بند کریں
خواتین مضامینبچوں کی پرورش اور غلط نظریاتبچوں کے معاشرتی اخلاق

مزید بچوں کی پرورش اور غلط نظریات

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بچوں کے معاشرتی اخلاق
بچہ نیکی اور بدی کے ابتدائی اور آسان فہم تصور سے شروع عمر ہی میں آگاہ ہوجاتا ہے وہ کسی معاشرتی صورت حال میں صحیح اور غلط میں تھوڑی بہت تمیز کرسکتا ہے

اگر گھر میں پانچ چھ برس کی عمر تک اسے معاشرتی اخلاق کی ابتدائی تعلیم اور تربیت دی گئی ہو تو معلم اور دوسرے بزرگوں کی رہنمائی سے یہ تربیت اس کے کردار پر خاطر خواہ اثر ڈالتی ہے پانچ چھ برس کی عمر کے لگ بھگ گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کے معاشرتی اخلاق پر اثر اندا ز ہونے لگتا ہے عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ گھر کی کشش اور گھریلو معاملات میں اس کی دلچسپی کم ہونے لگتی ہے والدین کے رہنے سہنے کے اندازقابل تقلید معیار کے طور پر اپنی پہلی سی قوت اور دلفریبی کھوتے چلے جاتے ہیں بچہ اپنا انفرادی ذہن اور اپنی مخصوص ذات کے گرداب سے قدرے نجات حاصل کرنے لگتا ہے دوسروں میں اس کی دلچسپی بڑھنے لگتی ہے اور اس سے اس کے کردار اور شخصیت میں خوش گوار تغیر رونما ہوتا ہے اس وقت اجتماعی مشاغل میں بچے کی دلچسپیاںتیز ہوجاتی ہے ان دلچسپیوں کے صحیح سمتوں میں بڑھنے کے لیے بچے کی مناسب رہنمائی ہونی چاہیے۔
بچے کے جذبات اور معاشرتی نشوونما:معاشرتی نشوونما میں جذبات بہت اہم حصہ لیتے ہیں بچے کا جذباتی نظام زیادہ تر والدین کی جذباتی عادتوں کا مرہون منت ہوتا ہے ابتدا میں بچہ اپنے والدین پر بے انتہا جذباتی فخر محسوس کرتا ہے وہ ان کے کردار اور اطوار کو اخلاق اور انسانیت کا بہترین نمونہ سمجھتا ہے بدمزاج اور ترش رو والدین اپنی غیر متوازن زندگی سے اپنے بچوں پر برا اثر ڈالتے ہیںان کے بچے بھی عموماً غصیلے اور جھگڑالو نکلتے ہیں۔بچے کی معاشرتی تربیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہیں دوسروں کے حقوق نظریوں اور خواہشوں کا احترام کرنا سکھایا جائے محوبالذات اور نرگس رجحان اپنا لینے کی صورت میں ان کی معاشرتی نا اہلی میں اضافے کا شدید خطرہ ہوجاتا ہے اور ان کی ازدواجی معاشرتی اور اقتصادی زندگی بھی خطروں اور حادثوں کی نذر ہوجاتی ہے ان مضر رجحانوں کا مناسب علاج کرانے کے لیے بچے کو دوسرے پر اپنے کردار کا اچھا یا برا اثر مشاہدہ کرنے کی معاشرتی تربیت دینا ضروری ہے تربیت کے اس عمل کو حتی الوضع دلچسپ اور آسان بنانا چاہیے اپنی ذاتی الجھنوں اور بالغ نظریوں کو بچوں پر اندھا دھند تھوپنے سے گریز کرنا چاہیے اس غلط فہمی میں مبتلانہ ہونا چاہیے کہ کسی بات کو سمجھنے کے لیے بچوں کے اپنے انوکھے اور انفرادی طریقے یا تو ہوتے ہی نہیں اور اگر ہوں تو تعلیم و تربیت کے سنجیدہ عمل میں ان طفلانہ طریقوں کو کامیابی سے ٹھکرایا جاسکتا ہے،بچے کی جذباتی حاجتوں کی وقت پر مناسب طریق سے تشفی ہوتی جائے تو اس میں معاشرے کا متوازن اور تندرست فرد بننے کی صلاحیت بڑھتی ہے اس کی زندگی کے ان ادوار کے مخصوص تقاضوں کو سمجھنا بہت ضروری ہے اس وقت بچے کو ایسی تعلیم دینی چاہیے اور ایسے کام سونپنے چاہییں جو اس کی جسمانی اور ذہنی سطح سے بلند نہ ہوں بچوں میں اپنے ہر فرض اور ہر مقام کو خود پہنچانے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے ابتدائی معاشرتی تعلیم و تربیت میں ان تمام باتوں کا خیال رکھا جائے تو بچے کا کردارمعاشرے کی قدروں اور معیادوں کے قریب آجاتا ہے اورزندگی کے کسی مقام پر اس سے خلاف معاشرت حرکتوں کے سرزد ہونے کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے

(0) ووٹ وصول ہوئے