صدف کنول

پاکستانی سینما کی نئی آئٹم گرل صدف کنول کہتی ہیں کہ پرانی فلموں میں بھی تو مجرے ہوا کرتے تھے، اگر ان پر اعتراض نہیں تھا تو آج میرے آئٹم سانگ پر تنقید کیوں؟

ہفتہ 21 اکتوبر 2017

ہما میرحسن:
شوبز کی چمک دمک میں نئے ستارے جلوہ گر ہوتے ہیں اور کچھ نیا کر دکھانے کی جستجو کرتے ہیں۔ ماڈل واداکار ہ صدف کنول بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ دیکھنے میں عام سے چہرے کی مالک ہیں۔ انہیں روایتی معنوں میں دلکش نہیں کہا جاسکتا لیکن ان کے انداز سب سے جداگانہ ہیں۔ پہلی نظر میں شاید وہ کوئی جادو نہ کریں لیکن پھر دھیرے دھیرے اپنا گرویدضرور بنالیتی ہیں۔ نامور برانڈز کی پسندیدہ ماڈل صدف نے اپنے کیریئر کاآغاز ماڈلنگ سے کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دیگر ماڈلز میں نمایاں مقام بنا لیا۔2014 میں وہ ملکی سطح پر ہونے والے مقابلے ”ریمپ کی رانی“ کی فاتح قرار پائیں اور انہیں”بیوٹی ووبرین‘کے لقب سے نوازا گیا۔ ماڈلنگ اور چھوٹی سکرین کا حصہ بننے کے بعد وہ اب فلموں میں دھوم دھڑکے سے دکھائی دے رہی ہیں۔

(جاری ہے)

وہ 29 اگست1993 کو ایک بزنس فیملی میں پیدا ہوئیں۔ پانچ فٹ سات انچ قد نارمل رنگت اور جھیل جیسی گہری آنکھوں کی حامل صدف پہلی بار 2015 ء میں ڈرامہ ”مائیکہ سسرال“میں دکھائی دیں۔ رواں برس وہ دو فلموں ”بالو ماہی“ اور حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ”نامعلوم افراد 2 “ میں ایک منفرد انداز میں دکھائی دے رہی ہیں۔ صدف فلموں کی معروف اداکارہ سلمیٰ ممتاز کی پوتی اورٹی وی اداکارہ ندا ممتاز کی بھتیجی ہیں۔
سوال: بچپن سے وابستہ کوئی اچھی یاد بتائیں؟
صدف کنول: بچپن کی کوئی خاص بات یاد نہیں ، مجھے تو پتہ ہی نہیں چلا کہ بچپن کا زمانہ کب گزر گیا؟ میں کراچی میں پیدا ہوئی۔ ہم دو بہن بھائی ہیں۔ بھائی مجھ سے بڑا ہے۔ ابو ڈاکٹر ہیں لیکن پہلے جاب کے سلسلے میں سعودی عرب ہوا کرتے تھے اب ریٹائرڈ ہوگئے ہیں تو واپس یہاں آگئے ہیں۔بچپن میں بھائی کے ساتھ کھیلا کرتی تھی، اس لئے گڑیا کی بجائے سائیکل چلانا اورکرکٹ کھیلنا میرا دلچسپ مشغلہ تھا اور جن گھروں میں بڑے بھائی ہوں تو پھر لڑکیاں ایسے ہی کھیل کھلتی ہیں۔امی نے ہم دونوں بہن بھائیوں پر ضرورت سے زیادہ توجہ دی۔ہمارا ٹائم ٹیبل بنا ہوتا پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات مقرر ہوتے․․․ بھائی کے ساتھ بہت دوستی تھی اب بھی ہے لیکن بیچ میں کہیں یہ دوستی کم ہوگئی تھی شاید ٹین ایک میں سب بچے اپنے اپنے دوستوں میں رہنا پسند کرتے ہیں لیکن میں بہت زیادہ سہیلیاں بنانے والی تھی۔ سکولنگ کی وجہ سے ہم سعودیہ نہیں جاتے تھے بلکہ میں تو کبھی سعودیہ گئی ہی نہیں البتہ بھائی اپنی جاب کے سلسلے میں سعودیہ میں ہی ہے ۔
سوال: آپ اکلوتی بیٹی ہیں، ماں باپ میں زیادہ کس کی لاڈلی تھیں۔
صدف کنول: میں دونوں کی لاڈلی ہوں، ہاں البتہ ابو سے میرا ایک جھجک والا رشتہ تھا لیکن اب ان سے ہر بات کرلیتی ہوں۔ جہاں تک امی کا تعلق ہے ان کے ساتھ میرا رشتہ انتہائی محبت اور دوستی کا رہا ہے۔ میراخیال ہے لڑکیاں فطری طور پر ماؤں کے قریب ہوتی ہیں بچپن سے لے کر اب تک میں امی ہی کے قریب رہی ہوں۔ میں سمجھتی ہوں میری تربیت اور شخصیت کو بنا نے میں امی کا بہت ہاتھ ہے۔ گھر کا ماحول بھی ایسا تھا کہ کبھی گھٹن کا احساس نہیں ہوا۔میں اپنی پڑھائی سے لے کر کیریئر تک امی کا رویہ ہمیشہ مثبت پایا ۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں آج میں خود اعتمادی دے فیصلے کر سکتی ہوں تو اس کی وجہ امی ہیں۔
سوال: کامرس کی تعلیم حاصل کرکے آپ ماڈلنگ کی جانب کیسے آگئیں۔
صدف کنول:میرا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھاکہ میں ایک اداکار یا ماڈل بنوں گی۔دراصل ایک دن میری ملاقات بیوٹی ایکسپرٹ فریحہ الطاف سے ہوئی جنہوں نے مجھے ماڈلنگ میں قسمت آزمائی کا کہا اور یقین دلایا کے میرے لئے ماڈلنگ پروفیشن بہترین رہے گا۔ جس کے بعد خود ہی اسباب پیدا ہوتے گئے اور میں ماڈلنگ کی دنیا میں آگئی۔اس سے قبل میں ہمیشہ بینکنگ یا مارکیٹنگ کے بارے میں سوچتی تھی اور میں نے اپنی مرضی سے بی کام میں ایڈمیشن بھی لیا تھا۔ 2010 میں جب ماڈلنگ کی طرف آئی تو تعلیمی سلسلہ روکنا پڑا۔ اب کچھ عرصے سے میرا دل چاہتا ہے میں دوبارہ پڑھنا شروع کردوں لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ شب وروز ماڈلنگ میں مصروف ہونے کے باعث شایدمیں دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کو پورا نہ کر سکوں۔
سوال: آپ کو شوبز کی دنیا میں کس نے سپورٹ کیا ہے؟
صدف کنول:میرااکلوتا بھائی وسیم ہی میرا گائیڈ ہے۔انہوں نے ہی مجھے اس مشکل راستے کے پیچ وخم سے آگاہ کیا۔ میں آج جوکچھ بھی ہوں اپنے بھائی کی بدولت ہوں۔ ماڈلنگ سے ڈرامہ پھر فلم تک کا سفر میں نے اپنے بھائی کی انگلی پکڑ کر طے کیا۔ ہے میں جانتی ہوں شوبز کی دنیا میں کامیابی حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے مگر میں محنت اور سچی لگن پر یقین رکھتی ہوں اور یہی یقین اور اعتماد مجھے کیرئیر میں بلندیوں کی جانب لے جارہا ہے۔
سوال : ماڈلنگ اور اداکاری میں کیا فرق محسوس کرتی ہیں؟
صدف کنول: ماڈلنگ میں آپکو کیمرہ کے سامنے بہت ہی تیار ہوکر آنا پڑتا ہے لیکن ایکٹنگ میں معاملہ مختلف ہے۔ کردار کے مطابق گیٹ اپ اور میک اپ جتنا کم ہو ،اتنا ہی بہتر ہو تا ہے۔ اسی لیے بہت سے ماڈل اچھے ایکٹر نہیں بن پاتے۔ بالی ووڈ اداکارہ چالیز تھیرون نے البتہ اس حقیقت کے سامنے ہار نہیں مانی اور ایکٹر بن گئی۔ پاکستان کی انٹر ٹینمنٹ انڈسٹری بالی ووڈ سے بہت چھوٹی اور مختلف ہے۔ ہمارے اکثر ماڈلز ایکٹنگ میں بھی اچھا نام بنا لیتے ہیں کچھ ٹی وی ڈراموں سے فلموں تک پہنچ جاتے ہیں اور کامیابی سمیٹ لیتے ہیں، اس کی بہترین مثال ماہرہ خان ہیں۔ ماڈلنگ کے حوالے سے اتنا ضرور کہوں گی کہ کچھ لوگ ریمپ ماڈلنگ کو آرٹ کا حصہ نہیں مانتے، وہ سمجھتے ہیں کہ ماڈلز محض شوبیس ہیں جبکہ ایسا درست نہیں۔ ماڈلز اپنی متاثر کن شخصیت سے کپڑے کی شان میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہیں اور ڈیزائنرز کی مارکیٹ ویلیو بڑھاتی ہیں۔
سوال: اداکار حمزہ علی عباسی نے فلم ”نامعلوم افراد ٹو“ میں آپ کے آئٹم سانگ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اس پر کیا تبصرہ کریں گی؟
صدف کنول:میں حمزہ کی بات سے بالکل متفق نہیں ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آئٹم سانگ میں اداکاراؤں کو نمائش کے لئے پیش کیا جاتا ہے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ فلموں میں موجود آئٹم سانگز سے لطف اندوز ہونا چاہئے نہ کہ ان کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہیے۔ یہ کہنا قطعی غلط ہوگا کہ مجھے نمائش کے طور پر استعمال کیا گیا ہے بلکہ میں اپنی پرفارمنس سے خوش ہوں اور فلموں میں آئٹم سانگر کو برا نہیں سمجھتی۔ ہماری پرانی فلموں میں بھی تو مجرے ہوا کرتے تھے ، کیا وہ آئٹم سانگ کی ہی ایک شکل نہیں تھے؟اگر ان پر اعتراض نہیں کیا گیا تو پھر آج میرے آئٹم سانگ پر تنقید کیوں کی جارہی ہے؟ اس فلم میں میرا آئٹم سانگ عریبک سٹائل میں فلمایا گیا ہے اور اس کے لئے خاص ڈریس بھی تیار کروایا گیا تھا۔ امید ہے کہ میرا آئٹم سانگ لوگوں کو بہت پسند آئے گا۔
سوال:اگر آپ کو بالی ووڈ میں کام کرنے کا موقع ملے آپ کریں گی؟
صدف کنول: مجھے بالی ووڈ سے بھی بعض ڈائر یکٹرز نے کام کی آفرز کی ہیں تاہم بالی ووڈ میں کام کرنا فی الوقت میری ترجیح نہیں۔ ہمیں آگے بڑھنا ہے تو ہمیں اپنی فلموں اور اپنے ملک میں کام کرنے کا ترجیح دینا ہوگی۔ ویسے بھی بالی ووڈ میں صرف ماہرہ خان اور فواد خان ہی اپنی جگہ بنا پائے ہیں، باقی جو بھی گئے انہیں خاطر خواہ پذیرائی حاصل نہ ہوسکی۔ اب ہر کوئی ماہرہ اور فواد نہیں کہ جنہیں سرحد کے اس پار بھی کامیابی ملے۔
سوال:آپ کے لئے ماڈلنگ اہم ہے یا فلم میں کام کرنے کو ترجیح دیں گی؟
صدف کنول: فلموں کا تجربہ کامیاب رہا ہے تو اب اداکاری کو اہمیت دوں گی، ماڈلنگ اور ریمپ پر پرفارم کرنے کی بجائے صرف فلم اور ٹی وی پر اداکاری کرکے اپنی صلاحیتوں کو منواؤں گی ۔ اب تو ہمارے یہاں بھی بہت اچھے موضوعات پر بڑی فلمیں بن رہی ہیں جن کو سراہا بھی جارہا ہے۔ فلم بالو ماہی اور نامعلوم افراد ٹو اچھی فلمیں ہیں، مجھے یقین ہے کہ آگے بھی اچھی فلمیں کرنے کو ملیں گی۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :