بند کریں
خواتین مضامینملبوساتکپڑوں کی دھلائی یا لانڈری

مزید ملبوسات

پچھلے مضامین -
کپڑوں کی دھلائی یا لانڈری
ہمارے کپڑے صاف ستھرے اور اُجلے ہوں میلے کچیلے کپڑے جہاں ہماری صحت کو خراب کرتے ہیںوہاں ساتھ ہی پھٹ بھی جلد ہی جاتے ہیں اور ہماری شخصیت کا غلط تعارف کرواتے ہیںعام طور پر کپڑے میلے ہوتے ہی لانڈری بھیج دیے جاتے ہیں

جسم کی حفاظت خوش پوشی اور گھر سے باہر سماجی تقریبوں میں شرکت کے لیے ضروری ہے کہ ہم کپڑے پہنیں اور اس سے بھی زیادہ ضروری یہ امر ہے کہ ہمارے کپڑے صاف ستھرے اور اُجلے ہوں میلے کچیلے کپڑے جہاں ہماری صحت کو خراب کرتے ہے وہاں ساتھ ہی پھٹ بھی جلد ہی جاتے ہیں اور ہماری شخصیت کا غلط تعارف کرواتے ہیںعام طور پر کپڑے میلے ہوتے ہی لانڈری بھیج دیے جاتے ہیں یا دھوبی کو حالانکہ جتنی احتیاط گھر پر دھلائی کرنے میں ہوسکتی ہے اتنی دھوبی یا لانڈری والا نہیں کرسکتا اکثر خواتین کو یہ شکایت ہوتی ہے”کمبخت دھوبی نے نئی کی نئی شال جلا لایا“اتنی خوبصورت کیمرک کی قمیض کے رنگ پھٹا دیے۔اور یوں قیمتی شے نہ صرف برباد بلکہ ستیاناس ہوکر رہ جاتی ہے اس کے علاوہ ایک بات اور بھی ہے وہ یہ کہ دھوبی کے پاس جانے کس کس کے اور کہاں کہاں سے دھونے کے لیے کپڑے آتے ہیں اور کتنے لوگ بیمار ہوتے ہیں مریضوں کے کپڑوں میں کروڑوں جراثیم ہوتے ہیںتو جہاں ان کے کپڑے دھلتے ہیں وہاں ہمارے بھی دیکھنے میں یہ دھلے کپڑے صاف اور اُجلے دکھائی دیتے ہیں مگر ناپاک اور بیماری پھیلانے میں مدد دینے والے ہوتے ہیں آج پھیلتی ہوئی بیماریوں کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ دھوبی یا لانڈری والے بیماروں اور تندرستوں کے کپڑے الگ الگ نہیں دھوتے آپ گھر میں عمدگی سے دھوسکتی ہے کہ بچت بھی ہو اور کپڑا بھی صحیح اور ٹھیک ٹھاک رہے اور جراثیم سے بھی ناپاک ہوجائے،سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ کپڑوں میں میل کس طرح کی جمی ہوتا ہے ہوا میں گرد اور دھوئیں وغیرہ کے ذرات ہوتے ہیں وہ ہوا کی نمی اور آبی بخارات میں مل کر کپڑوں کے سوراخوں میں آہستہ آہستہ جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اتنے جمع ہوجاتے ہیں کہ کپڑوں پر گرد کی تہیں نظر آنے لگتی ہے اور کپڑا میلا ہوجاتا ہے کپڑوں کو صاف کرنے کے لیے سب سے پہلے پانی درکار ہوتا ہے شاید آپ کو معلوم نہ ہوکہ پانی دو طرح کا ہوتا ہے بھاری پانی اور ہلکا پانی،
بھاری پانی:
بھاری پانی میں زمین کے نمکیات شامل ہوتے ہیں اس کی پہچان یہ ہے کہ اگر ہم اس میں صابن حل کرنا چاہیں تو بہت دیر کے بعد حل ہوگااور جھاگ نہیں اٹھیں گے بلکہ صابن کی پھٹکیاں سی بن جائیں گی اس طرح نہ صرف صابن ضائع ہوگا بلکہ صابن کے ساتھ پانی میں جمع شدہ نمکیات مل کر کپڑے پر جمع ہوجائیں گے اور کپڑا صاف نہیں ہوسکے گا،بھاری پانی دو قسم کا ہوتا ہے:عارضی بھاری پانی اور مستقل بھاری پانی عارضی بھاری پانی میں کیلشیم ہائی کاربونیٹ اور میگیشیم پانی کاربونیٹ جیسے نمکیات موجود ہوتے ہیں اس قسم کا بھاری پانی صرف ابالنے سے ہی ہلکا ہوجائے گا پانی کا مستقل بھاری پن کیلشیم سلفیٹ،میگنیشیم سلفیٹ کیلشیم کلورائیڈ اور میگنیشیم کلورائیڈ کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے اس قسم کا بھاری پن دور کرنے کے لیے سب سے آسان ترکیب یہ ہے کہ پانی میں دھوبی سوڈا یعنی سجی ملا کر گرم کریں پانی ہلکا ہوجائے گا۔
ہلکا پانی:ہلکا پانی وہ پانی ہے جو تھوڑا سا صابن ڈالنے سے بھی جھاگ دینے لگے اس پانی میں کوئی نمکیات شامل نہیں ہوتے ایسا پانی کپڑے دھونے کے لیے موزوں ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ کپڑے دھونے سے آپ ملاحظہ کریں کہ پانی ہلکا ہے یا بھاری اگر پانی بھاری ہو تو اس کا ہلکا کرکے استعمال کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے