دو عیدیں، دو فلمیں، دورائے

کئی بڑے بڑے فلمی نقاد ان فلموں کے بارے میں اپنی مثبت ومنفی رائے دیتے پائے گےاور وہی معاشی قرضوں میں جکڑی پاکستانی قوم نے کم وبیش تیرہ کروڑ پندرہ لاکھ روپے خرچ کرکےاور کھڑکی توڑ رش کو سجا کےاپنی پسندیدگی کا بھی اظہار کیا

پیر جون

2 Eidain 2 Filmain
علی احمد لطیف
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس سال جہاں دوعیدوں کاچرچاہرجگہ رہاوہی اس خوشی کےموقع پردوعدد"اردوکمرشل" فلمیں بھی زبانِ زدعام رہی۔تفریح کےنام پربننےوالی یہ رومانوی اورمزاحیہ فلمیں جہاں نگارخانوں کوآبادکرنےمیں کامیاب رہی وہی روٹھی ہوئی وہ خلقت جوجذبہ حب الوطنی سےسرشارمگرفضول فلموں سےبیزار،واپس سینماگھروں کارخ کرنےپرایک بارپھرمجبورضرورہوئی۔

ویسےہوتی بھی کیوں نہ، تفریح کےنام پرایک حدمیں رہ کےانفو ٹینمنٹ،فلم انڈسٹری کےعلاوہ فی الحال کوئی اورذریعہ پہنچانےسےتورہابھی نہیں۔اسی لیےنئےپاکستان کےپرانےباسیوں نےتزک واحتشام سےعید الفطرمنانےکی جہاں خوب تیاریاں کی وہی آن لائن سہولت کا فائدہ اٹھاتے ہوئےاپنی پسندیدہ فلموں کےپہلے پہلےشو کےٹکٹوں کی بکنگ بھی کرارکھی تھی۔

(جاری ہے)


یوں توپاکستان میں اب بہت ہی عقل مندپروڈیرسرآچکےہیں جوتہواروں کےعلاوہ کم ہی کسی اورموقع پراپنی برائےنام منفردفلم ریلیزکرتےہیں۔

شاید اسکی وجہ کم وقت میں زیادہ سرمایہ کماناہویاپھرکسی عام دن میں ریلیزکرنے پرانھیں نقصان کا سامنا کرنے کا اندیشہ ہو، وللہ العلم کونسی منطق ٹھیک مگر بالی ووڈ کے خانزکی اپنائی اس روش پرعمل درآمدکرناہمارےپروڈیوسرباعثِ فخرسمجھتے ہیں۔فلم بینوں کی توجہ حاصل کرنےکیلئے"جیونیٹورک" کے زیر سایہ ہدایتکار یاسر نواز کی فلم "رانگ نمبر2" اور "ہم نیٹورک" کے زیر سائے ہدایتکار وجاہت رؤف کی فلم "چھلاوہ" نے کئی مہینوں سے اپنی اپنی فلموں کی تشہیر شروع کر رکھی تھی اوراسی مشہوری کا نتیجہ رہاکہ کئی بڑے بڑے فلمی نقاد ان فلموں کے بارے میں اپنی مثبت ومنفی رائے دیتے پائے گےاور وہی معاشی قرضوں میں جکڑی پاکستانی قوم نے کم وبیش تیرہ کروڑ پندرہ لاکھ روپے خرچ کرکےاور کھڑکی توڑ رش کو سجا کےاپنی پسندیدگی کا بھی اظہار کیا۔


 دونوں فلموں کی کہانی کی بات کی جائے تو" رانگ نمبر2 "میں یاسر نواز اور انکے بھائی دانش نواز نے ایک عام فلم بین کی حسِ ظرافت کو سمجھتے ہوئے ایک اچھا سکرپٹ تحریر کیا جس کو عوام نے پسند بھی کیا اور ہنسی میں لوٹ پوٹ ہوتےاورگھروں کو واپس جاتے ہوئے کریم اور اوبر کے کیپٹنز کو فراخ دلی سے  4 سٹار اور 5 سٹار دینے کی ماننداسے بھی اچھی ریٹنگ دیتے بخوشی گھروں کو روانہ ہوئےجبکہ "چھلاوہ" میں یوں گماں ہوا کہ وجاہت رؤف نے ٹھہر ٹھہر کر اور کچھ مزاح یاد آنے پرآن دا لوکیشن سکرپٹ میں ترمیم کرکے اسے شامل کیا تبھی تو پنجابی جگتوں کی بجائے کتا، بغیرت اور چول جیسی غیر اخلاقی گالیوں کا سکرپٹ میں بیش بہا استعمال بھی نظرآیا۔

"رانگ نمبر 2 "کی کہانی ایک وقت میں شروع ہوئی تو ہاتھ ہی نہ آئی اور پھر لگا کے وقت کی قلت کے باعث اسے سمیٹ دیا گیا جبکہ چھلاوہ فلم کی کہانی کا نہ سر نہ پیر، سمجھ ہی نہیں آیا کہ ایک سین کا دوسرے سین کے ساتھ کیا لنک ہے۔ پاکستانی فلم بینوں نے معروف اداکارہ مہوش حیات جیسے بڑے نام کواس فلم میں دیکھنےکی جو غلطی کی تو وہی اسکا ازالہ تھنڈے ٹھار سینما گھروں کی پرسکون کرسیوں پر اپنے بے وقت کے "قیلولے" مکمل کرکےکیا۔


معروف فلمی ویب سائٹ "انٹرٹینمنٹ پاکستان" کے مطاق پاکستان بھر میں  فلم" رانگ نمبر 2 "نےعید کے تین دنوں میں مجموعی طور پر 6 کروڑپچھتر لاکھ کمائے جبکہ" چھلاوہ "فلم 6 کروڑ چار لاکھ کما کر دوسرے نمبر پر رہی۔ لیکن یہ بزنس اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہوئی اس انڈسٹری کیلئے ناکافی ہے۔کیونکہ ایک عرصے سے وسائل کے نہ ہونے کا جو راگ الاپہ جارہاتھا اسکی کمی فی الحال پوری  ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں مگراسکے باوجود پاکستانی فلم ہمسایہ ملک بھارت میں بننے والی فلموں کو ٹکر دینے سے کتراتی ہیں۔

ویسے تو یہ کترانا کچھ مناسب بھی ہے کہ کہاں ایک ملک میں بمشکل سال بھر میں 50 سے کم فلمیں ریلیز ہو اور دوسرے ملک میں 500 فلموں کا ہندسہ ہمیں عددی نمبروں کی نفسیات میں مار دے۔ یوں تواس مقابلےکا  توڑ بھی ہے جس پر کم ہی عمل ہوا ہے اور وہ یہ کہ پاکستان میں فلموں کی زیادہ تعداد کے بجائے معیاری اور اچھی فلمیں بنانے کی ترغیب دینی چایئے اوراسکے ساتھ ساتھ فلم کی کہانی کو جاندار اور تخلیقاتی بنانے کی کوششوں کی طرف  فی الفور کام شروع کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

Your Thoughts and Comments