Aulaad Ki Tarbiyat

اولاد کی تربیّت

Aulaad Ki Tarbiyat

ام عبداللہ
اولاد کی اچھی تربیت والدین کا بنیادی فرض ہے ۔اسلا م ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ بچے پیدا کرکے انہیں بے لگام چھوڑ دیا جائے بلکہ شریعت مطہرہ نے اس بات پر بہت زوردیا ہے کہ اولاد کی اچھی تربیت کی جائے تا کہ وہ آگے چل کر اچھے اور کار آمد انسان ثابت ہوں ۔ماں کی ذمہ داری صرف بچے کو جنم دینے تک نہیں ہوتی اصل ذمہ داری تو اس کے بعد شروع ہو تی ہے ۔


بچے کا سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے ۔اگر ماں کی گود میں علم ہے تو بچہ عالم بنے گا اور اگرماں سمجھدار ہے تو بچہ بھی سمجھدار ہوگا اور اگر ماں کی زبان پر جہالت ہے تو بچہ بھی جہالت کو آگے لے کر چلے گا ۔اس لیے ماؤں بہنوں کو علم سیکھنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔زمانہ قدیم کی کہاوت ہے ”مرد پڑھا فرد پڑھا،
عورت پڑھی خاندان پڑھا“۔

(جاری ہے)


لوگ کہتے ہیں کہ جب بچہ چار پانچ سال کا ہو گا تو اس کی تعلیم وتربیت شروع کریں گے ،یہ خیال بالکل غلط ہے ۔تربیت کا وقت بچے کے پیدا ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے ۔اگر چہ ظاہر اً اس میں کوئی عقل وشعور اور تمیز کچھ نہیں ہے لیکن نہ تو اس کے سامنے کوئی براکلمہ کہو اور نہ ہی کوئی بری حرکت کرو کیونکہ بچہ ہوش میں ہے ۔اس کا قلب سفید کاغذ کی مانند ہے ۔

آنکھ کے ذریعے جو ہےئت جائے گی،دل پہ نقش ہو جائے گی۔
اگر کوئی بری بات گولی گلوچ سنے گا، تو وہ کان کے راستے دل تک پہنچے گی اور پھر بڑا ہو کر وہ بھی ایسی ہی حرکات کرے گا اس لیے بچوں کے سامنے تہذیب اور شائستگی سے بات کریں تاکہ ان میں اچھی عادتیں جنم لیں ۔اولاد کی اچھی تربیت کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ،”اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو جہنم کی آگ سے بچا“۔

اس آیت مبارکہ میں ایک نکتہ بیان کردیا کہ پہلے اپنے آپ کو بچائے اور پھر فرمایا اپنے گھر والوں کو بچاؤ۔
آج کے والدین کہتے ہیں ہماری اولاد اچھی بن جائے لیکن خود کو نہیں بدلتے بچوں کو اچھا ماحول نہیں دیتے ۔گھروں میں خود ایسی چیزیں لا کر رکھتے ہیں جو خود ان کے اور ان کے بچوں کے اخلاق اور اعمال کے بگاڑ کی سبب بنتی ہیں ۔تو جب گھروں میں ہی گناہوں اور اللہ سے دوری اور نافرمانی کے سامان مہیا ہوں تو اولاد کے سنور نے ،سدھر نے اور نیک صالح بننے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے ۔

اس لیے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کریں اور پھر اپنے اہل وعیال کی ،جیسے اللہ تعالیٰ نے آیت مبارکہ میں ترتیب رکھی ہے کہ پہلے خود کی تربیت کرو اور بعد میں اپنے بچوں کی اصلاح پر بھی دھیان دو۔
کچھ لوگ صرف اپنی اصلاح کی فکر کرتے ہیں ۔صف اول میں نماز پڑھ رہے ہیں تہجد کی پابندی کررہے ہیں ۔اولاد گناہوں کے دلدل میں دھنسی ہوئی ہے مگر والدین کو کوئی خبر نہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پہلے حصے پہ تو خوب عمل کیا مگر اگلے حصے یعنی اولاد کی تربیت تک جانے کی ضرورت محسوس نہ کی ایسے لوگوں سے اگر ان کی اولاد کے بارے میں بات کی جائے تو فوراً سے پسر نوح والی مثال دیں گے حالانکہ وہ پورا واقعہ نہیں جانتے کہ نوح علیہ السلام نے کتنا عرصہ اپنے بیٹے کو تبلیغ کی تھی ۔


بچوں کی تربیت میں اہم چیز اچھی عادات کا پایا جانا اور بری عادات سے بچانا بھی شامل ہے ۔اگر بچہ کوئی غلطی کررہا ہے تو والدین کو چاہیے کہ پیار سے اسے سمجھائیں اسے اس برائی کے نقصانات اور گناہ سے آگا ہ کریں ۔ممکن ہے ایسا کرنے سے بچہ باز آجائے اگر پھر بھی وہ غلط عادت نہیں چھوڑتا تو ڈانٹ ڈپٹ کے ذریعے اس کی وہ غلط عادت چھڑوانے کی کوشش کریں ضرورت پڑنے پر بچوں کو صلاح کی نیت سے مارا بھی جا سکتا ہے لیکن مقصد اصلاح کرنا ہی ہو۔


بعض لوگ بچوں کی غلط عادات پر خوش ہوتے ہیں اور اس طرح ایک غلط عادت اس کی پختہ ہوجاتی ہے ۔اگر بچے نے گالی دی تو سارے گھر والے خوش ہوتے ہیں اس طرح وہ بچہ بار بار گالی دیتا جارہا ہے اور ایک برائی کو برائی سمجھنے سے عاری ہے ۔اسی طرح بچے نے اسکول جانا شروع کیا،کلاس میں کسی بچے کی چیز پسند آئی ،بچے نے اٹھا کر چھپالی ۔گھر لے آیا ،ماں نے دیکھی اور دیکھ کر نظر انداز کردیا ۔

بچے کو دوبارہ کوئی چیز چھپانے کا موقع مل گیا۔اسی طرح اس کی چوری کرنے کی عادت بن گئی۔دوسرے بچوں کی چیزیں چھپانے کی ۔قصور کس کا ؟اسی ماں کا،اگر ماں اچھی تربیت کرنے والی ہوتی تو پہلی بار ہی بچے کے پاس ایک ایسی چیز جو اس کی نہیں ہے اسے دیکھ کر فوراً پوچھتی کہاں سے آئی ؟کس سے لی ؟کیوں لی ؟
جس کی ہے ،اس واپس کرو۔ایسا کرنا گنا ہ ہے ۔بچے کو ڈر ہوتا ہے ۔

جب ایک دفعہ ایسا کرتے تو اسے دوبارہ کچھ چھپانے کا یا چوری کرنے کا موقع ہی نہ ملتا۔
اسی طرح بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جنہیں ہم یہ کہ کر نظر انداز کردیتے ہیں کہ بچہ ہے بڑا ہو گا تو سمجھ جائے گا لیکن وہ بڑا ہو کر سمجھتا نہیں ۔آپ کو سمجھا جاتا ہے آپ کی آنکھیں کھول جاتا ہے ۔اس لیے روز اول سے ہی اپنے بچوں کی بری عادتوں کو ان کے اندر سے ختم کرنے کی کوشش کریں اور اچھی عادات پیدا کریں ۔

اچھی عادات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو دلیل کے ساتھ پیار سے اپنی بات سمجھائی جائے ۔بچے کو اچھے کاموں کا حکم دینے کے بجائے بچے کے دل میں اس کام کی محبت پیدا کریں ۔بچے کو مجبورنہ کریں کہ آپ نے فلاں کام کرنا ہے بلکہ اس کے سامنے اس کام کی اور کام کرنے والوں کی تعریف کریں تا کہ اس کے دل میں محبت پیدا ہوا اور وہ خود بخود ایسا کرنے لگے۔


جیسا کہ بچوں کو اگر کہا جائے کہ فلاں بچہ اتنا اچھا ہے وہ فلاں فلاں کا م کرتا ہے ۔تو بچہ فوراً اس کا اثر لے گا ۔میرا اپنا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اگر بچوں کو زبردستی کوئی کام کہا جائے پابندی کروائی جائے سر پہ ڈنڈا کھڑا کیا جائے تو وہ بچہ وہ کام ڈر سے کرے گا لیکن ڈر ختم ۔پابندی ختم۔مثال کے طور پر بچے کو نماز پڑھنے کا کہا باپ ساتھ لے کر جاتا ہے سختی کرتا ہے اور بچہ ڈر سے نماز پڑھ لیتا ہے لیکن وہی بچہ جب شعور کی زندگی میں قدم رکھتا ہے ۔

اپنے بھلے برے کی تمیز کرے لگتا ہے ،تو وہ نماز پڑھنا چھوڑ دیتا ہے ۔کیونکہ اس کو پتا ہی نہیں کہ نماز پڑھنے پر اللہ کی طرف سے کیا کیا انعامات ملنے ہیں اور نہ اسے یہ معلوم ہے کہ اگر نماز نہ پڑھی ،تو اللہ کو کیا جواب دے گا۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اس طرح دلیل اور منطق سے کریں کہ انھیں اچھی عادات کے ساتھ ساتھ ان کے فوائدا ور بری عادات کے نقصانات کا بھی علم ہو ۔

تاریخ اشاعت: 2019-01-21

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Aulaad Ki Tarbiyat" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.