بند کریں
خواتین مضامینمضامین2015ء عورتوں کی سیاسی سماجی اور معاشی صورتحال پرایک نظر

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
2015ء عورتوں کی سیاسی سماجی اور معاشی صورتحال پرایک نظر
عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کسی ایک پلیٹ فارم یاتنہائی میں ممکن نہیں اس کے لئے انہیں پرامن معاشرہ حکومتی ترجیحات ٹھوس اور سازگار ماحول کی فضابھی درکار ہوتی ہے۔گزشتہ سال بھی عورتوں کی قانون سازی کے حوالے سے دیرنیہ مطالبات پورے نہ ہوئے
بشریٰ خالق:
ہرشخص بنیادی طورپراپنے مستقبل کی پیش بندی کرتاہے اسی طرح ادارے بھی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور عوام کی توقعات حکومت کے ساتھ بندھ ہوجاتی ہیں۔پاکستانی عورت بھی اس بات کی منتظرہوتی کہ آنے والے دن،سال پچھلے سالوں سے بہتر ہوں گے۔جہاں عورتیں اپنے حالات کوبدلنے کے لئے انفرادی سطح پر بہت چوکس نظرآتی ہیں وہیں وہ حکومت کی کارکردگی پرنظر رکھتی ہیں اور اپنے مطالبات کومنظم طریقے سے اداروں تک پہنچاتی ہیں ایک عورت کی نظر سے حالات دیکھیں توامن عامہ کی صورتحال توکچھ بہترہوتی نظر آئی لیکن مہنگائی ،بجلی کابحران ،گیس کی عدم فراہمی جیسے قومی مسائل کے ساتھ ساتھ عورتوں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے سال2015ء خاصامایوس کن نظرآیا۔البتہ عورتوں کی سماجی تنظیمیں اور ادارے خاصے متحرک اور فعال دکھائی دیئے اس کے باوجود انسانی حقوق پرکام کرنے والی تنظیموں کوحکومت کی طرف سے خاطر خواہ حوصلہ افزائی نہ مل سکی۔اس کے برعکس ان کواپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں بہت مشکلوں کاسامناکرنا پڑا۔عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کسی ایک پلیٹ فارم یاتنہائی میں ممکن نہیں اس کے لئے انہیں پرامن معاشرہ حکومتی ترجیحات ٹھوس اور سازگار ماحول کی فضابھی درکار ہوتی ہے۔گزشتہ سال بھی عورتوں کی قانون سازی کے حوالے سے دیرنیہ مطالبات پورے نہ ہوئے، مثال کے طورپرگھریلو تشدد،چھوٹی عمرکی شادیاں،جائیداداوروراثت کی منتقلی،مقامی حکومتوں میں عورتوں کی موئثرشمولیت ممکن نہ ہوسکی۔دیہی عورتوں کے مسائل اور معاشرتی مسائل حکومتی ترجیحات کاحصہ نہ بن سکے۔عورتوں کی تعلیم اور صحت جیسے بنیادی حقوق بھی خاطر خواہ توجہ نہ حاصل کرسکے۔عورتوں کادیرینہ مطالبہ رہاہے کہ جنسی تشدد،زیرجنسی یاغیرت کے نام پرقتل ہونے والی عورتوں کوانصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن قوانین ہونے کے باوجود پولیس،عدلیہ ان خوانین کوانصاف فراہم کرنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ ستم ظریفی تویہ ہے کہ جن عورتوں نے انصاف کے حصول کے احتجاجاََ اپنی زندگیوں کاخاتمہ کرلیاان کے خلاف حکومتی اہلکارمتعصبانہ رپورٹس تیارکرتے رہے گزشتہ سالوں کی طرح 2015میں بھی غیررسمی شعبوں میں کام کرنے والی عورتوں کوورکرزتسلیم نہ کیاگیا یہی وجہ ہے کہ ان کے معاشی حقوق کاتخفظ نہیں ہوسکا۔عورتوں کی غربت کے خاتمے کیلئے سیفٹی نیڈاورسماجی تحفظ کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کے خلاف تشدد،استحصال کونہ روکا جاسکا۔مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں کے مسائل جوں کے توں رہے اور پاکستانی عورتیں جہاں معاشرتی اور سماجی ذمہ داریاں نبھارہی ہیں وہیں وہ ہرشعبے میں اپنی صلاحیتوں کالوہابھی منوارہی ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ انہیں خوف،جبراوراستحصال سے پاک فضافراہم کی جائے ان کے کام کرنے کی جگہوں پرجنسی ہراسانی سے متعلقہ قوانین کانفاذکرکے ان کی نمائندگی اور بہترکارکردگی کیلئے راستہ ہموارکیاجاسکتا ہے۔ اس کے لئے تمام اداروں کی انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے کہ ضابطہ اخلاق اور مروجہ قوانین کااطلاق کرکے عورتوں کواعتماد کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پرروزگارکمانے کاحق حاصل ہوسکے علاوہ ازیں سماجی سطح پرریاستی سطح پرموجودایسے ادارے یاڈھانچے جوعورتوں کے حقوق کے فروغ کے خلاف بیانات جاری کریں،ان کے خلاف حکومتی سطح پرروک تھام کرنے کی اشدضرورت ہے۔ورنہ گزشتہ سال کی طرح2016میں بھی عورتوں کی جدوجہد اور عورتوں کیلئے اٹھائی جانیو الی آوازوں کے خلاف تشددکے واقعات جارہی رہیں گے اورعورتوں کی ترقی پسندنمائندوں کی آوازوں کے خلاف خطرات موجودرہیں گے۔پاکستان کاآئین اور بین الاقوامی معاہدوں کابھی تقاضا ہے کہ عورتوں کی مجموعی صورتحال کوبہتراور سیاسی ،سماجی اور معاشی تحفظ کویقینی بنانے کیلئے ریاست پاکستان ٹھوس اقدامات کے ذریعے،قوانین پاکستان کوایک پرامن اور خوشحال معاشرہ اور ملک بنانے کاخواب ادھوارہے گا۔

(0) ووٹ وصول ہوئے