Mere Muhafiz

Mere Muhafiz

میرے محافظ

میں پاکستان ہوں۔ میں چھے ستمبر 1965 ء کی اس صبح کو دیکھتا ہوں جب اسلام کے مخالفوں نے مجھے ختم کرنے کی سازش کا آغاز کیا۔ اس موقعے پر میں نے ان شہیدوں کو کیسے بھول سکتا ہوں، جو میری حفاظت کی خاطر اپنی جانوں پر کھیل گئے۔ مجھے نشان حیدر پانے والے شہید آج بھی یاد ہیں اور ہمیشہ یاد رہیں گے ۔

شیخ عبدالحمید عابد :
میں پاکستان ہوں۔ میں چھے ستمبر 1965 ء کی اس صبح کو دیکھتا ہوں جب اسلام کے مخالفوں نے مجھے ختم کرنے کی سازش کا آغاز کیا۔ اس موقعے پر میں نے ان شہیدوں کو کیسے بھول سکتا ہوں، جو میری حفاظت کی خاطر اپنی جانوں پر کھیل گئے۔
مجھے نشان حیدر پانے والے شہید آج بھی یاد ہیں اور ہمیشہ یاد رہیں گے ۔
نشان حید اسے دیاجاتا ہے۔ جواسلام کی سربلندی اور ملک وقوم کی حفاظت کی خاطر اپنی جان قربان کر دیتا ہے۔ میں ہمیشہ ان شہیدوں اور غازیوں کی تعریف کرتا رہوں گا، جنھوں نے میری یعنی پاکستان کی حفاظت کا حق ادا کردیا ہے۔
میں ہی نہیں پوری قوم کو ان روشن چراغوں پر فخر رہے گا۔
ان میں سب سے پہلے کیپٹن محمد سرور شہید ہیں ، جو 23 جولائی 1948 ء کو کشمیر کے محاذ پرشہید ہوئے۔

(جاری ہے)

کیپٹن محمد سرور شہید 1910 ء میں ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوڑی میں پیدا ہوئے ۔


میجر محمد طفیل شہید دوسرے فوجی ہیں، جنھیں نشان حیدر سے نوازا گیا۔ سات اگست 1958ء کو لکشمی پور کے محاذ پر وطن کادفاع کرتے ہوئے شہید ہوگئے ۔
تیسر نشان حید میجرراجاعزیز بھٹی کودیا گیا۔ ان کاتعلق گجرات کے چھوٹے سے گاؤں لاریاں سے تھا۔
میجر عزیز بھٹی شہید 1965 ء کی جنگ میں فوجیوں کی کمان کررہے تھے۔ دشمن ٹینکوں اورتوپوں سے بے پناہ آگ برسارہا تھا۔ میجر عزیز بھٹی اپنی نیند اور سکون کی پرواکیے بغیر مسلسل کئی دنوں تک دشمن کے حملوں کا تابڑتوڑ جواب دیتے رہے، اسی دوران 9اور10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن کی فائرنگ سے آپ موقعے پرشہید ہوگئے۔

میجر محمد اکرم شہید، میجر شریف شہید، سوار محمد حسین شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید میرے وہ بہادر فوجی ہیں، جنھوں نے دسمبر 1971ء میں میردفاع کرتے ہوئے اپنی جانوں کی قربانی دی اور بہادری کا سب سے بڑا اعزاز نشان حیدر حاصل کیا۔
جب کہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید نے اپنی زندگی داؤ پر لگاکر اپناہوائی جہاز دشمن کے ملک تک نہ جانے دیا اور شہادت کا درجہ پاکر نشان حیدر حاصل کیا۔
کیپٹن گل شیرخاں اور حوالدار لالک جان شہید بھی بیباک اورنڈرسپاہی تھے۔
انھوں نے بہادری اور دلیری سے اپنے فرائض انجام دینے میں جسم وجاں کی بازی لگادی ۔
مجھے ستمبر 1965ء کی سترہ روزہ جنگ کایک ایک دن یاد ہے ۔ میری یادوں میں لاہور کا محاذ بھی ہے۔ میں سیالکوٹ کے معرکے کو بھی دیکھ رہاتھا۔ میری نگاہیں چونڈہ کے مقام پر لڑنے والے ان مجاہدوں کو بھی دیکھ رہی تھیں، جو اپنے سینوں پر ٹینک شکن بم باندھے دشمن کے ٹینکوں تلے اپنی جان کے نذرانے دے رہے تھے۔
میں نے سرگودھا کے ان شاہینوں کی پرواز کی گرج بھی سنی تھی، جنھوں نے مادروطن کی حفاظت کا ایسا حق اداکیا جوتاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا گیا۔میری نظریں بلڈٹینکوں کے سامنے لگی ہوئی لمبی قطاروں کو بھی دیکھ رہی تھی، جن میں سے ہرایک کہہ رہا تھا کہ ہمارے خون کاآخری قطرہ اسلام کے مجاہدوں کو دے دیاجائے ۔

اس جنگ میں میرے محافظوں نے جس طرح میری حفاظت کی اس کی یاد ہمیشہ میرے دل میں رہے گی چھے ستمبر ے دن کوآج بھی قوم نے فراموش نہیں کیا۔ آج بھی ہرسال یہ دن پورے جوش وخروش سے منایاجاتا ہے اور ان شہیدوں ، غازیوں کو خراج تحسین پیش کیاجاتا ہے، جنھوں نے میری یعنی پاکستان کی حفاظت کی ۔ میں ہمیشہ اپنے ان بہادروں پر فخر کرتا رہوں گا۔

Your Thoughts and Comments