بند کریں
خواتین مضامینمضامین ایلزبتھ کیوبلرراس1926ء تا․․․․․․․

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ایلزبتھ کیوبلرراس1926ء تا․․․․․․․
علم الموت (Thanatology) کے شعبے کی بانی، ماہر نفسیات ایلزبتھ کیوبلر راس نے موت اور مرنے کے بارے میں ہمارے انداز فکر کو بہت گہرائی میں متاثر کیا۔ اُس کی پہلی اہم کتاب One Death and Dying نے موت کے خلاف لوگوں کی لڑائی کے عوامل پر تحقیق۔
علم الموت (Thanatology) کے شعبے کی بانی، ماہر نفسیات ایلزبتھ کیوبلر راس نے موت اور مرنے کے بارے میں ہمارے انداز فکر کو بہت گہرائی میں متاثر کیا۔ اُس کی پہلی اہم کتاب One Death and Dying نے موت کے خلاف لوگوں کی لڑائی کے عوامل پر تحقیق۔ یہ موضوع طویل عرصہ سے نظر انداز ہوتا آرہاتھا۔ نوع انسانی کے عظیم ترین خوفوں میں سے ایک کاسامنا کرنے کی جرات کرنے کے ذریعے کیوبلر راس نے بے شمار موت گرفتہ مریضوں کو روحانی شفا پانے میں مدددی۔ اُس کے کام نے میڈیکل برادری پر بھی پائیدار اثرات مرتب کیے جو موت زدہ افراد اور اُن کے اہل خانہ کے جذباتی تقاضوں کا زیادہ خیال رکھنے لگے۔
ایلزبتھ اپنے والدین ایمی کیوبلر ولجر اور ارنسٹ ولجر کے ہاں تین اکٹھی پیداہونے والی بیٹیوں میں سے ایک تھی۔ تینوں بہنوں کو ایک جیسا لباس پہنایاجاتاا ور توقع تھی کہ وہ ایک ہی جیسی شخصیت اور طرزعمل اختیار کریں گی، لیکن کچھ بڑاہونے پر ایلزبتھ اپنی دیگر دونوں بہنوں سے مختلف رجحانات ظاہر کرنے لگی۔ وہ توانائی سے بھرپور، خود اعتماد،باغیانہ اور اوسط درجے کی طالبہ تھی جس کی ذہانت کو استادوں نے صحیح انداز میں شناخت نہ کیا۔ پندرہ سال کی عمرمیں وہ اپنے استبدادی باپ کی خواہش کے مطابق اُس کی سیکرٹری اور کھاتہ نویس کاکام کرنے کے بجائے گھر سے چلی گئی اور Lake Geneva کے قریب Romilly میں ایک بیوہ کے گھر ملازمہ کی نوکری کرلی، مگر جلد ہی واپس زیورخ چلی آئی۔ وہاں اُس نے ایک چھوٹی سی لیبارٹری اور کینٹن ہاسپٹل کے شعبہ امراض جلد(Dermatology) میں کام کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں امدادی کاموں میں حصہ لینے کے بعدایلزبتھ گھر واپس آگئی لیکن باپ نے اُس کی سرگرمیوں کونامنظور کرتے ہوئے اُسے گھر سے نکال دیا۔
ایلزبتھ فریشن بننے کا تہیہ کرچکی تھی۔ اُس نے یونیورسٹی آف زیورخ میڈیکل سکول میں درخواست دی جو قبول کرلی گئی۔ 1957ء میں گریجوایشن کے بعد ایلزبتھ نے ایمانوئیل راس نامی امریکی میڈیکل طالب علم سے شادی کرلی اور اُس کے ہمراہ امریکہ چلی گئی۔ وہاں ایلزبتھ نے Glen Cove نیویارک کے ” کمیونٹی ہاسپٹل“ میں تربیت حاصل کی۔ اُس نے طب الاطفال (Pediatrics) میں سپیشلائز کیا کیونکہ وہ بچوں کو ” سب سے زیادہ محرومی کاشکارا قلیت“ خیال کرتی تھی جنہیں عموماََ حقیقت سے بے بہرہ رکھا جاتا ہے۔ نیویارک کے “ کولمبیاپریسبی ٹیریئن میڈیکل سنٹر“ نے اسے بطور ریذیڈنٹ قبول کرلیا، لیکن وہ حاملہ ہونے کی وجہ سے وہاں کام شروع نہ کرپائی۔ اس قدر قلیل المدت نوٹس پرا س کے پاس صرف دماغی امراض کے ایک پیلک ہسپتال میں ریذیڈنسی کی راہ باقی بچی تھی اور وہ مین ہیٹن سٹیٹ ہاسپٹل میں کام کرنے چلی گئی۔ وہاں ” لاعلاج“ قرار دیے گئے مریضوں پر اپنے کام نے اسے ایک ماہر نفسیات بننے پر مائل کردیا۔ کچھ مزید کام اور سائیکو پیتھک ہاسپٹل (ڈینور)میں فیلو شپ کے بعد اُس نے یونیورسٹی آف کولوراڈو اور یونیورسٹی آف شکا گوکے میڈیکل سکولوں میں نفسیاتی علاج کا مضمون پڑھایا۔
نفسیاتی علاج پڑھانے کے دوران ہی کیوبلر راس اپنے موت گرفتہ مریضوں کے مشاہدے میں موت کے ایشو پرسوچ بچارکرنے لگی۔ جیسا کہ اُس نے لکھا ہے: موت گرفتہ مریض کے پاس بیٹھنے سے ہم انسانیت کے وسیع سمندر میں فرد کی یکتائی، اپنے فانی پن، اپنے محدود عرصہ حیات سے آگاہ ہوتے ہیں۔
1965ء میں اُس نے شکاگوکے Billings ہاسپٹل میں موت کے موضوع پر ایک سیمینار کروایا جس میں ” علاج مریضوں کے ساتھ گفتگوؤں کے ایک سلسلے “ کی تجویزدی” جس کے ذریعہ اس بحرانی صورت حال میں اُن کے خیالات واحساسات کے بارے میں بات چیت کرنا ممکن ہو جائے گا۔ نیز، دوسروں کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ بستر مرگ پرپڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ کیساسلوک روارکھنا ہے۔ اسی سیمینار کاحاصل On Death and Dying 1969ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں کیوبلر راس بیان کرتی ہے کہ مرنے والوں کے ساتھ طرز عمل کس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہاہے۔اب زیادہ تراموات گھر میں اہل خانہ اور دوستوں کے درمیان پرسکون انداز کے بجائے غیر شنا ادارے کے ماحوال میں ہوتی ہیں، اور ان اموات کو ڈاکٹروں کی تیکنیکی مہارت کی ناکامی سے منسوب کیا جانے لگاہے۔ وہ اُن پانچ مراحل کو بھی بیان کرتی جس میں سے اجل گرفتہ مریض گزرتے ہیں: نفی غصہ، سمجھوتا، ڈپریشن اور یحاب ۔ کیوبلرراس کی یہ اور بعد کی تصانیف نے ہمارے نظریہ موت پر بہت زیادہ اثر ڈالا اور مرتے ہوئے مریضوں کے ساتھ طبی شعبہ کے افراد کی جانب سے زیادہ انسانیت پسندانہ سلوک کے لیے راہ ہموار کی۔ عام ہسپتال میں طبی نگہداشت موت کامتبادل بن گئی ہے، اور علاج مریضوں کے اہل خانہ کی ڈھارس بندھانے پر زیادہ زوردیا جاتا ہے۔
ایک حالیہ تصنیف The Ultimate Challenge: AIDS(1987ء) اس بیماری کے طبی اخلاقی اور سماجی پہلوؤں اورایڈز کے ہزاروں مریض مردوں، عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کرنے کی اہمیت پر توجہ دی گئی ہے۔
On Death and Dying میں کیوبلرراس لکھتی ہے: جو لوگ اپنے اجل گرفتہ مریض کے پاس الفاظ سے ماورا خاموشی کے ساتھ بیٹھنے کی ہمت اور ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ موقع ہیبت ناک اور نہ ہی تکلیف دہ ہے، بلکہ یہ تو محض جسم کی کارکردگی کا ایک پرسکون انداز میں خاتمہ ہے۔ ایلزبتھ کیوبلرراس نے اپنی تصنیف کے ذریعہ مرنے والوں اور اُن سے محبت کرنے والوں کو موت سے خوف پر غلبہ پانے کے قابل بنایااور ہرانسان کے مقدر میں لکھے اس انجام کے ساتھ منسلک سکون کا تجربہ کرنے کی اہلیت دی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے