پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو آڑے ہاتھوں لے لیا

اگر بورڈ نے بروقت اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہوتیں تو آج ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان میڈل ٹیبل پر موجود ہوتا، اعلامیہ

منگل 27 جولائی 2021 23:53

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جولائی2021ء) پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے بروقت اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہوتیں تو آج ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان میڈل ٹیبل پر موجود ہوتا۔ٹوکیو اولمپکس میں پاکستانی ایتھلیٹس کی تعداد اور اب تک کی کارکردگی پر ردعمل پر پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کی ڈویلپمنٹ ، وسائل اور کھلاڑیوں کی فنڈنگ سمیت تمام معاملات کی ذمہ داری پاکستان اسپورٹس بورڈ کی ذمہ داری ہے جب کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی نمائندہ تنظیم ہے جس کا کوئی عہدیدار حکومت سے تنخواہ نہیں لے رہا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نیکہا ہیکہ پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اولمپکس سے قبل 44 کروڑ روپے بغیر خرچ کیے حکومت کو واپس کردیے، اگر یہ ایتھلیٹس پر خرچ کیے ہوتے تو آج طلحہ طالب اور گلفام جوزف پاکستان کو پوڈیم پر لاسکتے تھے۔

(جاری ہے)

ایسوسی ایشن نے کہاکہ اگرکھلاڑیوں کو بروقت وسائل فراہم کیے جاتے تو انعام بٹ، سعدی عباس اور محمد بلال جیسے کھلاڑی بھی آج اولمپکس میں شریک ہوتے۔

پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن نے مزید بتایا کہ اس نے آئی او سی کی اولمپک اسکالر شپ سے مختلف ایتھلیٹس پر مجموعی طور پر 2 لاکھ 42 ہزار ڈالرز خرچ کیے ان میں سے 5 ایتھلیٹس ٹوکیو اولمپکس میں شریک ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ 2018 سے 2021 کے درمیان 9 ایتھلیٹس کو اولمپک اسکالرشپ پروگرام کیلئے منتخب کیا گیا تھا، ان ایتھلیٹس میں سعدی عباس، نصیر احمد، مناہل سہیل، خلیل اختر، گلفام جوزف، عثمان چند، غلام مصطفی بشیر، طلحہ طالب اور بسمہ خان شامل تھیں، ایتھلیٹس پر 6 ہزار ڈالرسے 30 ہزار ڈالرز کی رقم خرچ کی گئی۔

پی او اے کا کہنا ہے کہ طلحہ طالب کی کارکردگی اولمپک اسکالرشپ سے ہونے والی ٹریننگ کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے کہا کہ دستے کے سفر اورکوویڈ کے اخراجات پی او اے نے برداشت کیے حالانکہ یہ پی ایس بی کی ذمہ داری تھی، ڈوپ ٹیسٹ کیلئے بھی بروقت رقم پی ایس بی نے ادا نہیں کی۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments