جشن آزادی اور فنکار

زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ثقافتی حلقوں میں بھی پاکستان کا 71 واں جشن آزادی دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔ لاہور پاکستان کا ثقافتی مرکز ہے لہذا اس ثقافتی مرکز میں دیگر ثقافتی تقریبات کی طرح جشن آزادی کی تقریبات بھی خصوصی اہتمام کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں۔

جمعرات 9 اگست 2018

سیف اللہ سپرا
پاکستان ایک ہفتے کے بعد پورے 71 برس کا ہو جائے گا۔ وطن عزیز کی 71 ویں سالگرہ منانے کے لئے ملک بھر میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ثقافتی حلقوں میں بھی پاکستان کا 71 واں جشن آزادی دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔ لاہور پاکستان کا ثقافتی مرکز ہے لہذا اس ثقافتی مرکز میں دیگر ثقافتی تقریبات کی طرح جشن آزادی کی تقریبات بھی خصوصی اہتمام کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے لاہور کے تین بڑے ثقافتی مراکز، الحمرا آرٹس کونسل ،پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج ، آرٹ اینڈ کلچر اور والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے خصوصی پروگرام ترتیب دئیے ہیں اس کے علاوہ لاہور کے فن کار جشن آزادی کی مناسبت سے تیار کردہ لباس پہن کر مختلف تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں یہ معلوم کرنے کے لئے کہ لاہور کے ثقافتی مراکز اور فن کار کس انداز میں اپنے وطن کا 71 واں جشن آزادی منا رہے ہیں ہم نے ثقافتی مراکز کے سربراہوں اور معروف فنکاروں کے ساتھ گفتگو کی ہے۔

(جاری ہے)

جس کے منتخب حصے قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں ۔
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر جنرل صغریٰ صدف نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ دن ہمیں بڑی شان، آن اور وقار سے منانا چاہئے یہ پاکستانیوں کی زندگی میں ایک ایسا دن ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے ہم ایک آزاد قوم ہیں۔ میرے خیال میں اگر کسی نے آزادی کی قیمت دیکھنا ہو یا آزادی کا مطلب اور مفہوم سمجھنا ہو تو ان قوموں کی طرف دیکھے جو غلامی کی زندگی گزار رہی ہیں ،کس طرح انہیں مسائل کا سامنا ہے۔ ان کی بے توقیری ہو رہی ہے۔ ان کی کوئی آواز نہیں اگرچہ آج ہمیں بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے مگر اللہ کا شکر ہے ہم آزاد ہیں اپنی بات کر سکتے ہیں ہمیں فخر ہے کہ یہ ملک ہمارا ہے ہم اس کے وارث ہیں یہ گلیاں ، سڑکیں جب ہم دیکھتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری ہیں اور یہ جو اپنے پن کا تصور ہو تا ہے یہ انسان کے وقار اور اعتماد میں اضافہ کرتا ہے جب آپ بیرون ملک جاتے ہیں جتنا مرضی ترقی یافتہ ملک ہو وہاں پر آپ کے دل میں ایک عجیب سا وسوسہ رہتا ہے کہ آپ اجنبی ہیں لیکن جب آپ واپس اپنے ملک میں آتے ہیں تو ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے کہ ہم اس ملک کے مالک اور وارث ہیں۔ یہ وراثت اور ملکیت ہمیں مفت میں نہیں ملی۔ اس کے لئے حضرت قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے بہت جدوجہد کی اور لڑ کر نہیں بلکہ دلائل سے یہ ملک حاصل کیا۔ دلائل سے جب بات کی جائے تو لڑائی نہیں ہوتی آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک دوسرے کی بات اور دلیل سنیں اور اس کااحترام کریں ۔
اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ہم سب ایک ہیں ہمارے درمیان اختلافات کی دیواریں کھڑی کی گئی ہیں انہیں گرانے کی ضرورت ہے ہمیں اپنے وطن کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنا ہے اور یہ اس وقت ممکن ہو گا جب ملک کا ہر فرد ایک سپاہی کی حیثیت سے کام کرے۔ اپنے ادارے میں جشن آزادی کے حوالے سے پروگراموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دن کی مناسبت سے خصوصی پروگرام تشکیل دئیے گئے ہیں جن میں ایک بہت بڑا سیمینار ہوگا اور ملی نغموں کا پروگرام ہو گا جس میں معروف گلوکار ملی نغمے پیش کریں گے۔
والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کامران لاشاری نے پاکستان کے 71 ویں جشن آزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 14 اگست کا دن پاکستانی قوم کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ 1947ء میں اس روز برصغیر کے مسلمانوں نے آزادی حاصل کی تھی۔ لہذا یہ دن پوری پاکستانی قوم بڑے اہتمام کے ساتھ مناتی ہے۔ والڈ سٹی آف لاہور نے یہ عظیم دن شایان شان طریقے سے منانے کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دئیے ہیں۔ والڈ سٹی کے اندر سڑکوں، گلیوں کے علاوہ ، لوہاری، بھاٹی ، کشمیری، شیرانوالہ اور دیگر دروازوں کو قومی پرچموں اور بجلی کے قمقموں سے سجایا جائے گا۔ چوک مسجد وزیر خان میں ایک خوبصورت سٹیج بنایا جائے گا جس پر مقامی سکولوں کے طلبہ اور معروف گلوکار قومی نغمے پیش کریں گے۔ سکولوں کے بچوں میں تحائف اور مٹھائیاں بھی تقسیم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ بھی والڈ سٹی کے اندر مختلف مقامات پر جشن آزادی کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
الحمرا کے ترجمان نے کہا کہ لاہور آرٹس کونسل ہر سال کی طرح اس سال بھی جشن آزادی بھرپور طریقے سے منا رہی ہے۔ الحمراء کی عمارت پر ایک بڑا قومی پرچم آویزاں کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز گلوکار انور رفیع نے الحمرا میں ملی نغمہ گا کر خوب داد سمیٹی۔
معروف گلوکارہ شاہدہ منی نے پاکستان کے 71 ویں جشن آزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 14 اگست 1947ء کا دن ہمارے لئے بہت اہم ہے۔ اس دن بانی پاکستان حضرت قائداعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک الگ وطن حاصل کیا تھا۔ لہذا یہ دن ہمارے لئے بہت خوشی کا دن ہے اسے بھرپور طریقے سے منانا چاہئے۔
معروف اداکارہ زری شریف نے کہا ہے کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ پاکستان 71 برس کا ہو گیا ہے لیکن افسوس کہ ہم ان 71 برسوں میں کچھ بھی سیکھ نہیں سکے۔ آج بھی لوگ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں ملک کواندرونی اور بیرونی چلنجز کا سامنا ہے جن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
معروف گلوکار عدیل برکی نے پاکستان کے 71 ویں جشن آزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جشن آزادی منانے کا جومزا پاکستان میں آتا ہے وہ باہر نہیں میری کوشش ہوتی ہے کہ جشن آزادی اپنے ملک میں ہی منائوں۔
معروف اداکارہ میگھا نے کہا ہے کہ میں نے جشن آزادی کی مناسب سے ملبوسات تیار کرائے ہیں اور یکم اگست سے 14 اگست تک یہ خصوصی ملبوسات زیب تن کرکے تقریبات میں شرکت کر رہی ہوں۔
معروف اداکارہ ماہ نور نے پاکستان کے 71 ویں جشن آزادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں آزاد وطن دیا ہے بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو جو سلوک کر رہے ہیں وہ قابل مذمت ہے شکر ہے کہ ہم ہندوئوں سے الگ ہو گئے۔
معروف ڈھول پلیئر ارشمہ نے کہا کہ میں ڈھول کے ساتھ دنیا بھر میں پرفارم کر چکی ہوں لہذا ڈھول میری پہچان ہے اسی طرح پاکستان بھی میری پہچان ہے میں جشن آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریبات میں اپنے ڈھول کے ساتھ شرکت کر رہی ہوں اور پُرفارم کر رہی ہوں۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :