Mere Waalid

Mere Waalid

میرے والد

میرے والد گرامی محمد عباس العزم شاعر،ادیب ہونے کے علاوہ تعلیم کے شعبے کی ممتاز شخصیت تھے۔وہ وعلمی وادبی حلقوں میں عباس العزم کے نام سے معروف تھے۔

قرة العین عباس العزم:
میرے والد گرامی محمد عباس العزم شاعر،ادیب ہونے کے علاوہ تعلیم کے شعبے کی ممتاز شخصیت تھے۔وہ وعلمی وادبی حلقوں میں عباس العزم کے نام سے معروف تھے۔ بچوں کے ادب کی بھی ایک جانی پہنچنی شخصیت تھے۔
میرے والد ایک ایسی شخصیت کے مالک تھے جن کی نگاہ زندگی کے ہر پہلو پر رہتی تھی۔
”علم“ ان کی زندگی کاایک خاص مقصد تھا۔علم کے حصول اور اُسے دوسروں تک پہنچانے کے لیے وہ ہمیشہ سب سے آگے رہے۔انھوں نے اپنی ساری زندگی پڑھنے اور پڑھانے میں گزاری۔
ان کے نزدیک دنیا میں سب سے بڑی دولت علم ہی کی دولت تھی۔علمی تحقیق چاہے وہ قرآن پاک کے بارے میں ہویاتاریخ سے متعلق ہویاپھر الفاظ کی بنیاد کی تلاش ہو۔وہ مسلسل کھوج میں لگے رہتے تھے۔

(جاری ہے)


میرے والد عباس العزم صاحب نے بچوں کے لیے بہت پیاری پاری نظمیں لکھیں۔

جن میں بہت خوبصورتی سے بچوں کے لیے کوئی نہ کوئی نصیحت بھی کرتے تھے۔ اپنے طالب علموں سے وہ بہت محبت کرتے تھے۔”آوازمعلم“ نوجوانوں کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے، جس میں بہت سادہ اور آسان الفاظ میں انھوں نے زندگی کے ہر پہلو پر پڑھنے والوں کوسیدھی اور بہترین راہ دکھائی ہے۔

آج یہ چند سطریں تحریر کرتے ہوئے ان کی شفیق ومہربان شخصیت میری نگاہوں میں گھوم رہی ہے۔ میرے والد صاحب کی شخصیت نہایت پُروقاار اور بہت رُعب ودبدبے والی تھی۔ انھوں نے اپنی زندگی اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے تحت گزاری جن میں وقت کی پابندی، سچائی،ایمان داری اور لوگوں کے ساتھ پُرخلوص اور بہترین تعلقات بہت اہم تھے۔
ان کے تمام دوست احباب ان کوآج بھی نہایت اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں۔
مجھے اپنے والد کی بے شمار خوبیوں اور علم وادب کے لیے ان کی خدمات پر بہت فخر ہے۔ان کی باتیں ،ان کے الفاظ ہرقدم پرمیری اور میرے بچوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔
آج ان سے بچھڑنے کے بعد ان کے لیے بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں، مگر اپنے والد کی طرح الفاظ کوخوب صورتی سے ترتیب دینا مجھے نہیں آتا۔لہٰذا سادہ الفاظ میں فقط اتناہی کہوں گی کہ’ہم سب آپ کوبہت یاد کرتے ہیں، آپ پر فخر کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کواپنے جوارحمت میں جگہ دے اور جنت الفردوس اعلامقام عطاکرے۔ (آمین)

Your Thoughts and Comments