بند کریں
خواتین مضامینمضامینکان چھدوانا

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
کان چھدوانا
گوریوں کی بھی اولین پسند
کرن اعجاز:
کان چھدوانا مغربی لڑکیوں اور خواتین کی اولین پسند ہے۔ ہمارے ہاں تو لڑکی کی پیدائش کے فوراََ بعد ہی کان چھدوا کر کانوں میں سونے کی بالیاں یا ٹاپس پہنادیئے جاتے ہیں لیکن اس معاملے میں گوریاں پہلے پہل ذرا احتیاط کیاکرتی تھیں۔ جب تک لڑکیاں ہائی گریڈ تک نہ پہنچ جاتیں۔ گوریاں کبھی کام کا یا ناک چھدوانا پسند نہیں کرتی تھیں لیکن آج جل گوریوں میں یہ تبدیلی دیکھنے آرہی ہے اب گوریاں بھی جلد ازجلد کان چھدوانے کو پسند کرنے لگی ہیں۔
گزشتہ دنوں کینیڈا سے تعلق رکھنے والی 27سالہ کیرا میتھیو نے بتایا کہ جب میری سات سالہ بیٹی اولیویا نے ایک دن سکول سے واپس آکر مجھے بتایا کہ اس کی خواہش ہے کہ وہ اپنے کانوں میں سوراخ کروائے اور خوبصورت ائیررنگزیا ٹاپس پہن کر گھومے پھرے تو اس کے منہ سے یہ سب سن کر پریشان ہوگئی۔ مجھے یاد ہے میری والدہ نے میرے کان 14سال کی عمر میں چھدوائے تھے اور ساتھ سال کی عمر میں تو مجھے ان باتوں کا علم بھی نہیں تھا۔
آخر اس کی روز روز کی فرمائش سے تنگ آکر ایک دن میں نے اپنی فرینڈز سے مشورہ کیا کہ آخر ٹورنٹو میں ایسا کون پروفیشنل ہے جو کانوں کی چھدوائی کرے تا کہ اس کے بعد کسی قسم کے مضراثرات دکھائی نہ دیں کیونکہ مجھے ڈر تھا کہ کچھ لڑکیوں کے کانوں کے سوراخ اگر خراب ہوجائیں تو پھر وہ جلدی ٹھیک نہیں ہوتے کیونکہ کانوں پر اُبھرنے والے گومڑ پھر لمبے عرصے تک ساتھ چلتے ہیں۔
اس کے بعد میں نے انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کرنے کا سوچا میرے دوستوں اور انٹرنیٹ نے میری بہت مدد کی۔ اس پر میں ہمیشہ ان کی شکر گزار ہوں۔ میں جب ایک پروفیشنل کے پاس گئی تو اس نے مجھے اس کے بارے میں معلومات دیں کہ کسی طرح ہم ایک ائیرگن سے کانوں میں سوراخ کرتے ہیں۔
اس نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ اس کے بعد آپ کو کسی قسم کے مضراثرات دکھائی نہیں دیں گے۔ میں جب اپنی بیٹی کولے کر ان کے کلینک گئی تو وہاں کاماحول دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کیونکہ وہاں نہ صرف کانوں کی چھدوائی کا عمل جاری تھا بلکہ بچوں کیلئے ٹیٹوز بھی بنائے جاتے تھے اور اس کیلئے اسے ٹیٹوز سٹوڈیو کا نام دیاگیا تھا۔
میں نے اس سارے عمل کے دوران پیش آنے والے تجربات سے بہت کچھ سیکھا۔ اولیویا کے کان چھدوانے سے قبل میں نے اس سے کہا کہ ابھی تھوڑا عرصہ انتظار کرلو، تمہیں درد ہوگا لیکن نجانے اولیویا کے دماغ میں ایسی کیا بات تھی کہ اس نے میری ایک نہ سنی اور اپنی ضد جاررکھی۔
اولیویا نے اپنے کانوں میں ڈالنے کیلئے بلیو سٹڈ سے آراستہ گولد کے ٹاپس پسند کئے۔ ان کے سٹوڈیو میں متعارف کروائی جانے والی جیولری بھی اعلیٰ میعار کی تھی۔ سٹوڈیو آنر جولی کا رویہ اولیویا کے ساتھ بہت ہی دوستانہ تھا۔ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی بھی ہوئی مجھے سٹوڈیو میں داخل ہونے سے قبل محسوس ہوا کہ یہاں کے چارجز بھی بہت زیادہ ہونگے لیکن اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر میں نے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا لیکن جب جولی نے مجھے بل تھمایا تو میری حیرت کی انتہانہ رہی کیونکہ وہ اس قدر کم چارجز تھے کہ میں حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔
اولیویا نے کان چھدوانے کے دوران ایک منٹ کیلئے بھی کسی قسم کے خوف کااظہار نہ کیا بلکہ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ میرا یہ تجربہ اگرچہ منفرد نوعیت کاتھالیکن اس کے باوجود جولی نے میرے تمام تراندیشے اس وقت دور کرئیے جب اس نے ایک اہم بات بتائی کہ کانوں کو ایک ہفتہ تک مسلسل پانی سے دور رکھیں کوشش کریں کہ نہانے سے پرہیز کیاجائے۔اس کے علاوہ بہت زیادہ بارشوں کے موسم میں ایک بار بھی نہ سوچیں کہ آپ نے کان چھدوانے ہیں۔ کوشش کریں کہ موسم گرما کے آغاز میں ہی کان چھدوالئے جائیں تاکہ آپ ان تمام پریشانیوں سے بچ سکیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے