ششی کپور:سفر تمام ہوا

ممبئی کے ”واک آف دی سٹارز“نامی مقام پر ششی کپور کے ہاتھوں کے نشان بھی محفوظ کرلئے گئے تاکہ وہ بالی ووڈ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوجائیں!
حنا جاوید:

ستر کی دہائی میں بھارتی فلمی دنیا پر راج کرنے والے ششی کپور کا شمار آج بھی بالی ووڈ کے بہترین ایکٹرز پروڈیوسرز اور ڈائریکٹر میں ہوتا ہے انہوں نے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی بطور اداکار اپنے جلوے بکھیرے اور اپنے منفرد انداز اور بااثر اداکاری سے ہر کسی کو اپنا دیوانہ بنالیا۔کپور خاندان کا یہ چشم و چراغ18 مارچ1938 کو برصغیر کی ریاست کلکتہ میں پیدا ہوا ششی کپور کا اصل نام بالبیر پرتھوی راج کپور ہے بھارتی سینما کے معروف اداکار راج کپور اور شمی کپور ان کے بڑے بھائی تھے ششی نے تین سال کی عمر میں ہی اپنے والدپرتھوی راج کپور(جو بالی ووڈ کے نامور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر تھے) کے تھیٹر میں کام شروع کردیا بعد ازاں انہوں نے بطور چائلڈ سٹارز اپنے بھائی راج کپور کی فلم آگ(1948 )اور آوارہ(1951) میں اپنے بھائی کی جوانی کا رول نبھایا جسے بے حد پذیرائی ملی 1948 سے 1954 تک انہوں نے چار فلموں میں بطور چائلڈ سٹارکام کیا ششی نے اپنی تعلیم ممبئی کے ڈان باسکو ہائی سکول سے حاصل کی کچھ عرصہ انہوں نے مختلف بھارتی فلموں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام بھی کیا۔ششی نے اپنے باقاعدہ فلمی کیرئیر کا آغاز 1961 میں یش راج کی فلم”دھرم پترا“سے کیا لیکن بدقسمتی سے ابتدا میں ان کی فلمیں بری طرح ناکام رہیں البتہ فلمی مداحوں نے ان کی اداکاری کو خوب سراہا ششی کپور وہ پہلے بھارتی اداکار ہے جنہوں نے ہالی ووڈ کی دنیا میں بھی قدم رکھا اورکئی فلموں میں مرکزی کردار نبھایا جن میں جیمز ایوری کی فلم”دی ہاؤس ہولڈر“اور شیکسپئیر والا“مشہور ہوئیں بھارتی سینما میں ششی کے ستارے تب چمکے جب بھارتی اداکارہ نندا کے ساتھ ان کی کمیسٹری پرستاروں کے دلوں کو بھاگئی اور پھر ایسا سلسلہ چلا کہ ان کی ہر فلم کامیاب ہونے لگی انہوں نے اپنے تین دھائیوں پر محیط فلمی کیرئیر میں تقریباً116 فلموں میں کام کیاجن میں سے 61 فلموں میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کئے ان کی فلمی جوڑی راکھی،شرمیلا ٹیگور،زینت امان،ہیما مالنی،پروین بوبی جیسی اداکاراؤں کے ساتھ خوب پسند کی گئی اپنے فلمی کیرئیر میں انہوں نے بالی ووڈ کنگ امیتابھ بچن کے ساتھ بھی کئی فلموں میں بطور معاون اداکار کام کیاتاہم ”سوہاگ“دیوار“دو اور دو پانچ ،کبھی کبھی،جیسی کامیاب فلموں نے ششی کو صفِ اول کے اداکاروں کا درجہ دلایا۔ششی نے فلم محافظ(1994) میں شاعر جیسا منفرد کردار نبھاکر بھی لوگوں سے خوب داد وصول کی جس کی آج بھی مثال نہیں ملتی،،،،،ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ یہ کردار ششی کے سوا کوئی اور کرہی نہیں سکتا تھا ان کی فلموں کے ڈائیلاگز کو بھی بالی ووڈ میں خاص اہمیت حاصل ہے ”میرے پاس ماں ہے“جیسا مشہور ڈائیلاگ آج بھی بھارتی فلم انڈسٹری میں زبان زد عام ہے ستر کی دھائی میں ان کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ سے انہیں بھارتی اداکارراجیش کھنہ کے بعد دوسرا مہنگا ترین اداکار قرار دیا گیااپنے فلمی گھرانوں کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے 1978 میں ”فلم ولاس“کے نام سے اپنا پروڈکشن ہاؤس کھول لیا جہاں” جنون“ (1978) ”کیلوگ“(1981 اور ”36 چورنگی لین“جیسی کامیاب فلمیں بناکر انہوں نے اپنے آپ کو بہترین پروڈیوسر بھی ثابت کردیا اپنی زندگی میں وہ بہترین ادکاری اور فلمسازی کی بنا پر کئی ایوراڈ اپنے نام کرچکے ہیں جن میں نیشنل اور فلم فئیر ایوارڈ بھی شامل ہے انہیں ان کے کامیاب فلمی سفر کی بدولت 2010 میں فلم فئیر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور 2011 میں بھارتی حکومت کی طرف سے پدم پوشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا اپنے فلمی کیرئیر کے آغاز سے پہلے ششی کپور نے ایک غیر ملکی ڈائریکٹر جوفرے کینڈل کی بیٹی اور اداکارہ جینیفز کینڈل کو اپنا جیون ساتھی بنالیا جوان سے عمر میں پانچ سال بڑی تھیں ان دونوں کی پہلی ملاقات 1956 میں ہندوستان کے شہر کلکتہ میں ہوئی جہاں یہ دونوں تھیٹر پلے کے لئے آئے ہوئے تھے دورانِ شو وہ ششی کی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئیں کہ ہر روز ان کا شو دیکھنے جاتیں بالآخر1958 میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے 1978 میں ششی اور جینیفز نے مل کر”پرتھوی تھیٹر“کی بنیاد رکھی وہ اپنے شوہر کی بنائی ہوئی کئی فلموں میں بھی مرکزی کردار نبھاچکی ہے ان دونوں کے تین بچے کونال،کرن اور سنجھنا ہے تینوں بچوں نے بھی قسمت آزمائی لیکن انگریزی لب ولہجے کی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکے اب وہ پرتھوی تھیٹر کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں بدقسمتی سے جینیفز کینسر خطرناک بیماری میں مبتلا ہوکر بالآخر 1984 میں دنیا سے رخصت ہوگئیں جس کا ششی کو ایسا صدمہ پہنچا کہ ان کی صحت دن بدن بگڑتی گئی اور وہ فلموں میں بھی افسردہ کردار نبھاتے نظر آئے طویل علالت کے بعد اپنے عہدے کے نامور اور سٹائلش اداکار ششی کپور بالآخر 4 دسمبر2014 کو ممبئی کے کوکی لیبن ہسپتال میں چل بسے چونکہ ششی کپور بھارتی سینما کے لیجنڈ مانے جاتے ہیں اس لئے نومبر 2013 کو ممبئی کے ”واک آف دی سٹارز“نامی مقام پر ان کے ہاتھوں کے نشان کو محفوظ کرلیا گیا تاکہ وہ بالی ووڈ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے اُمر ہوجائیں۔