Fashion Se Beniazi

فیشن سے بے نیازی

ہفتہ نومبر

Fashion Se Beniazi
راحیلہ مغل
آج کل جہاں پوری دنیا میں وسائل ضائع ہونے کے خلاف مختلف قسم کی مہمیں چلائی جارہی ہیں،قومیں پانی کے بحران میں مبتلا ہیں ،پلاسٹک کے شاپنگ بیگوں کا استعمال کم سے کم کرنے کی کوشش ہورہی ہے،سگریٹ نوشی کم کرنے کی خاطر اس پہ گناہ ٹیکس تک لگایا جارہا ہے،بجلی بچانے کی مہمیں آئے روز چلتی ہیں ،وہیں کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کپڑوں کے بدلتے فیشن پر بھی ایسی ہی ایک نظر ڈال سکیں؟
سرمایہ دار نظام کی اس دوڑ میں ایک اہم بات یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے آس پاس سے لاعلم ہوتے چلے گئے۔

آپ کا بچہ کیا پہن رہا ہے،آپ کس طرح ہر سال نئے کپڑے خریدنے پر مجبور ہیں،آپ کے جوتے پھٹنے سے پہلے کیسے بدلوائے جاتے ہیں، یہ سب کچھ اس قدر غیر اہم دکھائی دیتا ہے کہ اس بارے میں سوچنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔

(جاری ہے)


ایک زمانے میں کپڑے یہ سوچ کے خریدے جاتے تھے کہ ان میں دیرپا ہونے کی خوبی کس حد تک موجود ہے،یہ کتنا عرصہ پہنے جاسکتے ہیں؟
پہلے بچے کے لیے خریدے گئے کپڑے سارے بہن بھائی باری باری پہنتے تھے ،کیا آج کل بنائے جانے والے کپڑوں میں یہ خوبی موجود ہے کہ وہ اس قدر مضبوط اور دیر پا ہوں؟
خواتین کے لباس میں بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔

نانی کی خریدی گئی شال نواسیاں اوڑھتی تھیں اور دادی کی پہنی ساڑھی پوتیوں کے حصے میں آیا کرتی تھی۔ماؤں کے شرارے غرارے کئی تیوہاروں تک بہو بیٹیوں کے کام آتے تھے۔ہر تین ما ہ بعد لان کے بدلتے ڈیزائنوں کی دنیا میں اب کیا ایسا ہونا ممکن ہے؟
خاندان میں ہونے والے ہر نئے فنکشن کے لیے ایک نیا جوڑا تیار کرنے کی روایت کب تک ہم پر مسلط
رہے گی؟کیا اس بارے میں کوئی اجتماعی سوچ بروئے کارلائی گئی؟
اب یہ مسئلہ مردوں کے ساتھ بھی شروع ہو گیا ہے۔

ایک سال کوٹ کے لیپل پتلے ہوتے ہیں،اگلے سال چوڑے لیپلز کا فیشن ہوتاہے۔قمیض کے کالروں کے ساتھ بھی یہی مسئلہ رہتا ہے۔
ایک سال کوٹ میں دو چاک ہوتے ہیں،اگلے برس سرے سے چاک ہی بند ہو جاتے ہیں ۔اس سال پتلون کے پائنچے تنگ ہیں تو اگلے سال بیل باٹم کا فیشن آجائے گا۔لیدر جیکٹس پچھلے رس فیشن میں تھیں تو اس سال انہیں پہن کر آپ قدامت پسند دکھائی دیں گے۔

ٹائی کی چوڑائی بھی اسی طرح سال بہ سال تبدیل ہونے پر آ گئی ہے ۔شلوار قمیض والوں کے لیے مہنگی واسکٹیں خریدنا ایک مشکل مرحلہ ہے۔
خواتین ،بچے اور مرد،تینوں کے کپڑے خریدتے ہوئے اب یہ ہر گز دماغ میں نہیں ہوتا کہ ان کپڑوں کو سال بہ سال چلایا جاتاہے ۔یہ کیابات ہوئی کہ آپ نے جو بھی کپڑے اس سال خریدے،وہ اگلے سال آپ کے پہننے کے قابل نہیں ہو گے؟
توکل ملاکے افرا تفری کے اس دور میں اپنے آس پاس کے لوگوں سے رائے جاننے کے لیے ہم نے سوشل میڈیا پر ایک سوال نامہ مرتب کیا جس کے سوالات درج ذیل تھے:
کیا فیشن کے مطابق کپڑے پہننا ضروری ہیں؟
کیا لینن کے بڑھتے ہوئے ریٹ اس سال آپ کو سوچنے پہ مجبور کریں گے؟
کیا سدا بہار کپڑوں کا دور اب کبھی واپس نہیں آئے گا؟
بحیثیت عورت آپ فیشن کو زندگی کے لیے کتنا ضروری سمجھتی ہیں؟
آئیے ان کے جوابات دیکھتے ہیں:
بنک ملاز م حلیمہ عباسی کہتی ہیں کہ فیشن کا علم ایک حد تک ہونا بہت ضروری ہے۔

اچھے کپڑے پہننے کا شوق ان کے خیال میں ہر گز برا نہیں ہے۔وہ ذاتی طور پر فیشن کو زیادہ نہیں اپنا تیں مگر اس پہ نظر ضرور
رکھتی ہیں۔لینن کے بڑھتے ریٹ ان کے لیے بھی ہر سال بہت سارے لمحات ہائے فکر یہ پیدا کرتے ہیں۔ان کے خیال میں اگر کپڑے کا معیار اچھا ہے،پرنٹ خوبصورت ہے،رنگ دلکش ہیں تو پھر اس بات کی اہمیت باقی نہیں رہتی کہ سامنے کون سا برانڈ موجود ہے۔

کم قیمت میں بھی اچھا کپڑا خریدنا ممکن ہو سکتاہے ۔حلیمہ عباسی کے مطابق سدا بہارکپڑوں کا دورہمیشہ رہے گا اور خاص طور پہ کالے رنگ والے کپڑوں کی اہمیت تو ہر دور میں ہوتی ہی ہے۔
ایمان حسن کے مطابق فیشن والے کپڑے پہننا بالکل ضروری نہیں۔ان کے خیال میں تو ڈیزائنرز نے پوری کپڑا مارکیٹ ہائی جیک کر لی ہے۔انہوں نے 2008ء کے آس پاس کا دور یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ سارے مسائل نہیں ہوتے تھے۔

کپڑوں تک عام انسان کی رسائی آسان تھی اور رنگ رنگ کی لینن موجود نہیں تھیں۔’ہم جتنے زیادہ انڈر ڈویلپڈ ہیں‘غریب قوم ہیں، اتنی ہی تیزی سے ہمارے یہاں فیشن تبدیل ہوتے ہیں۔ ایک سیزن میں قمیض کی لمبائی گھٹنوں سے اوپر ہوتی ہے ،اگلے سیزن میں قمیض پیروں تک آرہی ہوتی ہے۔ایک سال کے فیشن میں پائجامہ اے لائن ہوتاہے ،چھ ماہ بعد ہی وہ فلیپر میں بدل جاتاہے۔

فیشن کا اس تیزی سے بدلنا اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جانا کوئی صحت مند عمل نہیں ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی انعم قریشی کہتی ہیں کہ فیشن سے اپ ڈیٹ رہنا بہت ضروری ہے ۔لاہور سے تعلق رکھنے والی انعم جو صحافت سے وابستہ ہیں،ان کے مطابق اگر آپ جاب کرتی ہیں تو ٹرینڈز کے ساتھ چلنا آپ کے لیے بہت ضروری ہوتاہے۔کپڑے فیشن کے مطابق ہوں تو آپ کی شخصیت نکھر کے سامنے آتی ہے۔

’میں زیادہ برانڈ کا نشس نہیں ہوں۔ہمارے لاہور میں آپ لبرٹی مارکیٹ جائیں تو آپ کو ایک سے بڑھ کر ایک کرتے مل جاتے ہیں۔ان کا کپڑا بھی زیادہ اچھا ہوتاہے۔انعم کے مطابق سدا بہارکپڑوں کا دور اب واپس آجانا ممکن نہیں ہے۔
رابعہ اکرم خان کا تعلق پشاور سے ہے۔آٹھ برس سے بسلسلہ روز گار وہ اسلام آباد میں اقامت پذیر ہیں ۔انہوں نے فیشن کے بارے میں کہا کہ آپ کو دنیا کے ساتھ تو بہرحال چلنا ہوتاہے ورنہ آپ عجیب سے لگتے ہیں۔

’میری بات کریں تو کبھی کبھی میں فیشن کے خلاف جاکے بھی کپڑے پہن لیتی ہوں لیکن ورکنگ ومن ہوتے ہوئے اور خاص طور پہ اسلام آباد میں رہ کر ایسا کرنابہت مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا،جب تک لینن کے ریٹ پانچ سات ہزار تک ہوتے تھے۔میں آرام سے خرید لیتی تھی ،پچھلے سال یہ گیارہ بارہ ہزار روپے تک پہنچ چکے تھا۔اب ایسا ہونا مشکل ہے۔درزی کو اپنا ڈیزائن سمجھا کر خود سے نت نئے کپڑے بنوانا ان کے خیال میں اب زیادہ بہتر آئیڈیا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-02

Your Thoughts and Comments

Special Clothing Tips For Women article for women, read "Fashion Se Beniazi" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.