Jis Roz Chacha Chakkan Ki Ainak Kho Gayi Thi

جس روز چچا چھکن کی عینک کھو گئی تھی

بدھ 20 اپریل 2022

سید امتیاز علی تاج
جس روز چچا چھکن کی عینک کھوئے جانے کا حادثہ ہوا،اس روز منہ اندھیرے سے وہ بڑے تاؤ میں تھے،ایسی حالت میں اگر انہیں جھونجھل اُتارنے کا موقع مل جائے،جب تو فراغت پاتے ہی اُن کا دل ہر قسم کی کدروت سے پاک اور آئینے کی طرح صاف ہو جاتا ہے لیکن اگر کسی اتفاق یا مجبوری سے دل کی بھڑاس نہ نکال سکیں،تب البتہ گھنٹوں اُنہیں کل نہیں پڑتی،اور جوش کے ریلے بار بار آ کر ایسا بے دھیان کرتے رہتے ہیں کہ آپ میں نہیں رہتے۔

اس روز غسل کے بعد ایسی ہی بے دھیانی میں اپنی عینک کھو بیٹھے،اس کے کھوئے جانے کا حادثہ سُنانے کے لئے صبح کے وہ واقعات معلوم ہونا ضروری ہیں جن کے باعث چچا اس قدر تپ گئے تھے۔

(جاری ہے)


سچ پوچھیے تو اس روز چچا کی تنک مزاجی کا کوئی قصور نہ تھا،تابڑ توڑ باتیں ہی ایسی ہوئیں جن پر کسی شریف شخص کو غصہ آئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔آپ خیال فرمائیے چِلّے کا جاڑا ہوا،صبح کے تین بجے کا وقت،باہر کُہرا پڑ رہا ہو،گرم گرم لحاف میں میٹھی نیند خراٹے لے رہی ہو اور کوئی شخص نہایت بے احتیاطی سے دروازے کی کنڈی پیٹ پیٹ کر نیند حرام کر ڈالے اور رسید نہ دیئے جانے پر بھی اپنے اس مذموم فعل سے باز آنے کی ضرورت نہ سمجھے،تو خدا لگتی کہیے،غصہ آنے کی بات ہے یا نہیں؟
قہرِ دروش برجان درویش لحاف میں سے باہر نکلنا پڑا۔

کن ٹوپ پہنا،رضائی اوڑھی،کھلے میں سے گزر کو سُو سُو کرتے دروازے پر پہنچے،کُنڈی کھولی،دیکھتے ہیں تو خان صاحب کا ملازم۔کہ”ابے پاجی تو اس وقت؟“بولا۔”خان صاحب کے پیٹ میں درد ہے،سینک کے لئے ربڑ کی تھیلی مانگی ہے۔“
خان صاحب تھیلی لینے خود آ گئے ہوتے تو بالکل جُدا بات تھی لیکن ایسے وقت کسی ملازم سے دوچار ہونا اور آداب و تکلفات کو ملحوظ رکھنا واقعہ یہ ہے کہ بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔

چچا نے تھیلی تو لا دی لیکن خان صاحب کی صحت اور درد کی وقت ناشناسی پر ایک مختصر مگر پُر مغز تبصرہ کیے بغیر نہ رہ سکے۔
ملازم کمبخت کی حماقت دیکھیے کہ تھیلی کے ساتھ آپس کی یہ باتیں بھی خان صاحب کو جا پہنچائیں!چچا دوبارہ لیٹنے نہ پائے تھے کہ کُنڈی پھر پٹنی شروع ہو گئی،بہت دیر تک انجان بنے رہنے پر بھی گولہ باری تمام نہ ہوئی تو اس کے سوا چارہ نظر نہ آیا کہ بعض ناگفتہ بہ الفاظ کہہ کر دل کا غبار نکالیں اور لحاف بھی اُوپر سے اُلٹ ڈالیں۔


خون کے سے گھونٹ پیتے ہوئے کُنڈی کھولی مگر زبان ابھی کھولنے نہ پائے تھے کہ ملازم نے تُرت تھیلی ہاتھ میں تھما دی،بولا۔”خان صاحب نے کہا ہے کہ اسے اپنے پاس انڈے دینے دیجیے،ہم بوتل سے کام چلا لیں گے،اور اب کبھی ہم سے پالش کی شیشی منگا کر دیکھیے گا۔
سردیوں میں اندھیرے منہ بستر سے باہر نکلوانا اور نوکر کے ہاتھ اخلاق سے ایسی گری ہوئی بات کہلوا کر بھیجنا ایمان سے کہیے بھلا شرافت ہے؟مارے غصے کے چچا کی نیند حرام ہو گئی،لیٹے تو مگر تمام وقت بڑبڑاتے ہوئے کروٹیں بدلتے رہے۔

”جیسے ان کے باپ کی میراث میں مجھے ربڑ کی تھیلی ملی تھی․․․اور مزاج تو دیکھو کہ اپنے ہی پاس انڈے دینے دیجیے․․․․مرغی کا․․․․دھمکی دیتا ہے کہ پالش منگا کر دیکھیے گا․․․․جیسے شہر بھر میں یہی تو ایک موچی رہ گیا ہے۔“
کسی کروٹ نیند نہ آئی تو تنگ آ کر سونے کا ارادہ ترک کر دیا،اُجالا ہونے تک حقے سے غم غلط کرنے کی ٹھانی۔نوکر چاکر سو رہے تھے،چلم لے خود باورچی خانے کا رُخ کیا،غصہ اسی طرح دل میں چٹکیاں لے رہا تھا۔

”آخر گھر ہے،کوئی خیراتی اسپتال تو ہے نہیں کہ جس وقت جس کا جی چاہا سوتوں کو بے آرام کیا اور ربڑ کی تھیلی طلب کر لی،چندے کی تھیلی ہے جو یہ مزاج کہ اپنے ہی پاس انڈے دینے دیجیے؟“
باورچی خانے میں جا کر دیکھتے ہیں تو اتفاق سے چولہا ٹھنڈا۔نہ جانے چچی رات کو بھوبل میں لکڑی کو دبانا بھول گئی تھیں یا دبی ہوئی لکڑی جل کر راکھ بن چکی تھی۔چچا کا غصہ اور بھڑک اُٹھا۔

”گھرداری کرنے چلی ہیں،آگ تک کا انتظام رکھنے کی توفیق نہیں اور پھر ہر وقت کی ضد کہ میں یہ کرتی ہوں میں وہ کرتی ہوں،میں کام سے مری جاتی ہوں،حالت یہ ہے کہ گھر میں پالش تک منگا کر رکھنے کا ہوش نہیں،ضرورت ہو تو ہمسایوں کے ہاں سے پالش منگایا جاتا ہے۔اور اس کم ظرف کو دیکھو کہ پالش کیا دے دی،گویا حاتم کی گور پر لات مار دی․․․․جو برابر پالش لے لی تو بدلے میں ربڑ کی تھیلی اُنہیں بخش دو․․․کمینہ کہیں کا۔


یہ چچا بکتے جھکتے اُٹھ کھڑے ہوئے،اندر چلے،صحن میں پہنچ کر خیال آیا کہ حقے کے بغیر صبح کرنا محال ہے،خود ہی آگ سلگانی چاہیے۔واپس ہو گئے،دو قدم نہ چلنے پائے تھے کہ پھر لوٹنے کی ٹھان لی،پھونکیں مارنے کی زحمت کا خیال آ گیا مگر دالان میں پہنچنے کے بعد طلب نے ایسا بے بس کر دیا کہ باورچی خانے میں پہنچے اور آگ سلگانے کی ٹھانی۔بڑبڑاتے ہوئے اِدھر اُدھر سے کاغذ،چھٹیاں،رسی کے ٹکڑے جمع کیے،ان پر کوئلے رکھ کر دیا سلائی دکھائی،اور پھونکیں مار مار کر اور جلے دل کے پھپھولے پھوڑ پھوڑ کر آدھ گھنٹے کی محنت سے کہیں کوئلے دہکائے۔

لیکن اب آپ چلم بھرنے کے لئے تمباکو کے ڈبے کو جو دیکھتے ہیں تو خالی!ڈبہ اُٹھا کر زمین پر دے مارا!دیکھی اس کی حرکت!جی میں آتا ہے حرام خور کا قیمہ کرکے رکھ دوں۔ہزار تاکید کرو پر ان نوکروں کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔اور اس بدمعاش کو دیکھو،صبح صبح پرائیوٹ بات جا کر خان صاحب سے بیان کر ڈالی،کوئی اُس پا جی سے پوچھے،میں نے خان صاحب کے خیراتی اسپتال میں داخل ہو جانے کی بات اس لئے کہی تھی کہ جا کر اُن کے سامنے بیان کر دے؟تجھے ربڑ کی تھیلی دی ہے تو چپ چاپ جا کر ان کے حوالے کر دے،تجھے دوسروں کے قصوں سے کیا سروکار؟اور پھر اُن نواب صاحب کا مزاج کہ فرماتے ہیں۔

تھیلی کو اپنے ہی پاس انڈے دینے دیجیے۔“
تھیلی کے انڈے یاد آ جانے سے غصے کا ایک نیا ریلا آیا،جل کر اُٹھ کھڑے ہوئے،وہاں پہنچے،بُندو سو رہا تھا۔سوتے ہوئے کو ایک ٹھڈا رسید کیا اور برس پڑے۔”حرام خور!بدمعاش!ہزار دفعہ نہیں کہا کہ ایک چلم کا تمباکو باقی رہے تو اور تمباکو فوراً لے آیا کر،مگر لاتوں کے بھوت بھلا باتوں سے مانتے ہیں؟“
”بُندو ہائے وائے اور میاں جی میاں جی کرتا ہوا اُٹھ بیٹھا،چچی بھی جاگ گئیں،جوتی پہنتی پہنتی لپک کر چچا کے پاس پہنچیں،کیا ہوا،کیا ہوا،کیوں صبح صبح غریب پر برس پڑے؟“آگ کے سلسلے میں چچی پر بھی غصہ تھا،چچا غصے سے گردن موڑ کر بولے”بس اس معاملے میں میری رائے محفوظ رہنے دو۔


بُندو بسورتا ہوا بولا۔”رکھا تو ہوا ہے تمباکو۔“
چچا نے اسے زیادہ نہ بولنے دیا۔”تو ہم اندھے ہیں؟“
چچی نے پھر دخل دیا۔”رات ہی تو اس نے تمباکو کے لئے مجھ سے چار پیسے لیے ہیں۔“
چچا نے چچی کو کچھ جواب نہ دیا،جھک کر بُندو کا کان پکڑا اور اسے کھڑا کر لیا۔”دِکھا چل کر کہاں ہے تمباکو،تمباکو کے نام سے پیسے لے لے کر ریوڑیاں اُڑتی ہیں بدمعاش؟رات کھا نہیں رہا تھا ریوڑیاں؟اسی وقت پیدا نہ کیا تمباکو تو میرے ہاتھوں جیتا نہ بچے گا۔


بُندو نے باورچی خانے میں پہنچ کر طاق میں سے تمباکو کا ڈبا نکال کر چچا کے ہاتھ میں تھما دیا!چچا منٹ بھر ڈبے کو ہاتھ میں لیے چپ چاپ دیکھتے رہے،تمباکو سے بھرا ہوا تھا،پھر گویا اپنی اس خاموشی کی کسر نکالنے کی غرض سے ایک تھپڑ اور بُندو کے رسید کیا۔”ابے طاق میں تمباکو؟تمباکو رکھنے کی جگہ طاق ہے؟“دکان ہی میں نہ رکھ آیا حرام خور،یہ جگہ ہوتی ہے تمباکو رکھنے کی؟“
بُندو آنسو پونچھتے ہوئے بولا۔

”بیوی جی نے کہا تھا۔“
چچا کھسیانے ہو کر اور گرجنے لگے۔”ابے بیوی جی کے بچے،تجھے خود خیال نہ آیا کہ ضرورت ہو گی تو طاق میں کہاں تلاش کرتے پھریں گے؟“
بُندو نے سسکیاں لیتے ہوئے جواب دیا۔”نیچے بلیاں گرا دیتی تھیں۔“
مگر چچا کی دلیلیں کہاں ختم ہوتی ہیں۔”بلیاں گرا دیتی تھیں،باتیں سنو بدمعاش کی،تمباکو نہ ہوا دودھ ہو گیا،کہ بلیاں گرا دیتی تھیں۔


چچی دالان میں آ کھڑی ہوئی تھیں،غصے کو دبا کر بولیں۔”ہو چکی تفتیش؟“
چچا سر جھکائے جزبز واپس آ رہے تھے،جھنجھلا کر بولے۔”تمہاری ہی شہ نے نوکروں کو سر پر چڑھا دیا ہے۔“
”کہ تمباکو کا ڈبا طاق میں رکھنے لگے ہیں؟“
”ہمیں کیونکر معلوم ہو سکتا تھا کہ ڈبا طاق میں رکھا ہے؟“
”عقل سے کام لے کر۔“
چچا نے کچھ کہنا چاہا،بات کہنے کے لئے دو بار سینے میں سانس بھر،مگر پھر صاف ناقص العقل کہنے پر ہی اکتفا کیا،اور جلدی سے باہر نکل گئے۔


بس یہ واقعات تھے جن کی وجہ سے چچا اس روز تاؤ میں آ گئے تھے،ربڑ کی تھیلی کا قصہ،آگ نہ ہونا،تمباکو طاق میں سے نکل آنا،بُندو کو پیٹنا،چچی سے جھڑپ،یہ سب ایسی باتیں نہ تھیں جو دماغی توازن پر اثر ڈالے بغیر رہ سکتیں۔صبح سے جو دیوان خانے میں گھسے تو گھنٹوں باہر نکلنے کا نام نہ لیا۔چچی نے چائے تیار ہونے کی اطلاع بھجوائی تو امامی کو ہاں ناں کچھ جواب نہ دیا،گم صم کھڑے سامنے گھورتے رہے۔

راہ دیکھ دیکھ کر چچی نے چائے کمرے میں بھجوا دی،آپ نے لوٹا دی،ساتھ کہلا بھیجا۔”اسے بھی طاق میں رکھ دیں۔“
بس دیوان خانے میں ٹہلے جا رہے تھے،منہ ہی منہ میں کچھ بول رہے تھے۔کبھی کبھی ہاتھ اور سر ایسے شدومد سے ہلانے لگتے جیسے بچوں کے سامنے اپنے طلاق کے دعوے کی وجوہ بیان کر رہے ہیں اور اپنی وجوہ کی قوت و صداقت پر مبصر ہیں۔”نوکروں کے سامنے کیا،ہمسایوں تک میں مجھے رسوا کر ڈالا ہے،ورنہ اُس پٹھان کی طاقت تھی کہ پالش کا طعنہ دے جاتا․․․․آخر کوئی حد بھی․․․بس ہو چکی․․․․اب نہیں․․․․اِدھر کی دنیا اُدھر ہو جائے۔

مگر انکار․․․․جب دیکھو نوکروں کی طرفداری۔جب دیکھو نوکروں کی طرفداری․․․․زندگی اجیرن کر ڈالی ہے․․․․آیا تھا طاق!․․․․طاق کا بچہ․․․․طاق میں پالش کی شیشی منگا کر نہ رکھی گئی․․․․شیشی ہوتی تو میں کیوں منگواتا اُس بھڑوے سے پالش؟میری عقل ماری گئی تھی․․․․جو برابر پالش لے کر ربڑ کی تھیلی انہیں دے ڈالو․․․․ہیں تو بڑے چترا․․․․․“
سورج سر پر آ گیا تو نہ جانے بھوک اور حقے کی طلب سے بے چین ہو کر یا ویسے ہی اُکتا کر آپ نے یکلخت باہر جانے کی ٹھہرا لی مگر اب تک غسل نہ کیا تھا،غسل خانہ اندر تھا،اندر کیونکر جائیں؟دو ایک بار شیشوں میں سے جھانک کر دیکھا کہ اندر کیا صورت حالات ہے اور چچی کیا کر رہی ہیں،صد افسوس کہ وہ مغموم و متفکر نظر نہ آ رہی تھیں۔

باورچی خانے کے دھندوں نے اُنہیں گھیر لیا تھا۔چچا چڑھ کر دروازے کے پاس سے پلٹ آئے،کچھ دیر گم صم کھڑے رہے،پھر نیت باندھ نہایت بے تعلقی کے انداز سے اندر آئے اور ناک کی سیدھ میں غسل خانے کی طرف چلے۔چاہتے تھے بغیر کسی کو نظر پڑے غسل خانے میں گھس جائیں اور غسل کے بعد کپڑے بدل چپ چپاتے ہمیشہ کے لئے بنے میاں کے ہاں چلے جائیں اور کوئی ہزار بلائے،لاکھ منت سماجت کرے ہر گز ہر گز واپس نہ آئیں لیکن حادثات زندگی․․․․سب کی نظر سے بچ کر غسل خانے تک تو پہنچ گئے مگر داخل ہونے لگے تو سر نے دروازے سے ٹکر کھا کر بتایا کہ چٹخنی لگی ہوئی ہے۔

اُدھر اندر سے ودو للکارا۔”نہیں مانے گا چھٹن!میں اماں سے جا کر کہہ دوں گا،چھٹن مجھے نہانے نہیں دیتا۔“
چھٹن دیر سے غسل خانے کا دروازہ کھٹکھٹا کر ودو کوستا رہا تھا،ودو نے اس کے دھوکے میں اندر سے چچا کو ڈپٹ دیا،اس پر چھٹن کی تو ہنستے ہنستے بری حالت ہو گئی۔چچا نے سر سہلاتے ہوئے غصے سے چھٹن کو دیکھا،وہ ہنسی کے مارے دہرا ہوتا ہوا صحن کی طرف بھاگا،ادھر چوٹ کی تکلیف اور خفت اور اُدھر اپنے آنے کا ایسے نامناسب طریق پر اعلان،چچا غصے میں چھٹن کی طرف لپکے،وہ دوڑ کر چچی سے جا لیٹا۔

چچی ہنڈیا میں پیاز کڑکڑا رہی تھیں،اُنہوں نے مڑ کر چچا کو دیکھا،اب کیا ہو؟ملزم سرحد پار ہو چکا تھا،چچا غصے میں لال پیلے ہوتے ہوئے خاموش واپس ہو گئے۔واپس آ کر دھما دھم غسل خانے کا دروازہ پیٹنا شروع کیا۔”نکل باہر․․․․ابھی نکل․․․․کہہ جو دیا کہ ابھی نکل۔جیسا ہے،ویسا ہی نکل․․․․آتا ہے یا بتاؤں میں․․․صابن ہے تو ہوا کرے․․․․“
ودو صابن منہ پر ملے تولیا لپیٹ باہر نکل آیا،چچا نے ایک چانٹا اس کے رسید کیا۔

”پا جی کہیں کا،نکل ہی نہیں چُکتا تھا،بے کہا جو تھا ہم نے جیسا ہے ویسا ہی نکل آ،خچوائے چلا جاتا تھا۔“
ایک چانٹا اور رسید کرکے چچا غسل خانے میں داخل ہو گئے،دن سے دروازہ بند کیا اور کھٹ سے چٹخنی لگا لی۔اندر چچا غسل خانے میں مصروف تھے،دروازے پر ودو کھڑا ریں ریں کر رہا تھا،چچی باورچی خانے میں انجان بنی کام میں مصروف تھیں۔تھوڑی تھوڑی دیر میں غسل خانے کے اندر سے چچا کی آواز سنائی دے جاتی تھی۔

”تو نہیں ہو گا چپ؟دیکھ میں کہتا ہوں سرک جا یہاں سے،نہیں اچھا نہ ہو گا․․․میں دروازہ کھول کر اتنی لگاؤں گا کہ اماں ربڑ کی تھیلی سے سینک کرتی پھریں گی۔“
تھوڑی دیر بعد چچی چپکی سی باورچی خانے سے اُٹھیں اور ودو کے پاس پہنچیں۔“کیا ہوا لال!کیوں رو رہا ہے؟آ جا تو میرے پاس آ جا۔“
چچا کی للکار بند تھی،پانی گرنے کی آواز بھی اندر سے نہ آ رہی تھی،نہ جانے جسم پر صابن لگانے میں مصروف تھے یا چچی کے الفاظ سننے کو کان کواڑ سے لگا رکھے تھے۔

ودو نے سسکیاں بھرتے ہوئے اپنے بے قصور ہونے کی داستان سنائی،چچی اُس کی انگلی تھام کر بولیں۔”چل تو میرے پاس چل،ان کے سر پر تو صبح سے بھوت سوار ہے۔“
چچی ودو کو ساتھ لے چل دیں،چچی کا یہ فقرہ سن کر اندر چچا چھکن پر نہ جانے کیا گزری لیکن جب غسل سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو چہرہ تمتمایا ہوا تھا اور انداز سے جلالی فقیروں کی بے نیازی کا رنگ جھلک رہا تھا۔

گیلے بدن پر میلا پاجامہ پہنے برآمد ہو گئے تھے۔اصل میں بڑا تولیا خود ساتھ لے جانا بھول گئے تھے،چھوٹا تولیا باندھ کر ودو باہر نکل آیا تھا،غسل خانے میں سے آواز دے کر تولیا مانگنا اور اپنی ضرورت مندی کی آواز چچی کے کان تک پہنچانا غالباً حمیت اور غیرت کو گوارا نہ ہوا تھا،سیدھے اُس کوٹھری میں چلے گئے،جہاں کپڑوں کا بکس رکھا رہتا تھا۔


دس منٹ کے بعد چچا کپڑے بدل کر باہر جانے لگے تو عینک کا قصہ درپیش ہو گیا۔ایک پاؤں دہلیز کے اندر تھا ایک باہر کہ اچانک خیال آیا کہ غسل کے بعد عینک نہیں لگائی۔عینک لینے غسل خانے میں گئے،عینک اُتار کر کھڑکی میں رکھنا کچھ کچھ یاد تھا لیکن وہاں پہنچ کر اب دیکھا تو موجود نہ تھی!طاقوں پر نظر ڈالی،ان میں بھی نہ تھی گھڑونچی کو دیکھا،فرش اور نالی کا جائزہ لیا،کہیں نظر نہ آئی سوچا شاید میلے کپڑوں کے ساتھ کوٹھری میں چلی گئی۔

واپس کوٹھری میں پہنچے،کپڑے لا کر تخت پر رکھے تھے عینک تخت پر بھی نہ تھی۔ہر کپڑے کو احتیاط سے جدا کرکے اُٹھایا،ٹٹول ٹٹول کر دیکھا،جھٹکا،کہیں بھی نہیں۔”گئی کہاں!“قوس اور نیم دائرہ بناتے ہوئے کھڑے گھومتے رہے،سارے کمرے کا جائزہ لیا کہ بے توجہی میں کسی اور جگہ نہ رکھ دی ہو،مایوسی ہوئی،لپکے ہوئے پھر غسل خانے میں پہنچے،پھر کھڑکی کو دیکھا،کھڑکی کے نیچے نالی تھی،اکڑوں بیٹھ کر اس کا معائنہ بھی کر لیا،اُسے ناکافی سمجھ کر باہر گئے،غسل خانے سے سڑک تک ساری نالی دیکھ ڈالی،نہ ملی۔

واپس غسل خانے میں پہنچے،گردن گھما گھما کر طاقوں میں نظر ڈالی گھڑونچی کے نیچے دیکھا،گھڑے جگہ سے سرکائے،کہیں نظر نہ آئی۔ ذرا دیر پریشانی کے عالم میں کھڑے سر کھجاتے رہے،”عجب تماشا ہے“لپکے ہوئے پھر کوٹھری میں پہنچے،میلے کپڑے باری باری سے اس زور سے جھٹکے کہ عینک کیا سوئی بھی لگی ہوتی تو الگ ہو کر گر پڑتی۔”لاحول ولا قوة الا باللہ!“یکلخت نیا خیال سوجھا،بھاگے ہوئے پھر غسل خانے میں پہنچے،لوٹے اُٹھا کر دیکھنے سے رہ گئے تھے،وہاں بھی کچھ نہ نکلا۔

”آخر ہوئی کیا!“گردن بڑھا کر احتیاطاً ایک نظر لوٹوں کے اندر بھی ڈال لی کہ آپ جانیے خدا کی باتیں خدا ہی جانے،اُس کی قدرت سے کیا بعید ہے۔کچھ سراغ نہ ملا۔داڑھی کھجاتے ہوئے پھر کمرے میں آ گئے،” یعنی یہ قضیہ کیا ہے؟“ذرا دیر کھوئے کھوئے کھڑے رہے،پھر تخت پر بیٹھ گئے،سر جھکا کر ایک نظر احتیاطاً تخت کے نیچے بھی ڈال لی۔اچانک خیال آیا کہ شاید عینک لگا کر غسل خانے میں گئے ہی نہ تھے،وہاں عینک اُتار کر رکھنے کا یوں ہی وہم ہے،چپکے بیٹھ کر صبح سے اس وقت تک کے واقعات پر غور فرمانے لگے کہ شاید اس طرح کسی موقع پر عینک اُتارنا اور کہیں رکھنا یاد آ جائے۔

صبح کے پہلے واقعے کے ساتھ ہی خان صاحب کا خیال آ گیا،جل کر بے اختیار منہ سے نکلا۔”ہونہہ ربڑ کی تھیلی!“اُٹھ کھڑے ہوئے،سوچا،عینک کہیں بستر ہی میں نہ رہ گئی ہو،دالان میں جا کر سارے لیٹے ہوئے بستر تلپٹ کر ڈالے،ان میں سے اپنا بستر ڈھونڈ کر نکالا،اس کی ایک ایک چیز دیکھی،بھٹکی،تکیوں میں ٹٹولا،عینک کا کچھ سراغ نہ ملا،مایوس ہو کر ایک بار پھر غسل خانے میں پہنچے کہ شاید اس دوران میں عینک سیر سپاٹے سے فارغ ہو کر واپس آ گئی ہو مگر نہیں آئی تھی۔

مجبوراً کوٹھری میں تخت پہ کھوئے کھوئے جا بیٹھے”یعنی حد ہو گئی۔“یکلخت دیوان خانے میں دیکھنے کا خیال آیا۔تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے وہاں پہنچے،میزیں،کرسیاں،فرش،طاق،ایک ایک چیز دیکھ لی،عینک کہیں ہو تو ملے،چچا کھسیانے سے ہو چلے۔”کیا واہیات ہے!“بے اختیار جی چاہتا تھا نوکروں اور بچوں کو امداد کے لئے پکاریں لیکن حالات اجازت نہ دیتے تھے۔

چچی سے نوک جھونک ہونے کے بعد نوکر اور بچے چچی کی رعایا معلوم ہونے لگتے تھے،اُن سے امداد طلب کرنے میں ہیٹی ہوتی تھی۔پریشانی کے عالم میں یوسف بے کارواں بنے پھر رہے تھے۔دماغ ایک ہی ادھیڑ بن میں مصروف تھا کہ اور کس جگہ گئے تھے،ممکن ہے عینک وہاں چھوڑ آئے ہوں۔اچانک باورچی خانے کی یاد آئی،وہ طاق والا واقعہ ،بُندو کی حماقت،چچی کا نامناسب رویہ،دل نے کہا،”عینک ضرور باورچی خانے میں ہے،آگ سلگاتے ہوئے اُتار کر رکھ دی،اُٹھانے کا خیال نہ رہا۔

ایک چور نظر چچی پر ڈالی،وہ ہنڈیا میں کفگیر چلا رہی تھیں۔”یہ ایسی چپ اور انجان سی کیوں بنی بیٹھی ہیں!گویا کوئی بات ہی نہیں،اس طرف نظر نہیں اُٹھاتیں!چہرے پر کیا پارسائی اور شہد پن برس رہا ہے۔یکلخت معمہ حل ہو گیا۔”بھٹیارا ہے نمازی تو ضرور ہے دغا بازی،چھپا رکھی ہے عینک جبھی تو بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ آخر ہار جھک مار کر مانگنے آئے گا۔

“چا جل کر اندر گئے،کواڑ کے شیشوں میں سے زیادہ غور سے چچی کو دیکھنا شروع کیا۔چچی نے اتفاق سے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا،چچا کا شبہ یقین کو پہنچ گیا۔”اب اس طرف دیکھانا،میں پہلے ہی جانتا تھا،چپکے چپکے میری پریشانی کا تماشہ دیکھ رہی ہیں،اس بچپن کی بھلا کوئی حد بھی،کیا بے معنی عورت ہے،اچھی بات ہے،میں نے بھی بیگم صاحبہ کا پاندان ہی غائب نہ کیا ہو تو کہنا۔


بے تابی کے عالم میں کبھی صحن سے گزر کر باہر جاتے،کبھی اندر آ جاتے کن انکھیوں سے چچی کو تاڑتے جا رہے تھے،کبھی باہر کھڑے ہو کر داڑھی کھجانے لگتے،کبھی اندر آ کر پیٹ سہلانا شروع کر دیتے،سمجھ میں نہ آتا تھا کیا کریں۔”کیا بیہودہ مذاق ہے،اور اگر میں ان کی اوڑھنی کو دیا سلائی دکھا دوں،جب؟“اندر کھڑے چور نظروں سے بار بار باورچی خانے کی طرف دیکھ رہے تھے کہ اتفاق سے بنو ہنڈیا کلمیا کا سامان لیے ادھر سے گزری۔

چچا نے اُسے اشارے سے بلایا،آہستہ سے کہا۔”بنو!ایک کام کیجیو،ہماری عینک کھوئی گئی ہے،باورچی خانے میں کہیں رکھی تھی،ڈھونڈ کر لا دے گی؟“
بنو نے پوچھا۔”کون سی عینک؟“
چچا بولے۔”احمق کہیں کی،جو عینک ہم لگاتے ہیں،اور کون سی،مگر دیکھ تیری اماں کو نہ معلوم ہونے پائے۔“
بنو چچا کا منہ تکتے ہوئے بولی۔”اپنی عینک لگا تو رکھی ہے آپ نے۔


چچا نے چونک کر ہاتھ آنکھوں کی طرف بڑھایا۔”ہیں!“یقین نہ آیا کہ جس شے کو ہاتھ نے چھوا،وہ عینک ہی ہے،اُتار لی،ہاتھ میں لے کر گھما گھما کر دیکھنے لگے،پھر حیرت کے عالم میں نظر بنو پر ڈالی۔”یہ یہیں تھی!کب لگائی تھی ہم نے؟“
بنو کو چھوٹی ہنسی،قہقہہ لگاتی اور اماں اماں کرتی ہوئی یہ بات سنانے باورچی خانے کو چلی۔چچا نے لپک کر پکڑ لیا،”ہیں ہیں!کیا ہوا؟کہاں چلی؟گلاب جامن کھائے گی؟وہ بات تو ہم نے مذاق میں کی تھی،پاگل کہیں کی،اس میں اماں کو سنانے کی کیا بات؟دیوانی ہوئی ہے۔

کیا لائیں تیرے لئے بازار سے؟تھپڑ ماروں گا میں۔“
بنو نے قہقہہ اور اماں اماں کی رٹ بند نہ کی۔تو چچا نے غصے سے اسے دھکا دیا۔وہ غریب گر کر رونے لگی چچا جلدی سے باہر نکل گئے۔
شام کو چچا گھر آئے۔تو لدے پھندے تھے۔ایک ہاتھ میں مٹھائی کی ٹوکری،دوسرے میں کچوریوں کی،دروازے میں قدم رکھتے ہی بچوں کو پکارنا شروع کر دیا،ایسے خوش گویا صبح کچھ ہوا ہی نہ تھا۔

سب کو لے کر پلنگ پر بیٹھ گئے،مٹھائی اور کچوریوں میں سے ودو اور بنو کو اَوروں سے زیادہ حصہ ملا،چچی کا حصہ ان کے لئے باورچی خانے میں بھیج دیا گیا۔
فراغت پانے کے بعد بُندو کو لے کر ڈیوڑھی میں چلے گئے،اُس سے کہا۔”بُندو یار،یہ تو لو تم ایک آنہ،اور اگر ایک کام کرو تو چونی انعام۔خاں صاحب نکڑ کی دُکان پر حجام کے ہاں خط بنوانے آیا کرتے ہیں،بائیسکل اپنا باہر رکھ جاتے ہیں۔اب کے آئیں تو چپکے سے جا کر اُن کے سائیکل میں پنکچر کر دیجیو۔“

Your Thoughts and Comments