بند کریں
خواتین مضامینمضامینسارہ برنہارڈٹ 1844ء تا 1923ء

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سارہ برنہارڈٹ 1844ء تا 1923ء
سارہ نہارڈٹ تھیئٹرکی پہلی سپرسٹار اور اس قدر بلند قامت اداکارہ تھی ایک ثقافتی علامت بن گئی۔ وہ اداکاری کے لیے اپنے شدید شوق کی وجہ سے بھی اتنی ہی مشہور تھی جتنی کہ اپنے معاشقوں ، غیر متوقع طرز عمل اور خود پسندیوں کی وجہ سے بدنا۔
سارہ نہارڈٹ تھیئٹرکی پہلی سپرسٹار اور اس قدر بلند قامت اداکارہ تھی ایک ثقافتی علامت بن گئی۔ وہ اداکاری کے لیے اپنے شدید شوق کی وجہ سے بھی اتنی ہی مشہور تھی جتنی کہ اپنے معاشقوں ، غیر متوقع طرز عمل اور خود پسندیوں کی وجہ سے بدنا۔ برنہارڈٹ نے ایک میعار قائم کیا اور بعد کی تمام اداکاراؤں کو اُسی معیار کے مطابق پر کھاگیا۔ اُس نے زوردار، متلون مزاج سٹار کا جو ہر متعین کیا: خود میں کھویا ہوا، خود پسند اور مکمل طور پر مسحورکن۔ پہلے یا بعد کے چند ایک اداکارہ ہی اس قدر پائیداراثرات مرتب کرپائے۔
ایک عظیم رومانی المیہ اداکارہ کے طور پر برنہارڈٹ کے مآخذاپنے اختیار کردہ کرداروں جیسے ہی رنگین اور ڈرامائی پس منظر میں ہیں۔ اُس کااصل نام روزین برنارڈ تھا۔ وہ پیرس میں پیدا ہوئی اور ایک ڈچ نژاد یہودی طوائف کی بیٹی تھی۔ اُس کے باپ کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا، البتہ اُس نے لاکے طالب علم ایڈورڈ برنہارڈٹ کانام اپنے نام کے ساتھ لگالیا۔ سارہ نے پیرس میں اپنی ماں کے فیشن ایبل سیلون سے کافی پرے واقع کا نوینٹ اور بورڈنگ سکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ وہ حساس، تنک مزاج اور ڈرامائی دوروں کی شکار تھی۔ اُس نے بچپن میں باغیانہ پن اور شدید عزلت پسندی کاذوق اپنالیا۔ نامناسب رویے کی وجہ سے تین مرتبہ کانوینٹ سے نکالے جانے کے باجود اُس نے ایک راہبہ (نن ) بننے کا فیصلہ کیا۔ جب اُس کی ماں کے ایک عاشق Dus de Morny نے اُسے Comedie Francaise کی مئوقرغنا گاہ (Conservatoire) میں ایک عہدہ دلوا دیا تو وہ بطورادا کارہ کیرئیراپنانے کے بارے میں سوچنے لگی۔
1862ء میں پہلی بارسٹیج پر آمد برنہارڈٹ کے لیے زیادہ حوصلہ افزأثابت نہ ہوئی۔ پیرس میں تھیئٹر کے ممتاز ترین نقاد نے رائے دی کہ وہ ” ستواں کمراور حسین چہرے والے ایک دراز قدپرکشش لڑکی ہے وہ پراعتماد ہے اور اپنے جملے بڑے واضح انداز میں ادا کرتی ہے۔ فی الحال یہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔ جب نقادوں نے اُس کی دواگلی کارکردگیوں کو بھی تنقید کانشانہ بنایا تواُس نے خود کشی کی کوشش کی۔ کمپنی میں ایک محترمہ اداکارہ کے ساتھ شدید لڑائی کے باعث اُسے فارغ کردیاگیا۔ اب اُسے پیرس کے نسبتاََ کم اہم تھیئٹروں میں ہی چھوٹے موٹے کرداروں پر اکتفا کرنا پڑی۔ اوڈیون تھیئٹر کے لیے کنٹریکٹ اداکارہ کی حیثیت میں اُس نے جارج سینڈ، شیکسپیئر، مولیئر اور Racineکے ڈراموں میں کردار ادا کیے۔ پہلی بڑی کامیابی 1869ء میں حاصل ہوئی جب اُس نے Le Passant میں لونڈے کا کردار ادا کیا۔ Tuilleries میں نیپولین سوم اور ملکہ یوجینی کے سامنے بھی یہ کھیل پیش کیاگیا۔
فرانس پروشیا جنگ (1870-71ء) کے دوران برنہارڈٹ نے محاصرہ زدہ پیرس کو چھوڑنے سے انکار کردیا اور اوڈیون میں ایک ہسپتال کھول لیا۔ جنگ بندی کے بعد اُس نے 1872ء میں وکٹر ہیوگو کا Ruy Blas پیش کرکے زبردست کامیابی حاصل کی۔ نتیجتاََ وہ Comedie Francaise میں واپس گئی اور وہاں Racine کے Phedre اورہیوگو کے Hernani میں شان دار اداکاری کر کے خود کو باقاعدہ اداکارہ منوالیا۔ اُسے ” طلائی آواز والی“ اداکارہ کہاگیا۔ برنہارڈٹ کے شاعرانہ ذوق اور کرداروں کے ساتھ جذباتی وابستگی کو بہت سراہاگیا۔ انگلش نقاد لٹن سٹراچی نے ایک مرتبہ لکھاتھا کہ برنہارڈٹ کے منہ سے Phedre کے الفاظ سننا خود کو لافانیت کے بہت قریب محسوس کرنے اور لمحہ بھر کے لیے ابدی نور کودیکھنے جیسا ہے۔ برنہارڈٹ نے اپنے سارے کیرئیر کے دوران اس قدر جوش وجذبے کے ساتھ اداکاری کی کہ اکثر پر فارمنس کے اختتام پر بے ہوش ہو جاتی۔ سٹیج سے باہر کی زندگی میں برنہارڈٹ نے محبت اور جھگڑے بازی دونوں ہی کو ہوادی۔ وہ سفر کرتے وقت اپنے ایک ہزار سے زائد عاشقوں کے محبت ناموں سے بھرا ہواتا بوت ساتھ رکھتی، اور کبھی کبھی اُس میں سویا بھی کرتی تھی۔ سامان سفر میں خوب صورت پالتو جانوروں پر مشتمل ایک جانور خانہ بھی ہوتاتھا۔ 1894ء تک سیلون میں اُس کے مجسمے نمائش پر رکھے گئے۔ اُن کی بہت زیادہ قیمتوں نے پروفیشنل آرٹسٹوں کو پریشان کیا اور ساتھی اداکاروں کا غصہ دلایا۔ 1877ء میں وہ اپنے لیے خصوصی طورپر تیارکردہ گرم ہوا والے غبارے میں پیرس کی سیرپر گئی اور اس تجربے کو اپنے واحد ناول In the Clouds“ کی بنیاد بنایا۔ پیرس میں آنے والے سیاح اُس کی اداکاری دیکھنا لازمی خیال کرتے تھے۔ مونالیزا“ کی طرح وہ بھی قومی اثاثہ بن گئی۔ مردوں نے اُس کی خاطر ڈوئل لڑے، پادریوں نے اُس کے خلاف بیانات دیے، اور کہاجاتا ہے کہ ایک عورت نے اُس کے ایک کھیل کاٹکٹ نہ ملنے پر دل برداشتہ ہوکر خود کشی بھی کرلی تھی۔
1880ء میں برنہارڈٹ اانگلینڈ اور امریکہ کے ٹورپرروانہ ہوئی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی۔ اُس نے ایک پرائیوٹ ٹرین ” برنہارڈٹ سپیشل“ میں سارے امریکہ کی سیرکی۔ جگہ جگہ پر لوگ اُس کی ایک جھلک دیکھنے اور آٹو گراف لینے کی خاطر جمع ہوتے۔ دورہٴ امریکہ کے دوران اُس نے La Dame aux Camelias میں اپنا مشہور ترین کردار” مارگریٹ“ ادا کیا۔ ایک نقاد نے لکھا: پیرس میں جنم لینے اور پرورش پانے، اور نثرکوشاعری کاروپ دینے کی اہلیت رکھنے والی ایک خوب صورت عورت ہی اس کردار کے ساتھ انصاف کرسکتی تھی۔ تاہم وطن واپسی پر برنہارڈٹ کو شدید تنقید اور مخالفت کاسامنا کرنا پڑا۔ اہل فرانس نے محسوس کیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو غیر ممالک میں لٹاآئی تھی۔ مگر اُس نے فرانس سے پروشیائی فوجوں کے انخلا کی دسویں سالگرہ کی یاد میں ” پیرس اوپیرا“ میں منعقد کیے گئے امدادی شوی میں اداکاری کرکے رائے عامہ کو دوبارہ اپنے حق میں کرلیا۔
برنہارڈٹ نے پیرس کے متعدد تھیئٹروں میں کام کیا، پھر Theatre des Nations پٹے پر لیا اور اس کانام بدل کر Theatre Sarah Bernhardt رکھ دیا۔ 1899ء میں اُس نے ” ہیملٹ“ میں مرکزی کردار ادا کرکے سابقہ کامیابیوں کی بازگشت پیش کی۔ 1901ء میں ایڈمنڈروسٹینڈ کے تحریر کردہ L Aiglon میں نیپولین کے ناجائز بیٹے کا کردار لیا۔
اگرچہ 1905ء میں گھنٹے پرلگنے والے ایک زخم کے نتیجہ میں برنہارڈٹ کی دائیں ٹانگ کاٹنا پڑ گئی لیکن وہ فلموں اور سٹیج پربدستور کام کرتی رہی۔ وہ اُبھر تے ہوئے میڈیم یعنی فلم کی اولین سٹارز میں سے ایک تھی۔ اُس کی وفات پیرس میں ہوئی۔ جنازے کے موقع پر چھ لاکھ چاہنے والے اور پرستار پیرس کی گلیوں کی اطراف میں کھڑے تھے۔
سار برنہارڈٹ کی زندگی کسی ستارے کی بجائے شہاب ثاقب جیسی تھی۔ وہ ساٹھ برس سے زیادہ عرصے تک دنیا کے منڈپ پر چھائی رہی۔ وہ اُنیسویں صدی کی آخری عظیم اداکارہ تھی۔ چند ایک ہی اداکار اُس کی طرح سامعین کے دلوں کوموہ لینے کے قابل ہوسکے ہیں۔ آسکروائلڈ نے اُسے ” الوہی سارہ“ کہا۔ بہت سوں کی نظر میں وہ واقعی اُلوہی تھی۔ جنازے میں شامل ایک پرستار نے کہا: لافانی لوگ مرتے نہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے