عمران عباس ، خوبصورت نہیں ،خوب سیرت بیوی چاہیے

عمران عباس کہتے ہیں کہ میں کسی عام گھریلو لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں․․․․․․․ شکل وصورت اہم نہیں ، شادی کے کچھ عرصے بعد سب لڑکیاں ایک جیسی ہوجاتی ہیں مگر اچھی سیرت ہمیشہ ساتھ رہتی ہے

جمعرات 16 نومبر 2017

زارا مصطفی:
ان گنت ٹی وی ڈراموں اور ٹیلی فلموں میں جلوہ گر ہونے والے عمران عباس نے نیشنل کالج آف آرٹس سے تعمیراتی شعبے کی ڈگری لینے کے بعد فیشن ماڈلنگ کا آغاز کیا اور تمام بڑے فیشن ڈیزائنر ز کی اولین پسند بن گئے۔ عمران نے پہلی مرتبہ رعنا شیخ کی ہدایتکاری میں ، حسینہ معین کے لکھے ہوئے ڈرامہ سیریل ”شاید کہ بہار آئے“ میں اداکاری کے جوہر دکھائے مگرانہیں نمایاں شہرت ڈرامہ سیریل”امراؤ جان“ سے ملی اور پھر عمران نے اداکاری میں ایسے قدم جمائے کہ کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔

انہوں نے ”نور بانو، کوئی لمحہ گلاب ہو، میری ذار زرہٴ بے نشاں، آہستہ آہستہ،میرا نصیب،من وسلویٰ ، پیا کے گھر جانا،میرا نام یوسف، دل مضطر، محبت تم سے نفرت ہے، یارِ بے وفا ، مجھے اپنا بنا لو اور ملال “ جیسے مشہورِ زمانہ ڈراموں سے شہرت پائی ۔

(جاری ہے)

عمران کیوں پیار نہیں ملتا، تم کہاں میں کہاں، شیر خُرما،شادی اور تم سے؟ رتی ماشہ تولہ جیسی ٹیلی فلموں کے بعد بالی ووڈ میں بھی کریچر تھری ڈی، جانثار،اور اے دل ہے مشکل سے خاص پہچان حاصل کر چکے ہیں۔

عمرا ن کا دعویٰ ہے کے وہ پاکستان کے واحد اداکار ہیں جنہیں اب تک سب سے زیادہ بالی ووڈ فلموں کی پیشکش کی گئی ہے لیکن بالی ووڈ میں دیگر پاکستانی اداکاروں کی طرح معقول شہرت نہ پانے کی وجہ شاید فلموں کا غلط انتخاب ہے۔ آج کل وہ لاہور میں سجل علی کے مدِ مقابل اپنے نئے آنے والے ڈرامہ سیریل ”نورالعین“ کی عکسبندی می مصروف ہیں ، چند ایک فلموں کے سکرپٹ بھی زیر غور ہیں۔

ممکن ہے رواں برس وہ اپنے پرستاروں کو شادی کی خوشخبریی بھی سنادیں ۔
سوال :شوبز کی چمک دمک سے الگ تھلگ رہنے والے ایکٹر اور ماڈل عمران عباس بحیثیت انسان کیسے ہیں؟
عمران عباس : میں نہ تو ایکٹر ہوں اور نہ ماڈل بلکہ بحیثیت انسان ایک سیدھا سادا عام سا انسان ہوں جو شوبز کی رونقوں سے خود کو جوڑ نہیں پاتا۔

شاید اسی لئے میں زیادہ دوست نہیں بناتا اور نہ ہی رات گئے دوستوں کے ساتھ الٹی سیدھی تقریبات میں جاتا ہوں۔ جو پرانے دوست ہیں ان سے گہری دوستی ہے ، میں فطرتاََ رشتے نبھانے والا انسان ہوں خصوصاََ اپنے قریبی رشتوں کو بہت اہمیت دیتا ہوں، اپنے پرانے رشتوں کی بہت قدر کرتا ہوں، دراصل میں بہت چھوٹا تھا جب اپنی فیملی سے دور ہاسٹل کی زندگی کا عادی ہوگیا اس لئے شاید بھیڑ بھاڑ سے دور بھاگتا ہوں۔


سوال:کبھی لڑکپن میں فیملی سے دور رہنے کا ناجائز فائدہ اٹھایا؟
عمران عباس:(مسکراتے ہوئے)نہیں۔ میں نے کبھی اپنے والدین کا بھروسہ نہیں توڑا کیونکہ میرا خیال ہے مجھے بہت کم عمری میں ہی اچھائی برائی کا فرق سمجھ آگیا تھا کیونکہ سب بہن بھائی بڑے تھے اس لئے شروع سے ہی ہمارے گھر کے ماحول کو بہت رکھ رکھاؤ پایا جاتا تھا، مجھے اپنی عمر سے بڑی باتیں جلد سمجھ آنے لگیں تھیں۔

ہاں کالج کے زمانے میں دوستوں کے ساتھ مل کر سگریٹ پینے کی عادت ہوگئی تھی مگر پھر اپنی خاندانی اقدار کی بدولت جلد سمجھ گیا کہ میں غلطی پر ہوں۔ مجھے لگتا ہے اگر بچوں کی اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے دوستی ہوتو انہیں کسی برائی میں کشش محسوس نہیں ہوتی۔
سوال: اداکاری کا آغاز کیسے ہوا؟
عمران عباس: ماڈلنگ میں قدم رکھنے کے بعد میں نے کچھ عرصہ نیبلہ کے ساتھ بھی کام کیا، کچھ ٹی وی شوز کئے ، یہیں سے مجھے اداکاری کی پیشکش بھی ہونے لگی۔

میرے مولا کا کرم ہے کہ مجھے شروع میں ہی اچھے اچھے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملتا رہا ہے اس لئے میں جلد ہی مشہور بھی ہوگیا۔ صحیح معنوں میں شہرت کا آغاز امراؤ جان ادا سے ہوا، لوگوں نے مجھے پہچاننا شروع کردیا۔
سوال: آج کل پاکستان میں بننے والی فلموں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
عمران عباس: ہماری فلم انڈسٹری ابھی چھوٹی ہے اس کا بالی ووڈ سے مقابلہ کرنا زیادتی ہوگی۔

ہماری فلموں میں کہیں نہ کہیں جھول رہ جاتا ہے ہاں چند ایک لوگ بہت اچھا کام کررہے ہیں حال ہی میں ”نامعلوم افراد اور پنجاب نہیں جاؤں گی“ جیسی فلموں نے پاکستان سینما کا مزاج بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت بھی میرے پاس کوئی دس بارہ فلموں کے سکرپٹ آئے ہوئے ہیں مگر عجلت میں کوئی غلط فیصلہ نہیں کرنا چاہتا اس لئے ابھی سوچ بچار سے کام لے رہا ہوں ۔


سوال:کچھ دن پہلے آپ کے سیٹ پر ریحام خان آئیں تو پھر یہ شور مچ گیا کہ آپ نے ان کے ساتھ کوئی فلم سائن کرلی ہے؟
عمران عباس:ریحام خان میری بہت اچھی دوست ہیں اور وہ سیٹ پر صرف مجھ سے ملنے آئی تھیں لیکن فلم کے حوالے سے میں نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ فی الحال اس بارے میں بات چیت چل رہی ہے۔
سوال: اب آپ کیسی فلمیں کرنا چاہتے ہیں؟
عمران عباس:یقینا اب میں کمرشل فلم ہی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ پاکستان میں آرٹ فلم کے لئے رسک لینا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔

ویسے بھی پاکستانی سینما کا مزاج آرٹ فلم کے حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ کمرشل فلم کا مطلب بیہودگی ہرگز نہیں بلکہ ایسی فلم ہے جسے لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ دیکھنے آئیں۔ ویسے اگر آپ میرے پسندیدہ کردار کے بارے میں پوچھیں تو مجھے لگتا ہے کہ ٹی وی پر رومانوی کردار بہت کرلئے ، رونا دھونا بھی ہوگیا،اب ایکشن کی طرف آنا چاہیے۔
سوال: کیااب تک شادی نہ کرنے کی وجہ وہ کالج کی ناکام محبت ہے؟
عمران عباس: ارے نہیں۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس زمانے میں سبھی ایسے تجربات سے گزرتے ہیں۔ شادی نہ کرنے کی وجہ بس یہی ہے کہ اب تک کوئی ایسی ملی ہی نہیں جس کے ساتھ یوں زندگی گزاری جاسکے۔
سوال: تو شادی کے لئے کیسی لڑکی کی تلاش ہے جو اب تک ختم نہیں ہوئی؟
عمران عباس: اکثر لوگوں کو حیرت ہوتی ہے جب میں کہتا ہوں مجھے کوئی ماڈرن اور حسین وجمیل لڑکی نہیں چاہیے بلکہ کسی عام سی گھریلو لڑکی سے شادی کروں گا کیونکہ مجھے کسی کی عام سی شکل صورت سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ جتنی بھی خوبصورت ہوشادی کے کچھ سالوں کے بعد سب لڑکیاں ایک جیسی ہوجاتی ہیں۔

ہاں البتہ نیک سیرت ہمیشہ ساتھ رہتی ہے اس لئے میری بیوی جو بھی ہو محبت کرنے والی ، خاندانی اقدار اور سب سے بڑھ کر میرے قریبی رشتوں کو اہمیت دے۔
سوال : شادی اپنی مرضی سے کریں گے یا فیملی کی پسند سے؟
عمران عباس: ظاہر ہے فیملی کی پسند کے ساتھ ساتھ میری مرضی بھی شامل ہوگی۔
سوال: تو پھر بینڈ کا کب تک انتظار کریں؟
عمران عباس: بہت جلد․․․․․ شاید میں بھی اسی سال دولہا بن جاؤں کیونکہ ایک جگہ بات تو چل رہی ہے مگر ابھی کچھ فائنل نہیں ہوا۔


سوال: وہ کون سے اداکارائیں ہیں جن کے ساتھ کام کرنے میں سہولت محسوس کرتے ہیں؟
عمران عباس: بہت سی ہیں جن میں صنم جنگ، عائزہ خان، مایا علی، اور سعدیہ خان شامل ہیں․․․․ صنم اور عائزہ کے ساتھ بہت اچھی دوستی ہے ۔ ان کے ساتھ کام کرنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔
سوال: سنا ہے کہ آپ کھانے کے معاملے میں بہت محتاط ہیں؟
عمران عباس:بالکل۔

میں کیلوریز گن گن کر کھاتا ہوں تاکہ کہیں توازن خراب نہ ہوجائے بلکہ میں جب سے لاہور میں شوٹنگ کررہا ہوں ، ایسی جگہیں ڈھونڈتا رہتا ہوں جہاں سے مجھے ہلکا پھلکا کھانا ملے اور جس میں کیلوریز کم سے کم ہوں۔ میں کھانے میں نخریلا نہیں ہوں لیکن حساب کتاب رکھ کر کھاتا ہوں۔
سوال :یعنی آپ وزن بڑھنے سے خوفزدہ رہتے ہیں؟
عمران عباس: ہاں کیوں نہیں․․․․․ میں جس شعبے سے ہوں ، وہاں اپنی شکل وصورت اور فٹنس کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔

آج کل میرے جو ڈرامے ٹی وی پر آرہے ہیں ، مجھے ان میں اپنا وزن بڑھا ہوا محسوس ہورہا ہے اس لئے میں نے ”نورالعین“ کی شوٹنگ سے پہلے اپنا خاصا وزن کم کیا ہے ۔ ویسے بھی تیس برس کی عمر کے بعد وزن پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے اس لئے میں وزن اور کھانے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا اور روزانہ ورک آؤٹ بھی کرتا ہوں۔
سوال : اپنی کوئی ایسی عادت جس پر قابو پانا چاہتے ہیں؟
عمران عباس : مجھے غصہ بہت آتا ہے اس لئے اپنے غصے پر قابو پانے کے لئے مراقبہ کررہا ہوں۔


سوال: شاپنگ کا شوق تو ہوگا؟
عمران عباس : بالکل، مجھے شاپنگ کا بے انتہا شوق ہے ۔میرے پاس کپڑے جوتوں میں دنیا جہاں کا ہر برانڈ موجود ہے۔ میں جب بھی کہیں جاتا ہوں شاپنگ ضرور کرتا ہوں، اپنے کرداروں کے لئے بھی اپنی وارڈروب خود سیٹ کرتا ہوں۔
سوال: کبھی شاپنگ کرتے ہوئے ایسا لگا کہ لوگ سٹار سمجھ کر چیزیں مہنگی دے دیتے ہیں؟
عمران عباس : اکثر میری ممی کہہ دیتی ہیں کہ آتے ہوئے مارکیٹ سے یہ لے آنا وہ لے آنا کبھی مجھے شاپنگ پر جاتے ہوئے ساتھ لے جاتی ہیں کیونکہ مجھے گروسری خریدنے کا بہت مزا آتا ہے ۔

ویسے اگر کوئی مجھے پہچان کر مہنگی چیزیں بیچ دیتا ہے تو کوئی پیسے ہی نہیں لیتا․․․ ایسے میں ممی مجھے کہتی ہیں تم ہمارے ساتھ شاپنگ پر نہ ہی آیا کرو۔ میں جب بھی پاکستان سے باہر جاتا ہوں تو خود ہی گروسری کرتا ہوں ، وہاں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔
سوال : لباس کے معاملے میں کب کیا پہننا ہے، کس سے مشورہ لیتے ہیں؟
عمران عباس: ویسے تو میرے اپنے سٹائلسٹ ہیں جو ڈراموں اور دیگر تقریبات کے لئے کپڑے بناتے ہیں لیکن اکثر اپنے بھانجے بھانجوں اور بھتیجے سے بھی پوچھ لیتا ہوں کیونکہ آج کل کے بچے ہمارے مقابلے میں فیشن سے متعلق زیادہ آگاہ رہتے ہیں میں اکثر کہیں جانے کے لئے تیار ہوتا ہوں تو انہیں تصویر بھیجتا ہوں اور ان سے پوچھ لیتا ہوں کیسا لگ رہا ہوں؟
سوال: آپ کے پسندیدہ رنگ کونسے ہیں؟
عمران عباس: نیلا، کالا، اور پیلا․․․․․․ مجھے بے حد پسند ہیں۔

مجھے ان رنگوں میں بہت وسعت نظر آتی ہے۔
سوال : گانے کا بھی شوق ہے ،کیسا میوزک پسند کرتے ہیں؟
عمران عباس : مجھے میوزک سے بہت لگاؤ ہے ۔میں نے میوزک سیکھا بھی ہے اس لئے مجھے میوزک کی خاص سمجھ بوجھ ہے لیکن مزاج کے مطابق مجھے ہر طرح کا میوزک اچھا لگتاہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :