Dulha Bazar

دولہا بازار

ہفتہ 14 جنوری 2023

ڈاکٹر محمد یونس بٹ
گھریلو سجاوٹ کی چیزوں میں سے وہ جو عورتوں کو سب سے زیادہ بھاتی ہے‘دولہا کہلاتی ہے۔پہلے تو صرف دولہا بے زار ہی ہوتا تھا اب تو دولہا بازار بھی ہونے لگے۔انڈیا کے صوبہ بہار میں بہار کے جاتے ہی دولہے آنے لگتے ہیں اور جب جون میں جون بدلتی ہے تو دولہا بازار سج جاتا ہے۔

جس میں سرخ رنگ کی پگڑی اوڑھے دولہے قطار اندر قطار بیٹھے ہوتے ہیں تاکہ خریداروں کو پہچاننے میں آسانی ہو۔اس بار یہاں ڈاکٹر اور انجینئر دولہوں کے ریٹ 2 سے 4 لاکھ فی دولہا رہے جبکہ گریجویٹ دولہے 50 ہزار سے ایک لاکھ تک میں بکے۔البتہ بے روزگار دولہوں کا مندہ رہا۔پانچ پانچ ہزار میں بھی کسی نے نہ اُٹھائے آپ سمجھتے ہوں گے دولہا بازار میں شوہر بکتے ہیں۔

(جاری ہے)


”جی نہیں!کسی شوہر کو بھلا کون خریدے گا؟سب کنوارے کے دام لگاتے ہیں۔یہاں دولہوں کی بڑی ورائٹی ہوتی ہے۔ایک محترمہ دولہا خریدنے آئیں اور کہا ”مجھے ایسا دولہا چاہئے جو گانا بھی گا سکے‘کبھی کبھی رقص بھی دکھائے‘رومانی باتیں کرے‘جب کہوں تب بولے‘باہر جاؤں تو بچوں کا دل بہلائے‘ممی آئیں تو انہیں بھی خوش رکھے۔“دکاندار نے یہ سن کر کہا‘”محترمہ!آپ اگلی دکان پر چلی جائیں‘ٹی وی وہاں بکتے ہیں۔


یہ دولہے وزن کے حساب سے نہیں بیچے جاتے ورنہ یہ ہو تاکہ کوئی 80 کلو کا دولہا خریدنے آتا اور چالیس چالیس کلو کے دو خرید کر لوٹتا بلکہ یہ عدداً بیچے جاتے ہیں۔عدداً سے یاد آیا ایک لاہوری تربوز بیچ رہا تھا۔ایک شاعر نے اس سے پوچھا‘”عدداً بیچتے ہو یا وزناً۔“تو وہ بولا”نہیں حضور!تربوز بیچتا ہوں۔“یہ ممکن ہے کہ لوگ ادھار دولہے خریدنے آنے لگیں یا قسطوں پر لینا چاہیں۔


دولہا بازار میں سیاستدان دولہوں کی بھی بہت مانگ رہی جس کی وجہ ایک خاتون نے یہ بتائی کہ سیاستدان کی بیوہ کی ہمارے معاشرے میں بڑی عزت ہوتی ہے۔البتہ وکیل دولہوں کا مندہ رہا کہ خواتین کہتی ہیں پھر ان سے طلاق لینے میں بڑی دشواری پیش آتی ہے۔ایک محترمہ کو ایمرجنسی دولہا چاہیے تھا‘سو اس نے پولیس والے کو پسند کر لیا اور کہا‘”اس پتے پر پہنچو۔

“وہ اس پتے پر جب پہنچا اور پوچھا‘” فلاں محترمہ سے ملنا ہے؟“گھر والوں نے کہا ”وہ تو تین ماہ ہوئے یہاں سے چلی گئی ہے۔“تو وہ غصے سے بولا‘”عجیب لوگ ہیں‘پہلے ایمرجنسی کہہ کر بلاتے ہیں اور پھر مکان بدل لیتے ہیں۔“
خود کلامی کرنے والے دولہے بھی ناپسندیدہ ٹھہرے حالانکہ ہر خاوند خود کلامی کرتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وہ سمجھتا ہے بیوی اس کی بات سن رہی ہے۔

یہاں اگر کوئی لڑکی کہے کہ مجھے دبلا پتلا اور غریب دولہا چاہئے تو دکاندار کہے گا”آپ جس کو مرضی خرید لیں‘شادی کے بعد خود ہی ایسا ہو جائے گا۔“ایک بار ایک محترمہ نے دکاندار سے کہا”آپ مجھے دانشور‘امیر اور مجھ پر جان چھڑکنے والا دولہا دکھائیں“تو دکاندار نے کہا”آپ تشریف رکھیں‘میں ابھی تینوں دکھاتا ہوں۔“
عورت کی آدھی عمر اپنی پسند کو دولہا بنانے میں گزرتی ہے اور باقی آدھی اپنے دولہے کو پسند بنانے میں۔

اس بازار میں ایک مستقل آنے والی خاتون سے کسی نے پوچھا”آپ نے کبھی دولہا نہیں لیا‘وجہ؟“ تو اس نے کہا”ایک آئیڈیل دولہے کی تلاش میں ساری عمر خوشگوار تصورات میں گزاری جا سکتی ہے لیکن برے دولہے کے ساتھ ایک بھی لمحہ گزارنا اذیت ناک ہوتا ہے“ونسٹن چرچل کو ایک تقریب میں ایک خاتون نے کہا”اگر آپ میرے دولہا ہوتے میں آپ کو زہر کھلا دیتی“ تو ونسٹن چرچل نے کہا”اگر آپ میری دلہن ہوتیں تو میں خود ہی زہر کھا لیتا۔

“ہمارے ہاں دلہنوں کی تعریف یہ ہوتی ہے کہ ہرنی جیسی آنکھیں‘چیتے سی کمر‘مورنی کی چال‘سیب جیسے گال اور سرو قد‘گویا کوئی ایک بھی انسانوں والی خوبی ان میں نہیں ہوتی۔ہو سکتا ہے اب انڈیا میں دولہوں کے کوائف کے ساتھ وصائف بھی یوں درج ہوں:”سگھڑ‘امور خانہ داری اور بردباری میں ماہر‘نقل و حمل کے لئے مفید یہاں نقل اور حمل سے مراد وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔

“ہو سکتا ہے ساتھ شادی کا تجربہ بھی درج ہو‘تاکہ والدین اپنی بچی تجربہ کار ہاتھوں میں دیں۔دلہنوں کی عمر کی طرح دولہوں کی عمر جاننا بھی آسان نہیں۔کہتے ہیں ماہرین نے ایک کمپیوٹر ایجاد کیا جو ہر شخص کی عمر بتا دیتا۔ایک عورت نے آ کر بٹن دبایا۔آواز آئی ”کیا آپ عورت ہیں؟“ عورت نے کہا‘ ”ہاں۔“ تو دوسری آواز آئی‘ ”پھر آپ اکیس سال کی ہیں؟“یوں بھی اگر بیس سال کی عمر میں شادی ہو تو دو سال بعد اگر وہ دلہن ہے تو اٹھارہ سال کی ہو گی اور اگر دولہا ہے تو بتیس سال کا۔


خریدتے وقت ان دولہوں سے کوئی سوال جواب نہیں کیا جاتا کیونکہ خاوند نے کونسا اتنا بولنا ہوتا ہے۔یہاں تک کہ ہمارے ایک اداکاری کے شوقین دوست کو ٹی وی پروڈیوسر نے کہا‘”کل ٹی وی سٹیشن آ جانا‘ایک خاوند کا رول ہے“تو اس نے کہا ”سوری“ میں سائلنٹ رول نہیں کروں گا۔“
اس سال دولہا بازار میں بہت سے دولہے بکنے سے بچ رہے۔ہو سکتا ہے ان پرانے دولہوں کا اسٹاک ختم کرنے کے لئے دولہا کلیرنس سیل بھی لگانا پڑے۔جیسے ایک ڈاکٹر نے سیل گائی کہ جو تین مریضوں کا اکٹھے آپریشن کرائیں گے‘ان کے ایک بچے کا آپریشن مفت کیا جائے گا۔ممکن ہے دولہا کلیرنس سیل میں یہ رعایت دی جائے کہ جو تین دولہے اکٹھے خریدے گا اسے ایک چھوٹا دولہا مفت ملے گا۔

Your Thoughts and Comments