Mosaam E Garma K Dilkash Pehnawe

موسم گرما کے دلکش پہناوے

جمعہ جولائی

Mosaam E Garma K Dilkash Pehnawe

راحیلہ مغل
لباس سازی کا فن ہنر مند اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کا ایسا جوہر ہے جو کئی نسلوں کو متاثر کرتا ہے اور مخصوص رجحان کو فروغ دیتا ہے۔دراصل د لکش اور منفرد نظر آناہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے ۔اس لئے کوئی موقع ہو خواہ تعلیمی سر گر میوں کے لئے جامعہ اور پروفیشنل کالجز تک ہی کیوں نہ جانا ہو لڑکیاں اوروں سے ممتاز نظرآنا چاہتی ہیں ۔

عیدالفطرسے عیدالاضحی کے بعد تک شادیوں کا موسم شادیانے بجاتا ہے شہنائیوں کی گونج تو دلہن اور دولہا کے گھر تک سنائی دیتی ہے۔
نوجوان لڑکیاں اور خواتین اچھی طرح ونڈوشاپنگ کرکے نئے اور جدید تررجحانوں کی جانکاری رکھتی ہیں۔مایوں اور مہندی کی تقریبات میں روایتی شلوار قمیض،غرارے،شرارے اور پشوازیں پہنی جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

خوشیوں کے موقع پر جی چاہتا ہے کہ خوب آراستہ ہوا جائے۔

اچھا لباس پہناجائے اور دھنک کے رنگوں سے کچھ رنگ چراکے دامن میں بھرلئے جائیں۔اس سلسلے میں فیشن شوز سے بھی بھر پور مددلی جاتی ہے کیونکہ یہ فیشن شوز ہماری تربیت اس طرح کرتے ہیں کہ ان میں بنیادی میٹریل کپڑے سے لے کر سلائی ،تراش خراش ،رنگوں کے امتزاج اور آرائشی نقطہ نظر سے جو بناوٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
ڈیزائنرز کی تخلیقیت اور رجحان سازی کی جھلک نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے ۔

اس آرٹیکل میں ہم ایسے ہی جدید رجحانات سے متعلق چند سطور شائع کررہے ہیں جن کی مدد سے تقریبات کے ملبوسات کی تیاری میں خاطر خواہ رہنمائی ہو سکتی ہے۔
Line-Aقمیضیں
یہ قمیضیں اب بھی پسند کی جارہی ہیں ۔ماڈرن خواتین جدید ترتراش خراش کے لمبے کوٹ مختصر گھیروالے پہنناپسند کرتی ہیں۔یہ میکسی اور کوٹ کی ملی جلی شکل ہے جس پر منقش کام ،ایمبر ائیڈری ،جھالریں اور نگینے لگائے جاتے ہیں اور یہ سادہ جارجٹ یا شیفون میں بھی بن رہے ہیں ۔

معروف ڈیزائنرز سائرہ شاکر ا،اثنا سفینا ز اور نومی انصاری نے جدید لہرکے مطابق خواتین کے تقاضوں کو خوب سمجھا ہے ،نبھایا ہے۔
پاور سوٹ اب بھی متوجہ کرتے ہیں
فرنٹ اوپن جیکٹس اب بھی پسند کی جارہی ہیں مشرقی پہناوؤں کی کلاسیکیت کی اپنی ہی دلکشی ہوتی ہے ۔انہیں ہر طرح کی جسامت والی خواتین پہن سکتی ہیں اور ہر خاتون دل آویز نظر آسکتی ہے لہٰذا آپ اپنی کلاسیکی روایتوں کو جدت دے کر قمیض کو جیکٹ کے انداز میں سلوائیے اور جماوار کاٹر اوئزر،لہنگا یا پینٹ سلوائیے۔


Belts،باذوق خواتین کا چناؤ ہیں
کبھی صرف مرد حضرات پتلونوں پر بیلٹ باندھا کرتے تھے مگر اب خواتین کے بیش بہا اور قیمتی ملبوسات کی مخصوص تراش کو واضح کرنے کے لئے رنگین ،متضاد اور ہم رنگ کپڑوں اور کامدار میٹریل کی بیلٹس لگائی جارہی ہیں۔کچھ ملبوسات ایسے ہی سلائے جاتے جن پر سلائی کے ساتھ ساتھ بیلٹ چسپاں نظر آتی ہیں۔


کچھ ٹراؤزرزاسی شکل میں سلائے جاتے ہیں کہ بیلٹ نمایاں کی جاتی ہے اور اس پر کوئی بٹن یا کوئی اور آرائشی نگینہ لگا دیا جاتا ہے کبھی صرف ایک ڈوری کو Bowکی شکل دے دی جاتی ہے ۔یہ لباس چست نہیں ہوتا مگر بیلٹ کے ذریعے اس کا گھیر کمرکے گردچست کر دیا جاتا ہے ۔یوں دیکھنے میں یہ نہایت دلآویزاور پرکشش دکھائی دیتا ہے ۔بیلٹ لگانے کا یہ رجحان خواتین کو خاصا پر اعتماد ،متحرک اور فعال ظاہر کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ ہم تقریباً میں خوش باش ،پر اعتماد ،صحت مندوتوانااور مطمئن ہی تو نظر آنا چاہتے ہیں۔


سفید رنگ کا لباس
سفید رنگ کی توگرمیوں میں کیابات ہے یہ رنگ سب پر خوب جچتا ہے ۔چونکہ اب دھوپ کی تپش میں اضافہ ہو گیا ہے ۔سورج کی کرنیں بھی چبھنے لگی ہیں ۔موسم کیا بدلا،آس پاس کا منظر بھی بدلنے لگا ہے ۔اب لباس سے خوراک تک سب کچھ بدل گیا ہے۔گرم موسم میں ہلکے اور کھلے ہوئے رنگ کے لباس پہننا اچھا لگ رہا ہے ،خصوصاً سفید رنگ تو گرمیوں میں خوب بھاتا ہے۔


آپ بھی رنگوں کی بہاروں میں سے سفید رنگ کا بھی انتخاب کریں تاکہ گرمی کی شدت میں خود کو ہلکا پھلکا اور خوش محسوس کرسکیں۔
خاص طور پر پرنٹڈ شرٹ کے ساتھ سفید دوپٹہ شلوار یا ٹراؤزرخوب بھاتا ہوا لباس ہے ۔رنگین کپڑے چاہے لان کے ہوں ،کاٹن کے ،یالینن کے،انہیں ہمیشہ ہاتھ سے دھوئیں ،واشنگ مشین میں نہ دھوئیں ،کیونکہ واشنگ مشین میں دھونے سے رنگ جلد خراب ہو جاتے ہیں۔


گرمی میں تو لباس روز ہی تبدیل کیا جاتا ہے ،اس لیے انہیں کسی اچھے واشنگ پاؤڈر میں تھوڑی دیر بھگونے کے بعد دھولیں تو یہ صاف اور پسینے کی بدبو سے پاک ہو جاتے ہیں۔
کپڑوں کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں ،تیز گرم پانی سے ہر گز نہ دھوئیں،خاص طور پر رنگین کپڑوں کو،کیونکہ گرم پانی سے ان کے رنگ خراب ہو جاتے ہیں ۔رنگین میلے کپڑوں کو زیادہ دنوں تک نہ رکھیں بلکہ فوراً بعد ہی دھولیں تو اچھی بات ہو گی اس طرح میلے کپڑوں کا ڈھیر بھی نہیں لگے گا اور وہ کیڑے مکوڑوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔


لان،کاٹن وغیرہ کے کپڑوں کو ہمیشہ ایسی جگہ پر وسکھائیں جہاں ہوا کا گزر ہو۔دھوپ میں سکھانے سے گریز کریں کہ دھوپ کی شدت کپڑوں کے رنگوں کو بہت جلد خراب کر دیتی ہے ۔اس لیے جہاں تک ممکن ہو،رنگین کپڑوں کو سایہ دار مگر ہوا دار جگہ میں ہی سکھائیں۔اگر آپ اپنے رنگین کپڑوں کو زیادہ عرصے تک چلانا چاہتی ہیں تو انہیں دھوپ اور غیر معیاری صابن یاواشنگ پاؤڈر سے محفوظ رکھیں۔


رنگین کپڑے سکھانے کے لیے اگر گھر میں سایہ دار جگہ موجود نہ ہوتو کپڑوں کو رات یا شام کے وقت میں دھو کر سکھالیں۔یوں دھوپ کی شدت سے کپڑے محفوظ ہو جائیں گے۔
دراصل لان اور کاٹن کے رنگ دھوپ سے ہی خراب ہوتے ہیں، اس لیے انہیں دھوپ سے بچانا ضروری ہے ،ورنہ آپ کا نیا سوٹ بھی دھوپ سے جلد خراب ہوکر رنگوں کو مدھم کردے گا اور آپ کا نیا سوٹ بھی پرانا لگنے لگے گا۔


اپنے لان اور کاٹن کے ملبوسات کی حفاظت کے لیے اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ اچھی طرح سے خشک ہو جائیں ،ان میں نمی نہ رہے ۔نمی رہنے سے کپڑے کا ریشہ کمزور ہو جاتا ہے ،اور پھر نمی سے فنگس بھی ہونے کا خطرہ رہتا ہے،اس کے علاوہ نمی کی وجہ سے کپڑوں میں بوبھی بس جاتی ہے ۔اس لیے کپڑوں کو ہمیشہ اچھی طرح خشک ہونے کے بعد ہی تہہ کرکے اپنے وارڈ روب میں رکھیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-07-05

Your Thoughts and Comments

Special Clothing Tips For Women article for women, read "Mosaam E Garma K Dilkash Pehnawe" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.