کراچی کو اس کا حق دیا جائے، حق تلفیاں پیچیدہ مسائل کو جنم دے رہی ہے،پاسبان

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2021ء) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والانے کہا ہے کہ کراچی کو اس کا حق دیا جائے، حق تلفیاں پیچیدہ مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ کراچی ایک ایسا اونٹ ہے جس کے منہ میں وفاق اور صوبہ دونوں صرف زیرہ ڈالتے ہیں۔کماؤ پوت کو تو ماں بھی دو روٹیاں زیادہ کھلاتی ہے، یہاں تو نوبت یہ ٴْآگئی ہے کہ منہ کا نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی کراچی سے دلچسپی صرف لوٹ کھسوٹ کی حد تک ہے۔ عمران خان دوربین سے کراچی کے مسائل حل نہیں کر سکتے۔کراچی پر نادر شاہی کب تک چلے گی کراچی کے وسائل کی بندر بانٹ بند کی جائے۔ اسٹیک ہولڈرز پانی سر پر سے گزرنے سے پہلے بروقت اقدامات کریں۔محرومیاں منفی جذبات کو ابھارتی ہیں۔

(جاری ہے)

قومی خزانے کو بھاری ریونیو دینے والا شہرکراچی اور اس کے عوام شدید مسائل سے دوچار ہیں۔

قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے کے باوجود اس شہر ناپرساں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ دو برس میں 49کھرب 60ارب ٹیکس دینے والے شہر کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے صرف 52ارب روپے دیئے جانا ستم ظریقی ہے۔ جابجا گندگی کے ڈھیر، ابلتے ہوئے گٹر، ٹوٹی پھوٹی خستہ حال سڑکیں، صحت کی سہولتوں کا فقدان، پانی، بجلی اور گیس کی عدم فراہمی سمیت لاتعداد مسائل سے گھرا ہوا شہر حکومتوں اور انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔

صوبائی و بلدیاتی مراکز اس شہر کے مسائل کے حل کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی کی کراچی کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ڈھکی چھپی نہیں جو ہر طرح کراچی کے وسائل کو اپنے کنٹرول میں کرکے لوٹ مار کررہے ہیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والانے مزید کہا کہ مسائل کے انبار سے نبرد آزما ڈھائی کروڑ آبادی والے شہر کے مسائل کے حل کے لیے کوئی نظام میسر نہیں ہے۔

کراچی پاکستان کاتجارتی و معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس کے باوجود انفراسٹرکچر کی زبوں حالی اور بنیادی شہری مسائل کاحل نہ ہونا سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔کراچی کے شہریوں کو بلدیاتی نظام کے نام پر دھوکے کے سوا کچھ نہیں ملا ہے۔پورے سندھ میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اور حکمران ترقی کے دعوے کر رہے ہیں۔

ملک کے دیگر حصوں کے لئے کراچی سے کما کر رقم مختص کی جا سکتی ہے تو کراچی کے لئے کیوں مختص نہیں کی جا سکتی ڈھائی کروڑ سے زائدآبادی والے شہر کے ساتھ سندھ اور وفاقی حکومت کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔یہاں سے بھاری ریونیو ملنے کے باوجود کراچی کے شہری سہولیات کو ترس رہے ہیں۔کراچی کی اس صورتحال کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم اور اب پی ٹی آئی ہیں جنہیں عوام نے بڑی امیدوں کے ساتھ بھاری اکثریت سے منتخب کیا تھا۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ انفراسٹرکچر اور صفائی کے اعتبار سے کراچی دنیا کے گندے ترین شہروں کی فہرست میں شامل ہے۔

Your Thoughts and Comments