بند کریں
خواتین مضامینملبوساتداغ دھبے دور کیجیے

مزید ملبوسات

- مزید مضامین
داغ دھبے دور کیجیے
دھلائی سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ ان پر کوئی داغ دھبہ تو موجود نہیں اگر داغ دھبے موجود ہوں تو ان کی دھلائی یا خشک شوئی Dry cleaning سے پہلے ہی دور کرلینا چاہیے بہت سے داغ پکے ہوجاتے ہیں جن کو بعد میں دور کرانا مشکل ہوجائے گا

روزمرہ زندگی میں اکثر ہمارے کپڑوں پر داغ دھبے پڑتے رہتے ہیں جن کو دور کرنا ضروری ہے بہت سے داغ دھبے گھر پر ہی دور کیے جاسکتے ہیں کپڑوں کی دھلائی سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ ان پر کوئی داغ دھبہ تو موجود نہیں اگر داغ دھبے موجود ہوں تو ان کی دھلائی یا خشک شوئی Dry cleaning سے پہلے ہی دور کرلینا چاہیے بہت سے داغ پکے ہوجاتے ہیں جن کو بعد میں دور کرانا مشکل ہوجائے گا اول تو کوشش یہ کرنی چاہییں کہ جونہی دھبہ پڑئے اسے فوراً دھولیں مثال کے طور پر خون کا تازہ داغ صرف صابن یا پانی سے ہی دور ہوجاتا ہے جب کہ یہی داغ پرانا ہوجانے اور جمنے پر محنت اور مشکل سے اُترتا ہے اگر کوئی مناسب کیمیاوی شے نہ ملے تو کوئی جاذب شت چھڑکنے سے داغ آسانی سے دور کیا جاسکتا ہے مثلاً اگر پھلوں کے داغوں پر نمک چھڑک دیا جائے تو دھبہ پھیلنے نہیں پاتا اور بعد میں دھونے سے جلد اُتر جائے گا داغ دھبے اُتارنے سے پہلے کپڑے کی ساخت اور اس کی بنائی میں جو اشیا استعمال ہوتی ہے ان سے واقفیت ہونا ضروری ہے داغ کی نوعیت کا علم بھی ہونا چاہیے اس کے علاوہ یہ بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ داغ دور کرنے کے لیے ہم جو اشیا استعمال کریں گے اس کا کپڑے پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا یعنی کپڑے کا رنگ تو نہیں اتر جائے گا یا جل تو نہیں جائے گا۔داغ دھبے کئی طرح کے ہوتے ہیں مثلاً پہلی قسم میں اشیائے خورونوش اور پھلوں کے دھبے کول تار اور گھاس کے دھبے آتے ہیں دوسری قسم میں تیل اور دیگر چکنی اشیا کے دھبے شامل ہیں تیسری قسم میں روشنائی وغیرہ کے دھبے شامل ہیں۔داغ دھبے اپنی نوعیت کے اعتبار سے بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔
۱۔پہلی قسم میں ایسے داغ دھبے شامل ہیں جو صرف صابن اور پانی کے ساتھ دھونے سے ہی دور ہوجاتے ہیں۔
۲۔دوسری قسم ان دھبوں کی ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے مختلف کیمیاوی اشیا درکار ہیں مثلاً تیزاب،الکلی اور رنگ کاٹ وغیرہ کسی بھی کیمیاوی شے کے استعمال میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے بعض رنگ کاٹ بہت تیز ہوتے ہیں ہاتھوں میں سوزش اور جلن پیدا کردیتے ہیں اس لیے ان کے استعمال میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔
۳۔تیسری قسم کے دھبے تحلیل کرکے یا جذب کرکے دور کیے جاتے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ داغ دھبے تین مختلف طریقوں سے دور کیے جاسکتے ہیں:
۱۔دھونے سے،
۲۔کیمیاوی اشیا کے استعمال اور رنگ کاٹنے سے،
۳۔جذب کرنے یا حل کرنے سے،
داغ دھبے دور کرنے میں جو اشیا استعمال ہوتی ہے ان کی تفصیل درج ذیل ہیں ،
تیزابی اشیا:
اوگزیلک ایسڈ Oxalic acid ایک زہریلا تیزاب ہوتا ہے استعمال کے دوران لکڑی کا چمچ استعمال کریں پرانے اور پکے داغ اس تیزاب سے بہت جلد اُتر جاتے ہیں،
لیموں کا نمک Salt of lemon :یہ بھی اوگزیلک ایسڈ کا سا اثر رکھتا ہے لیکن یہ بے ضرر ہوتا ہے۔
لیموں کا عرقLemon juice :لیموں کا عرق بھی بہت داغ دھبے دور کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے،
سرکہVinegar :سرکہ رنگدار کپڑوں کے لیے استعمال کرتے وقت احتیاط کریں۔
حل کرنے والی اشیا(Solvents ):
ان میں ٹھنڈا اور گرم پانی الکحل،بنزین،کاربن ٹیٹرا کلورائیڈ،ایتھر اور ایسی ٹون وغیرہ سر فہرست ہے دوسرے ہلکے محلل تارپین کا تیل سپرٹ اور پیرافین ہیں یہ تمام اشیا داغ دھبوں کو تحلیل کرکے دور کردیتی ہے ان میں سے ایسی ٹونAcetone ایسی ٹیٹ رے ان کو بھی حل کرلیتی ہے اس لیے کپڑے پر اس کا استعمال نہیں کرنا چاہیے سپرٹ اور ایتھر کے لیے بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہے چونکہ سپرٹ فوراً آگ پکڑتی ہے اس لیے اسے آگ سے دور رکھنا چاہیے۔
جاذب اشیا(Absorbents ):
جاذب اشیا بعض داغ دھبوں کو جذب کرکے دور کردیتی ہے نمک،آٹے کا چھان،میدہ،ٹیلکم پاﺅڈر،گاچنی مٹی،سفید مٹی،چاک کا پاﺅڈر،ڈبل روٹی کا برادہ وغیرہ عام جاذب اشیا ہیں۔
رنگ کاٹ(Bleachin agents) :
رنگ کاٹ عموماً ان دھبوں کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جن سے کہ کپڑے پررنگ کا نشان پڑجائے رنگ کاٹ زیادہ سفید کپڑوں سے داغ دھبے دور کرنے کے استعمال ہوتے ہیں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ،سوڈیم پربوریٹ،اوگزیلک ایسڈ،کھٹا دودھ،لیموں کارس،سوڈیم ہائپو سلفائٹ ور دھوپ عام رنگ کاٹ ہیں ان میں سے ہائیڈروجن پرآکسائیڈ یقینی طور پر ہر قسم کے کپڑے کے لیے بے ضرر ہے۔
دھبے پر کوئی چیز بھی لگانے سے پہلے ہمیشہ اس کے نیچے بلاٹنگ پیپر رکھ دیں،اس سے دھبہ پھیلے گا نہیں ۔جب تک پہلی استعمال شدہ چیز کا اثر ظاہر نہ ہو دوسری چیز ہرگز استعمال نہ کریں۔دھبے کو دور کرتے وقت پھرتی سے کام کرنا چاہیے،بعض اوقات داغ دھبے شناخت نہیں کیے جاتے ایسے دھبوں کو دور کرنے کے لیے سب سے پہلے ٹھنڈے پانی سے دھوئیں اگر اس سے داغ صاف نہ ہو تو پھر گرم پانی استعمال کرکے دیکھیں اگر اس سے بھی کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو تو پھر کسی الکلی کے محلول سے دھوئیں اگر کوئی اثر نہ ہو تو تیزابی محلول لگائیں اگر اس سے فائدہ نہ ہو تو کوئی بھی اپنے میں حل کرنے والی شے Solvents سے داغ یقینا دور ہوجائے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے