محنت سے پہچان حاصل کی

اداکار شہزاد شیخ کہتے ہیں کہ اکثر لوگوں کا خیال ہے سٹارز کے بچوں کو کامیابی ٹرے میں رکھ کر مل جاتی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے میں چار پانچ سال سے ہاتھ پاؤں ماررہا تھا اب جاکر کہیں اپنی پہچان حاصل کر پایا ہوں۔

جمعرات 28 دسمبر 2017

زارا مصطفی:
سٹار گھر میں پیدا ہونے والے جاوید شیخ اور زینت منگی کے بیٹے سلیم شیخ کے بھتیجے،مومل شیخ کے بڑے بھائی شہزاد شیخ نے بچپن سے ہی اپنے اردگرد ستاروں کی کہکشاں دیکھی اور تو اور بہروز سبزواری ان کے پھوپھا شہروز سبزواری ان کی پھوپھی زاد بھائی اور سائرہ شہروز ان کی بھابھی ہیں،بچپن ہی سے ان کے کانوں میں ”کیمرہ لائٹ اور ایکشن “کی آوازیں گونجتی سنیں۔

لوگوں کا خیال ہے کہ والدین یا کوئی اور عزیز رشتہ دار شوبز میں ہو تو کامیابی آسانی سے مل جاتی ہیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی کسے کے کہنے پر ایک یا دو مرتبہ کسی کردار کی پیشکش کردے گا لیکن اگر کردار کے ساتھ انصاف ہی نہیں ہوتا تو دوبارہ کوئی رسک نہیں لے گا۔پھر آپ سٹار کی اولاد ہی کیوں نہ ہوں کامیابی کے دروازے تب ہی کھلتے ہیں جب آپ کو یہ کام آتا ہو۔

(جاری ہے)

شہزاد کو بچپن میں ہی اداکاری کا بہت شوق تھا لیکن جوں جوں بڑے ہوتے گئے اپنے والد جاوید شیخ کو ایک بہترین اداکار کے روپ میں دیکھ کر متاثر ہوتے رہے چنانچہ امریکہ سے باقاعدہ اداکاری کی تعلیم حاصل کی اور پاکستان واپس آکر ”ڈریمز“ کے نام سے پہلا ڈرامہ کیا۔انہوں نے اپنے والد کے ساتھ”عینی کی آئے گی بارات“ میں بھی معاون کردار ادا کیا اور کئی بڑئے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر ز کی توجہ حاصل کرلی۔

”می رقصم تیسری منزل ہلکی سی خلش وصل یار بھابھی دل ہی تو ہے،خالی ہاتھ،محبت تم سے نفرت ہے،چھوٹی سی زندگی،الف اللہ اور انسان جیسے مشہور ڈرامہ سیریلز ان کی پہچان بنے،2016 اور 2017 کو شہزاد کے کیرئیر کے بہترین سال کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔وہ سٹار کے بیٹے ہی نہیں بلکہ نوجوان اداکاروں میں خود بھی سٹار کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔2015 میں شہزاد نے عائشہ عمر کے مدمقابل فلم’‘کراچی سے لاہور“ میں مرکزی کردار بھی کیا تھا۔

وہ فلموں میں اچھے کرداروں کی تلاش میں تو ہیں مگر ان وقت ان کی تمام دلچسپی ٹی وی ڈراموں میں ہے۔2012 میں ان کی شادی کارپوریٹ وکیل حنا میر سے ہوئی ان کا ایک بیٹا شاہ میر شہزاد ہے۔
سوال:آپ نے پردے پر تو نمایاں پہچان حاصل کرلی مگر اصل زندگی میں شہزاد کس کردار کا نام ہے؟
شہزاد شیخ(مسکراتے ہوئے): میں ایک بیٹا بھائی،شوہر اور باپ ہوں اوران تمام کرداروں کے لیے میں اللہ کا بے حد شکر گزار ہوں میری زندگی فیملی کے ارد گرد گھومتی ہیں مجھے اپنا فارغ وقت فیملی کے ساتھ گزارنا اچھا لگتا ہے اس لیے گھر پر ہی گیمز کھیلتا ہوں میرے صرف7,8 ہی قریبی دوست ہیں جن کے ساتھ گھومتاپھرتا ہوں اور اداکاری میرا جنون ہے اکثر لوگوں کا خیال ہے سٹارز کے بچوں کو کامیابی ٹرے میں رکھ کر مل جاتی ہیں جبکہ ایسا نہیں ہوتا ہے۔

میں چار پانچ سال سے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا ،مگر اب جاکر کہیں اپنی پہچان حاصل کرپایا ہوں جہاں میرے لیے جاوید شیخ کا بیٹا ہونا فخر کی بات ہے وہیں میری زندگی میں سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ میں سٹار کا بیٹا ہوں اور لوگ میرے کام کا ان سے 40 سالہ تجربے سے موازنہ کریں گے ایسے میں اپنی انفرادی شناخت حاصل کرنا آسان نہیں تھا لیکن اب میں اللہ کا شکر گزار ہوں اور حالیہ دو سالوں میں مجھے لوگوں سے نہیں بلکہ اپنے سینئر اداکاروں سے بھی بہت پذیرائی ملی ہیں مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب وہ پاپا سے کہتے ہیں کہ آپ کے بیٹے کے ساتھ کام کرنے کا مزا آیا یا آپ کا بیٹا اچھا کام کررہا ہے۔


سوال:بچپن میں والدین کی علیحدگی ہوگئی کبھی کسی محرومی کا احساس ہوا؟
شہزاد شیخ:نہیں میں اور مومل بہت خوش قسمت ہیں جو ہمیں ایسی ماں ملیں جنہوں نے ہمیں کبھی والد کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ہمیں اچھے سکولوں سے تعلیم دلائی۔زندگی کی تمام نعمتیں دیں اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کبھی ہمیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہمارے والد ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے امی نے سنگل پیر نٹ کی طرح ہمیں پالا مگر کبھی ہمیں اپنے والد سے دور کرنے کی کوشش نہیں کی۔

بچپن میں ہم یہی سمجھتے تھے کہ چونکہ پاپا فلموں کی وجہ سے یہاں وہاں گھومتے رہتے ہیں اس لیے ان کا لاہور میں رہنا ضروری ہے چھٹیوں میں مومل اور میں بھی ان سے ملنے جاتے رہتے تھے اور سب کزنز کے ساتھ یادگار وقت گزارتے تھے۔
سوال:مومل پر رعب تو ہوگا؟
شہزاد شیخ:بالکل نہیں چھوٹی ضرور ہے مگر وہ بچپن سے ہی بہت”بوسی“ مزاج کی مالک ہے عام طور پر والدین میں سے ایک سخت مزاج اور ایک نرم ہوتا ہے مگر ہمارے لیے تو امی ہی تھیں اس لیے جب امی کے ہماری شامت آتی تو پھر مسکراتے ہوئے میں اورمومل ہی ایک دوسرے کا سہارا بنتے تھے۔


سوال:سنا ہے آپ بچپن میں شرمیلے تھے توپڑھائی میں کیسے تھے؟
شہزاد شیخ: میں واقعی ذرا شرمیلا سا بچہ تھا لیکن جوں جوں بڑ اہوتا گیا چیزوں کو دیکھنا پرکھنا آگیا شرمیلا پن دور ہوتا گیا ہاں مجھے پڑھنے کا شوق نہیں تھا لیکن سائنس اور میتھ میرے پسندیدہ مضامین تھے کیونکہ میتھ مجھے چیلینجنگ لگتا تھا۔میں نے کراچی سے ہی کمپیوٹر سائنسز میں بیچلر کیا ہے۔


سوال:کمپیوٹر سائنسز کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اداکاری کا خیال کیسے آیا؟
شہزاد شیخ:(ہنستے ہوئے)میں جانتا تھا کہ میں 9 سے 5 بجے والی نوکری کرنے والا بندہ نہیں ہوں والد صاحب کو اداکاری کرتے دیکھتے بڑا ہوا تھا اس لیے اداکار بننے کی خواہش فطری تھی میں نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکہ سے دو سال تک ایکٹنگ کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور پاکستان واپس آکر ڈرامہ سیریل”ڈریمز“میں اداکاری کا پہلا عملی تجربہ کیا جسے لوگوں نے پسند کیا۔


سوال:امریکہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہاں عملی تجربہ کیسا رہا؟
شہزاد شیخ:(مسکراتے ہوئے)ہمارے ہاں جذبات کا اظہار بہت”لاؤڈ“ہوتا ہے اس کے علاوہ ہمارے ہاں ڈرامے حقیقی موضوعات پر بنائے جاتے ہیں اداکاری اگر حقیقت کے قریب نہ ہو ہتو لوگ نوٹس نہیں کرتے۔۔
سوال:سکرپٹ منتخب کرتے ہوئے اپنے والد سے مشورہ کرتے ہیں؟
شہزاد شیخ:میں اپنے فیصلے خود کرتا ہوں او ر پراجیکٹ سائن کرنے کے بعد پاپا کو بتاتا ہوں کہ میں یہ سیریل کررہا ہوں یا کن لوگوں کے ساتھ کام کر رہاں ہوں میں سمجھتا ہوں انسان کو کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی خود لینی چاہیے ویسے بھی خود فیصلے کرنے کے بعد جب کامیابی ملتی ہے تو اس کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔


سوال : اکثرلڑکیاں اپنے باپ او ر لڑکے اپنی ماں کے زیادہ قریب ہوتے ہیں؟آپ کیا کہتے ہیں؟
شہزاد شیخ:میں تو دونوں کے ہی قریب ہوں میرے لیے اعزاز کی بات ہے میں جاوید شیخ کا بیٹا ہوں لیکن اگر میں سچ بتاؤں تو امی کے زیادہ قریب ہوں۔میری زندگی میں امی کی بہت زیادہ اہمیت ہے میں آج جو بھی ہو اپنی امی کی وجہ سے ہوں۔


سوال:دلہن بھی امی کی مرضی سے لائے یا اپنی؟
شہزاد شیخ:(قہقہہ لگاتے ہوئے)حنا کو پسند تو میں نے ہی کیا تھا مگر شادی سب گھر والوں کی رضامندی سے کی۔
سوال:آپ کی فیملی کے بہت سے لوگ شوبز میں ہیں تو کیا کبھی حنا کو شوبز کی چمک دمک نے متاثر نہیں کیا؟
شہزاد شیخ:نہیں حنا کو شوبز میں آنے کا کوئی شوق نہیں ہے وہ خود وکیل ہیں اور اپنے کیرئیر میں کامیاب ہیں۔


سوال:لیکن حنا آپ کے کام پر تبصرہ تو کرتی ہوں گی؟
شہزاد شیخ:ہاں وہ میرے سارے ڈرامے دیکھتی ہیں بلکہ میں اپنے سارے سکرپٹ بھی حنا سے شئیر کرتا ہوں۔اسے بتاتا ہوں کہ میں فلاں ایکٹرس کے ساتھ یہ ڈرامہ کرنے والا ہوں بعض اوقات میں کسی سکرپٹ کو منع کردوں تو حنا مجھے مناتی ہیں کہ مجھے یہ کرنا چاہیے اس طرح جب میں نے”محبت تم سے نفرت ہے“کا سکرپٹ پڑھا تو مجھے مزا نہیں آیا میں نے طے کیا کہ میں یہ ڈرامہ نہیں کروں گا لیکن پھر حنا نے کہا نہیں مجھے یہ کرنا چاہیے۔


سوال:آپ دونوں دن بھر گھر سے باہر رہتے ہوں ایسے میں بیٹے کی دیکھ بھال کس کی ذمہ داری ہیں؟
شہزاد شیخ:حنا کی فیملی بھی کراچی میں رہتی ہیں اور میر ی بھی ویسے بھی شاہ میر اپنے ننھیال اور ددھیال دونوں کا لاڈلا ہیں اس لیے سب مل جل کر اس کا خیال رکھتے ہیں میں رات کو اسے گھماتے کے لیے ضرورلے کر جایا کرتا ہوں ہمارے لیے ویک اینڈ تو اہم ہی ہوتے ہیں لیکن اداکاروں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اگر آپ 10,15 مسلسل مصروف رہیں تو 2,4 دن کا بریک بھی مل جاتا ہے تو میں شاہ میر کو زیادہ وقت دیتا ہوں۔


سوال:آپ کی ساتھی اداکارؤں کے حوالے سے حنا کو شکایت تو نہیں ہوتی؟
شہزاد شیخ:نہیں حنا ایسی بالکل بھی نہیں ہیں الحمد اللہ ہم دونوں میں بہت زیادہ ہم آہنگی ہے اس لیے ہمیں روایتی میاں بیوی جیسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
سوال:آپ کی پسندیدہ اداکارئیں کون ہیں؟
شہزاد شیخ:میں نے عائزہ کے ساتھ کافی کام کیا ہے اس کے علاوہ اقراء کے ساتھ ”چھوٹی سی زندگی“ بڑاہٹ ہوا۔

آج کل کبریٰ خان کے ساتھ الف اللہ اور انسان بہت پسند کیا جارہا ہے اس کے علاوہ ایمن بھی اچھی ہیں۔
سوال: سینئر اداکاروں میں کون پسند ہیں؟
شہزاد شیخ:سینئر اداکاروں میں جو پسند ہیں ان میں سے زیادہ ترکے ساتھ کام کرنے کا موقعہ نہیں ملا جن میں محمد علی وحید مراد،اور شفیع محمد جیسے بڑے نام ہیں اس کے علاوہ ندیم بیگ مجھے پسند ہیں میں سمجھتا ہوں ہم جیسے ینگ اداکاروں کو ان بڑے اداکاروں جیسا بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ اپنلے کام میں یکتا تھے اور ہیں ہاں ہم ان کے کام سے سیکھ ضرور سکتے ہیں اس لیے ان کی نقل کرنے کی بجائے ان سے سیکھنا چاہیے۔


سوال:فیملی کے ساتھ باہر جائیں اورکوئی پرستارالٹی سیدھی فرمائش کردے برا تونہیں لگتا؟
شہزاد شیخ:(مسکراتے ہوئے)پرستار صرف سیلفی یا آٹو گراف کی فرمائش ہی کرتے ہیں اس لیے برا نہیں مانتا کیونکہ یہ اعزاز کی بات ہے مجھے تو ان لوگوں کی سمجھ ہی نہیں آتی جو پرستاروں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں آخر پر ستار ہی تو ہمیں سٹار بناتے ہیں اس لیے بھلا نخرے کی کیا بات ہے؟میں بہت خوش ہوتا ہوں اور سب سے بہت خوش اخلاقی سے ملتا ہوں اکثر لڑکیوں کو فون نمبر مل جاتا ہیں تو وہ فون کرتی ہیں میرے پاس وقت ہو تو بات کرلیتا ہوں ورنہ معذرت کرلیتا ہوں بعض اوقات اپنی بیوی کے سامنے بیٹھ کر ہی بات کرتا ہوں۔


سوال:سنا ہے آپ کھانے پینے کے کافی شوقین ہیں تو کیا حنا بھی آپ کے لیے کوئی خاص اہتمام کرتی ہیں؟
شہزاد شیخ:بالکل میں بہت فوڈی ہوں حنا خیال تو رکھتی ہیں لیکن وہ کوکنگ سے زیادہ بیکنگ کرتی ہیں لیکن جب فرمائش کروں تو میری پسند کے کھانے بھی بناتی ہیں مجھے سری پائے،آلو گوشت،اوربھنڈی بہت پسند ہیں امی کے ہاتھ کا کڑاہی گوشت بھی بہت اچھا لگتاہے بابا بھی بہت اچھی کوکنگ کرتے ہیں بلکہ جب وہ کھانا بناتے ہیں تو کسی کوبھی کچن میں آنے نہیں دیتے اورکہتے ہیں کہ میں خود ہی” سرو“ کروں گا میں اکثر ان سے کہتا ہوں آپ ریسٹو۹رینٹ کھول لیں بہر حال لاہور جانا ہوتو ہمارے ناشتے بہت سپیشل ہوتے ہیں ویسے بھی سلیم چچا سے بچپن سے دوستی ہیں اس لیے ان کے ساتھ میں لاہور کے ناشتے بہت انجوائے کرتاہوں میراخیال ہے جب آپ کسی نئی جگہ جائیں تو وہاں کے خاص کھانے ہی کھانے چاہیں بعض لوگ دوسرے ملکوں میں جاکر پاکستانی کھانے تلاش کرتے ہیں مجھے لگتا ہے اس طرح ٹریولنگ کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔


سوال:اچھا توا ٓپ کو گھومنے پھرنے کا شوق بھی ہیں؟
شہزاد شیخ:بالکل!مجھے سیاحت کا بہت شوق ہیں کیونکہ سیروتفریح سے آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں نئے نئے لوگوں سے ملنا نئی نئی جگہوں کے بارے میں جاننا مجھے بہت اچھا لگتاہے پاکستان میں مجھے بھوربن،ناران،کاغان، اور نتھیا گلی بہت پسند ہیں ویسے یہ وہ جگہیں ہیں جہاں میری بچپن کی یادیں ہیں۔

چھٹیوں میں ہم سب کزنز مل کر ان جگہوں پر جایا کرتے تھے اب بھی میں جب یہاں جاتاہوں تو وہ بچپن کی پیاری پیاری یادیں بہت ستاتی ہیں پاکستان کے علاوہ مجھے تھائی لینڈ،نیو یارک،سان رفرانسسکو ،لندن،اور سڈنی بہت پسند ہیں،میں اور حنا جب بہت زیادہ مصروفیات کے بعد ایک دوسرے کووقت نہیں دے پاتے تو موقعہ ملتے ہی گھومنے نکل جاتے ہیں کچھ عرصہ پہلے ہم پہلی مرتبہ شاہ میر کے ساتھ تھائی لینڈ گئے ایک ہفتہ خوب انجوائے کیا آج کل ہم سب دوست مل کر روس،سری لنکا،،ترکی،اور برازیل کا ٹور پلین کررہے ہیں۔


سوال:شاپنگ کرنا کیسا لگتا ہے؟
شہزاد شیخ:اچھا لگتا ہے بلکہ میں اپنی شاپنگ خود ہی کرتا ہوں ڈراموں کے لیے بھی میری وارڈروب میری اپنی ہی ہوتی ہیں کیونکہ میں سائز اور فٹنگ کے حوالے سے قطعاً سمجھوتا نہیں کرسکتا یعنی مجھے بہت زیادہ کپڑوں کی ضرورت ہوتی ہیں۔ملک سے باہر جاتا ہوں تو حنا اور شاہ میر کے لیے سپیشل شاپنگ کرتا ہوں فیملی کے لیے گفٹس خریدنا مجھے اچھا لگتا ہے:
سوال:آپ نے اپنے والد کے ساتھ بھی کافی کام کیا مومل کی طرح آپ کو بالی دوڈ سے آفر نہیں آئی؟
شہزاد شیخ:دونوں ملکوں میں کشیدگی سے پہلے آفر ز تو آتی رہی ہیں مگر میں سمجھتا ہوں جب تک کوئی موزوں کردار نہیں ہوگا میں نہیں کروں گا میں ایک مرتبہ انڈیا بھی گیا تھا لوگوں نے وہاں بہت عزت دی ٹیکسی والے پیسے نہیں لیتے تھے گول گپے کھانے گیا تو اس نے بھی پیسے نہیں لئے۔

میرا خیال ہے آرٹ اور سیاست کو مکس نہیں کرنا چاہیے ہمارے ڈرامے بہت مضبوط ہیں یہاں لوگ ہمیں ستار بناتے ہیں ایسے میں ہم صرف انڈیا میں کام کرنے کے لالچ میں کسی معمولی کردار کو قبول کیوں کریں؟
سوال: پاکستان میں بننے والی فلموں کے بارے میں کیا کہیں گے؟
شہزاد شیخ:ہماری ڈرامہ انڈسٹری کا انڈیا سے کوئی مقابلہ نہیں اس طرح ہماری فلم انڈسٹری ابھی انڈیا سے مقابلہ نہیں کرسکتی اس لیے ابھی جیسی بھی فلمیں بن رہی ہیں ہمیں فلم انڈسٹری کو سہارا دینے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔


سوال : مستقبل کے بارے میں کیا سوچاہے؟
شہزاد شیخ:کافی چیزیں پائپ لائن میں ہیں لیکن کہتے ہیں ناں کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اوروہ اسی وقت انجام پاتی ہیں کچھ فلموں کے سکرپٹ زیر غور ہیں اور ڈراموں میں اداکاریی کا سلسلہ تو رواں دواں ہے۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :