Aaj Ka Bacha Kal Ka Baap

آج کا بچہ کل کا باپ

ہفتہ اگست

Aaj Ka Bacha Kal Ka Baap
بختاورخان
”آج کا بچہ کل کا باپ“ایک مشہور مثل ہے۔معاشرے اور سوسائٹی میں بچے کا مقام اتنا ہی اہم ہے جتنا کسی بڑے کا ہے بچہ نئی نسل کا نمائندہ ہے اگر صحیح تعلیم وتربیت سے محروم رہے تو آنے والی نسل اخلاقی اور دینی لحاظ سے اس قدر کمزور ہو گی کہ پوری قوم کی بقاخطرے میں پڑ سکتی ہے۔
بچے کی تعلیم وتربیت کا یہی وہ پہلو ہے جس کی خاطر ترقی یافتہ قومیں اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر تن من دھن کی بازی لگا دیتی ہیں۔

تعلیم وتربیت کے لئے ہر دور میں کسی نہ کسی طرح کا نظام قائم رہا ہے۔پہلے دور میں اساتذہ کے پاس طلبا دور دور سے چل کر آتے تھے۔اساتذہ کے پاس سالہا سال قیام کرتے تھے اور ان کے رنگ میں رنگ جاتے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ نظام تعلیم بھی بدلتا رہا اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور مشینی ہے جس میں اساتذہ اور طلبا کی تعلیم بھی کافی حد تک مشینی بن کررہ گئی ہے اساتذہ اپنی اخلاقی شخصیت کی چھاپ بچوں کے کردار پر اچھی نہیں لگا سکتے اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ سکولوں میں طلبا کی تعداد حد سے زیادہ ہے اساتذہ کے پاس بچہ بہت ہی تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرتا ہے۔

(جاری ہے)

اکثر تعطیلات بھی آتی رہتی ہیں اس لئے اساتذہ کے لئے انفرادی طور پر توجہ دینا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری طرف معاشرے میں عریاں لٹریچر،عریاں تصاویر،عریاں فلموں اور عریاں گانوں کی اس قدر بھر مار ہے کہ بچے جن میں تجسس حد سے زیادہ ہوتا ہے اور وہ نئی چیزوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اور جن کے ذہن کسی نئی چیز کو فوراً قبول کرنے کے لئے نہایت حساس ہوتے ہیں چونکہ اس معاشرے سے بیگانہ نہیں رکھے جاسکتے اس لئے جلد ہی اس فحاشی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

اس سے ظاہر ہے کہ بچوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا کوئی دانشمندی نہیں اور والدین کا ایسا سوچنا اپنے بچوں کو خود اپنے ہی ہاتھوں تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔
آج کل والدین کا کردار بچے کی تربیت میں سب سے زیادہ اہم ہے اور چونکہ معاشرے کی فحاشی کے سیلاب کے آگے بندھ باندھنا خاصا مشکل کام ہے اس لئے والدین کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔

ہمیں نہایت افسوس سے کہنا پڑھ رہا ہے کہ ابھی بہت سے والدین اس ضروری کام کی طرف متوجہ نہیں ہوئے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ والدین اپنے بچوں کو سکول میں داخل کروانے کے بعد اس قدر بے گانہ اور بے خبر ہو جاتے ہیں کہ سالہا سال تک انہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ بچہ کس درجہ میں پڑھ رہا ہے اس کے مشاغل کس قسم کے ہیں ان کے دوست کیسے ہیں اور سکول میں پڑھائی کا کیا حال ہے بعض بچے کثرت سے چھٹیاں کرتے ہیں ان کے سامنے کوئی نصب العین نہیں ہوتا اس لئے مجرمانہ کا رروائیوں میں حصہ لینے لگ جاتے ہیں لیکن والد ین کو انہیں منع کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔

ان کو فکر اس وقت ہوتی ہے جب بچے سالانہ امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں اخلاقی اور ملی نقطہ نظر سے یہ طرز عمل نہایت مجرمانہ ہے کیونکہ یہی بچے آگے چل کر نہ صرف قوم اور معاشرے کے لئے درد سر بن جاتے ہیں بلکہ خود والدین کی زندگیوں کو بھی اجیرن بنادیتے ہیں کچھ والدین ایسے بھی ہیں جو نہ صرف بچوں کی تربیت کی طرف سے غافل ہو جاتے ہیں بلکہ خود بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں جن سے ان کے بچے بگڑنے لگتے ہیں اس بات کو اچھی طرح سمجھانے کے لئے ایک مثال کچھ یوں ہے کہ ایک والد کے دوست انہیں ان کے گھر ملنے آئے تو انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہہ کر باہر بھیجا کہ جاؤ انہیں کہہ دو کہ”میرے اباجان گھر پر نہیں ہیں“کہنے کو تویہ لطیفہ ہے لیکن یہ ہنسنے کانہیں رونے کا مقام ہے۔

یہ مثال ایسے والدین کی اخلاقی حالت کو ظاہر کرتی ہے جو اپنے بچوں کے سامنے جھوٹ اور فریب کی بری مثالیں قائم کرکے بچے کی فطری نیکی اور قدرتی اخلاق کو تباہ کرتے رہتی ہیں لیکن افسوس انہیں اس نقصان کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں کہ وہ اپنے بچے کے ذہن میں کس قسم کا بیج بورہے ہیں یعنی جھوٹ کا بیج․․․․․․!!
بچے کی مثال اس پودے کی مانند ہے جسے باغبان(والدین)کی اچھی دیکھ بھال اچھی طرح پروان چڑھاتی ہے اور اس کی محنت سے یہ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر جاتا ہے جس پر میٹھے پھل لگتے ہیں ۔

اسی طرح برُی تربیت اور خراب بیج کی پیداوار بھی ناقص کڑوی اور بیکار ہوتی ہے تقریباً تمام بڑے آدمی اپنی زندگی میں کامیابی اچھے والدین بالخصوص ماؤں کے اثر سے حاصل کرتے ہیں ۔تربیت اولاد کا ایک چھوٹا سا واقعہ یہاں نقل کر دینا بے جانہ ہو گا ایسے ہزاروں واقعات سے ہماری قومی تاریخ بھری پڑی ہے۔
سرسیداحمد خان جدید تعلیم کے بانی تھے اورپاک ہند تحریک کے اولین رہنما تھے بڑے شوق سے اپنے دوستوں کو بتایا کرتے تھے کہ ان کی والدہ نے کس طرح انہیں شریف انسان کی خوبی نرمی سے سکھائی کس طرح انہوں نے اپنے ایک نوکر کو پیٹا اور وہ گھر سے روٹھ کر چلا گیا لیکن ان کی والدہ نے انہیں اپنی غلطی پر معافی مانگنے کے لئے مجبور کر دیا اگر چہ اس وقت ان کے سیکھنے کیلئے یہ بڑا مشکل سبق تھا لیکن سر سید احمد خان کو اس سے یہ فائد ہ ہوا کہ وہ مخالف کے طوفانوں اور حوادث زمانہ سے ٹکر لینے کے قابل ہو گئے۔

وہ ہمیشہ اپنے ماتحتوں اور مخالفوں پر مہربان رہے اور اس طرح بڑے آدمی بنے ۔والدین کو اپنے بچوں کی رہنمائی سے عمر کے کسی بھی حصے میں دستبردار نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے بچوں میں جذبہ اطاعت اور خدمت اس حد تک پیدا کرنی چاہئے کہ بڑا ہونے پر بھی وہ اپنے اساتذہ ،بزرگوں اور والدین کا احترام کرتے رہیں۔
بچوں کی تربیت میں سب سے ضروری اور اہم چیز اخلاق ہے ہمارا مذہب زندگی کے ہر کام میں اخلاقی پہلو پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اگر ہم اپنی زندگیوں سے اخلاقی اقدار نکال دیں تو بحیثیت قوم باوجود مادی ترقی کرنے کے آہستہ آہستہ زوال پذیر ہو جائیں گے۔

اس لئے بچوں کو سیرت وکردار کے اعتبار سے اس حد تک مضبوط کر دینا چاہئے کہ فحاشی اور گندگی کا سیلاب اس چٹان کو اپنی جگہ سے ہلاسکے اس لیے والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو برے ماحول میں اٹھنے بیٹھنے اور کھیلنے سے روکیں انہیں سچ بولنے کے لئے مجبور کریں خود بھی ایک زندہ خدا کی ہستی پر یقین رکھتے ہوئے نماز پڑھیں اور نماز کی برکات کا مشاہدہ اپنی اپنی اولاد کو بھی کرائیں۔
اس لئے والدین کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ اپنے بچوں کے سامنے ایک اخلاقی اور تعمیری نصب العین رکھیں اور اخلاقی تربیت کے لئے پہلے سے زیادہ تندہی کے ساتھ کام کریں۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-03

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Aaj Ka Bacha Kal Ka Baap" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.