپاہی

Darzi Aur Sipahi

Bara Nuqsan

بڑا نقصان

Bara Nuqsan

Hum Aik Hy

ہم ایک ہیں!

Hum Aik Hy

Sohbat Ka Asaar

صحبت کا اثر

Sohbat Ka Asaar

Ahmad Ka Ghora

احمد کا گھوڑا

Ahmad Ka Ghora

Your Thoughts and Comments