چالباز بننا چاہتی ہوں

فلم اور ٹی وی اداکارہ نمرہ خان کہتی ہے کہ ڈائریکٹرز مجھے رونے دھونے والے کرداروں میں پسند کرتے ہیں تاہم اب میں ایک چالباز لڑکی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہوں

جمعہ 30 مارچ 2018

ہما میر حسن
اپنی عام ز ندگی میں وہ گلیمر کوسوں دور ایک سادہ سی شخصیت کی حامل ہیں اپنی دلکش مسکراہٹ چمکتی ہوئی جلد خوبصورت بال پل بھر میں ہر نظر کی توجہ کا مرکز بننے والی اداکارہ نمر ہ خان1992 کو کراچی میںپٹھان فیملی کے ہاں پیدا ہوئی وہ اپنے خاندان میں سے شوبز انڈسٹری میں قدم رکھنے والی پہلی لڑکی ہے۔انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک کمرشل سے کیا اور پھر چھوٹی سکرین کا حصہ بن گئیں۔نمرہ نے ”شریک حیات خواب تعبیر،کیسی خوشی لے کر آیا چاند،چھوٹی سے زندگی،کس دن میرا ویا ہووے گا؟میرے خدا،باغی ،الف اللہ اور انسان اور مہربان جیسے کامیاب ڈراموں میں کام کیا۔2014 میں نمرہ اپنے کیرئیر کئے عروج پر خوفناک کار ایکسیڈنٹ کا شکا ر ہوگئی تھیں دماغ میں خون جمع ہونے کے سبب ڈاکٹر نے جواب دے دیا تھا کہ کچھ بھی ہوسکتا ہے تاہم جسے اللہ رکھے اسے کون چھکے نمرہ معجزانہ طور پر بچ گئی انہیں مکمل ٹھیک ہونے میں دو سال لگ گئے انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب وہ شوبز میں کام نہیں کریں گی تاہم اپنے مداحوں کا خیر مقدم دیکھتے ہوئے انہوں نے دوبارہ اپنے کیرئےر کا آغاز کیا۔

(جاری ہے)

نمرہ ایک بار پھر بھرپور زندگی گزاررہی ہے خوفناک حادثہ اب ان کے لیے قصہ ماضی بن چکا ہے۔2016 میں وہ چھوٹی سکرین کے ساتھ ساتھ بڑی سکرین کا حصہ بھی بنیں اوریکے بعد دیگرے دو فلوں”بلائنڈ اور سایہ خدائے ذوالجلال“ میں نظر آئیں۔فلمی ناقدین کے مطابق بہت کم ٹی وی اداکار بڑی سکرین کے لئے موزوں رہتے ہیں تاہم نمرہ کا شمار ان اداکاراﺅں میں ہوتا ہے جو اپنی پرفارمنس سے کہیں بھی جگہ بنالیتے ہیں۔اپنے سات سالہ کیرئیر میں نمرہ نے منتخب مگر معیاری کام کیا وہ متعدد برانڈز کی سفیر ہے جبکہ اپنا بیوٹی سیلون بھی چلاتی ہے نمرہ تقریباً سبھی ڈیزائنرز کی فیورٹ سمجھی جاتی ہیں اور اکثر ریمپ پر ماڈلنگ کرتی نظر آتی ہیں۔
سوال:بچپن کیسا تھا کتنے بہن بھائی ہیں؟
نمرہ خان:ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہے میں چوتھے نمبر پر ہوں بچپن میں لڑکیوں والی نزاکتیں تو تھیں نہیں کیونکہ میں سارا دن ٹام بوائے بنی گھومتی رہتی تھی۔میرا بچپن میں نک نیم علی بھائی تھا میں سب کو تنگ کرتی اورلوگوں کے گھروں کی ڈور بیل بجا کر بھاگ جایا کرتی تھی۔جب میرا ہئیر سٹائل اور ڈریس لڑکوں کی طرح ہوتا تھا مجھے یاد ہے کہ ایک بار مجھے لیڈیز سیلون میں داخل نہیں ہونے دے رہے تھے پھر میں نے ماما سے بات کروائی تب کہیں جاکر مجھے پارلر میں جانے دیا گیامیں غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھی میں سکواش کے بہترین کھلاڑی جہانگیر ترین کے ساتھ سکواش بھی کھیلا کرتی تھی میں سمجھتی ہوں کہ بچپن ہوتا ہی اتنا دلفریب ہے کہ ساری زندگی اس کی خوشگوار یادیں ہمیں تروتازہ رکھتی ہے ماما پاپا نے شروع سے ہم بہنوں پر اعتماد بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ہماری شخصیت خود اعتمادی سے بھرپور ہے۔
سوال:آپ نے تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے؟
نمرہ خان:میں نے انڈس ویلی سکول آف آرٹس کراچی سے فلم میکنگ میں گریجوایشن کی ہے۔اس کے بعد بھی ایکٹنگ کے مختلف کورسز کئے ہیں میں نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ میں نے شوبز انڈسٹری کا حصہ بننا ہے۔
سوال:بہت کم دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی والدین کی خواہش پر شوبز میں آیا ہو اور وہ بھی پٹھان فیملی سے؟
نمرہ خان:بس میرے ماما پاپا کا شوق تھا کہ میں ادھر آﺅں وہ تو مجھے گلوکار بننا دیکھنا چاہتے تھے مگر میں اداکاری کی جانب آگئی میں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک کمرشل سے کیا تھا اس کے بعد مجھے 2013 میں پی ٹی وی کے ڈرامے”چبھن“ میں کام کرنے کا موقع ملا پھر مزید پراجیکٹس ملتے رہے۔
سوال:ایکسیڈنٹ کیسے ہوا تھا؟
نمرہ خان:چار سال پہلے جب میرے کیرئیر کاا بھی آغاز ہی ہوا تھا ایک دن شوٹ سے واپسی پر میری گاڑی ٹرک سے ٹکرا گئی۔دراصل میں چار دن سے مسلسل کار کررہی تھی سونے کا وقت نہیں ملتا تھا بہت زیادہ تھکاوٹ اور نیند کے جھٹکوں کے باعث میرا خوفناک ایکسیڈنٹ ہوگیا جس کے باعث میں دو سال بیڈ پرپڑی رہی۔
سوال:کیا اس کے بعد دوبارہ کیرئیر بنانے کے لیے تک ودو کرنا پڑی؟
نمرہ خان:کام میں بریک ضرور آیا تھا مگر شکر ہے مجھے کسی کے پاس جاکر کام مانگنا نہیں پڑا ۔میری صحت تھوڑی بہتر ہوئی تو مجھے چھوٹی سی غلط فہمی،میرے خدا،جب دی ویڈ،رشتہ انجانا سا،باغی ،الف اللہ اور انسان مہربان جیسے ڈراموں میں کام کیا جس میں میرے کردار بے حد پسند کئے گئے۔
سوال:آپ نے فلموں میں بھی کام کیا کیسا تجربہ رہا؟
نمرہ خان:بڑی اسکرین کا الگ ہی مزا ہے۔دراصل چھوٹی اور بڑی اسکرین پر کام کرنے کے لئے اپنے اصولوں کی قربانی نہ دینی پڑے۔میری فلمیں ”بلائنڈ لو“ اور”سایہ خدائے ذوالجلال“ایک دوسرے سے کافی مختلف تھیں۔پاکستان میں اگرچہ کم فلمیں بن رہیں ہے مگر خوشی ہے کہ معیاری فلموں کا دور شروع ہوگیا ہے۔اب پڑھے لکھے لوگ فلم انڈسٹری میں قدم رکھ رہے ہیں اور گجر کلچر سے ہماری جان چھو ٹ گئی ہے۔اب ہماری فلمیں بالی ووڈ کا مقابلہ کررہی ہے۔
سوال:سنا ہے آپ نخریلی ماڈل ہے؟
نمرہ خان:(قہقہہ لگاتے ہوئے)بالکل صحیح سنا ہے میں واقعی نخریلی ماڈل ہوں دراصل ماڈلنگ کے لئے بہت بے باک ہونا پڑتاہے اور میں اتنی بیباک نہیں ہوں سب کہتے ہیں ماڈلنگ کے لیے اپنا دماغ کھولنا پڑتا ہے تاہم میں ایسا نہیں کرسکتی۔اگر کوئی برانڈ مجھے ماڈلنگ کی پیشکش کرتا ہے تو میں اپنی مرضی سے ڈریس منتخب کرتی ہوں اور میں زیادہ تر عروسی ملبوسات پہنتی ہوں
سوال:آپ سکرین پر بہت موٹی دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقت میں آپ سمارٹ ہوں اس کا کیا راز ہے؟
نمرہ خان:دراصل میں موٹی ہی تھی میں نے حال ہی میں اپنا دس کلوگرام وزن کم کیا تھا۔جس کی وجہ سے میری شخصیت میںنمایاں فرق آیاہے۔ٹی وی ڈرامہ الف اللہ اور انسان میں نے کئی ماہ پہلے ریکارڈ کروایا تھا اس لئے میں اس میں موٹی دکھائی دے رہی ہوں البتہ میں نے اپنا وزن کم کرنے کے لئے کوئی خاص جدوجہد نہیں کی اب میں زیادہ تر جوسز اور صرف ایک ٹائم کا کھانا کھاتی ہوں میں ورزش نہیں کرسکتی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے مجھے ورزش کرتے ہوئے درد ہوتا ہے۔
سوال:پردہ سکرین اکثر رونے والی نمرہ آف سکرین کیسی ہیں؟
نمرہ خان:میں آف سکرین میں ایسی ہی ہوں ڈرامہ سیریل الف اللہ اور انسان میں میرا کردار میری شخصیت کے عین مطابق ہے۔میں عام زندگی میں بہت سادہ ہوں کسی کا دل نہیں توڑتی اور اگر کوئی میرے ساتھ بے ایمانی یا دھوکہ کرلیتا ہے تو میں رونے لگ جاتی ہوں کہ اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟کبھی کسی شخص کے نقصان کے بارے میں نہیں سو چتی اور مجھے اپنی یہی عادت پسند ہے۔میں کسی بے وفا کو بھی اپنا دشمن نہیں بناتی نہ میں کسی سے بدلہ لیتی ہوں بلکہ میں معاملات سلجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔
سوال:کیا آپ خوبصورتی کے لئے سرجری پر یقین رکھتی ہیں؟
نمرہ خان:میں سرجری کو برا تصور کرتی ہوں اگر کسی کو لگتا ہے کہ سرجری سے اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہوسکتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟انڈسٹری میں شمولیت پر کوئی کہتا ہے کہ ناک ٹھیک کروالیں یا پھر کسی کو ہونٹ بڑے یا چھوٹے کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔جو اداکارائیں یہ سمجھتی ہیں کہ سرجری سے ان کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ان کے کیرئیر بھی سنور سکتا ہے تو سرجری کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔جب میں انڈسٹری میں آئی تھی تو مجھ سے کہا گیا تھا کہ ”لاف لائن“ختم کروالیں تاہم مجھے اپنا چہرہ ایسے ہی پسند ہے سو میں نے سرجری نہیں کروائی۔
سوال:صرف کیرئیر پر فوکس کررہی ہے یا شادی کا بھی ارادہ ہے؟
نمرہ خان:(ہنستے ہوئے) ایکسیڈنٹ کے بعد ابھی تو کیرئیر پر توجہ دے رہی ہوں تاہم ایسا نہیں کہ شادی کا ارادہ نہیں میں زندگی میں ہر کام وقت پر کرنے کی عادی ہوں اورشادی بھی وقت پر کروں گی۔میں دیگر اداکاراﺅں کی طرح شادی کو خفیہ نہیں رکھوں گی کم از کم تین دن پہلے ضرور شادی کا اعلان کروں گی۔
سوال:لائف پارٹنر میں کیا خوبیاں دیکھنا چاہتی ہیں؟
نمرہ خان:میری زندگی میں سب کچھ ہے میں چاہتی ہوں کہ سسرال میں بھی مجھے سکون بھری زندگی ملے۔انسان کو چیزوں سے زیادہ زندگی میں ٹھہراﺅ اور سکون چاہیے ہوتا ہے،بس شوہر ذہنی سکون دینے والا ہوں اورکچھ نہیں چاہیے۔
سوال:سب اداکاراﺅں کو بالی ووڈ جانے کا بخار ہے کیا آپ بھی ممبئی جانا چاہتی ہوں؟
نمرہ خان:ابھی فی الوقت یہاں اپنے پراجیکٹ دیکھ رہی ہوں میں سمجھتی ہوں بالی ووڈ میں کام کرنا کوئی برائی نہیں البتہ آپ وہاں جاکر بہترین کام کریں تاکہ پاکستان کا نام روشن ہو،مجھے اکثر بالی ووڈ اداکارہ ماہیما چوہدری سے تشبیہہ دیتے ہیں ان کے خیال میں میرے چہرے پر ویسی ہی معصومیت جھلکتی ہیں اگر مجھے کوئی ایسا پراجیکٹ ملا جس میں کام کا مارجن ہوا تو میں ضرور کروں گی جیسے اداکارہ صبا قمر نے ہندی میڈیم میں بہترین اداکاری سے انڈین شائقین کے دلوں میں جگہ بنالیں۔
سوال:اداکارائیں اپنے کیرئیر کے اختتام پر کوئی سائیڈ بزنس کرتی ہیں مگر آپ تو آغاز میں ہی بیوٹی سیلون چلا رہی ہیں؟
نمرہ خان:میں نے شوبز کیرئیر کو کبھی اپنا ذریعہ معاش نہیں سمجھا یہی وجہ ہے کہ ا نڈسٹری میں اپنی مرضی کا کام کررہی ہوں۔میرا خیال ہے کہ لڑکیوں کو سب سے پہلے اپنا آپ مضبوط کرنا چاہئے میری ماما بھی چاہتی تھیں کہ میں جلد اپنے پاﺅں پر کھڑی ہوجاﺅں انہوں نے ہی بیوٹی سیلون کھولنے میں میری مدد کی تھی۔جو لڑکیاں سب کچھ چھوڑ کر شوبز میں قدم رکھتی ہیں تو انہیں کیرئیر بڑھانے کے لئے کئی سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :