Bachon Mein Takhleeqi Zouq Paida Kijye !

بچوں میں تخلیقی ذوق پیداکیجیے!

بدھ مئی

Bachon Mein Takhleeqi Zouq Paida Kijye !
بچے کھیل رہے تھے کہ ان کے ہاتھ ایک جادوئی چابی آگئی۔چابی نے چمکنا شروع کر دیا اور بچے چھوٹے چھوٹے بونوں میں تبدیل ہو گئے۔بچوں نے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس صورتحال سے لطف اندوز ہونا شروع کر دیا۔وہ حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے لیکن ان کی اصل حیرت کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ باہر باغ میں پہنچے۔انہیں چھوٹے چھوٹے پودے بہت بڑے دکھائی دے رہے تھے ۔


مٹی کا ایک ڈھیران کو پہار کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔وہ اسٹرابری کے پھلوں تک پہنچنے کے لیے بے تاب تھے۔جب وہ کھڑے ہو کر اس کے پھلوں کو زبان سے چاٹ رہے تھے تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ہر چیز ان کے لیے بدل چکی تھی ۔وہ چیزوں کے ایسے پہلو دیکھ رہے تھے جو عام زندگی میں ان کی نظر سے ہمیشہ اوجھل رہتے تھے۔

(جاری ہے)


یہ کہانی بہت دلچسپ ہے لیکن اس میں بڑوں کے لیے دلچسپی کا سامنا بھی موجود ہے ۔

یہ کہانی ہماری توجہ نئی یا تخلیقی سوچ کے اصل کی طرف دلاتی ہے ۔جب ہم چیزوں کے ایسے پہلو دیکھ رہے ہوتے ہیں جو عام زندگی میں ہم سے اوجھل ہوتے ہیں تو ہم اپنی تخلیقی صلاحیت استعمال کررہے ہوتے ہیں۔جب اپنی اس صلاحیت سے کام لیتے ہیں تو دراصل ہمارے ہاتھ میں ایک جادوئی چابی آجاتی ہے۔
ذہن کچھ مختلف اور اچھوتا سوچنے میں کامیاب ہو جائے تو اس لمحے سے ملنے والی خوشی کا مقابلہ شاید ہی کوئی اور انسانی سرگرمی کر سکتی ۔

ہمارے اردگرد نظر آنے والی ساری انسانی ترقی دراصل ایسے ہی تخلیقی لمحوں سے ممکن ہوئی ہے ۔فلسفہ،ادب ،آرٹ ،سائنس کے سارے کارنامے چیزوں کو کچھ مختلف اور بہتر انداز سے دیکھنے کی خواہش کا نتیجہ ہیں ۔اگر ہم اپنی تخلیقی سوچ سے کام لیں تو اپنی ذاتی زندگی میں بے شمار خوشگوار تبدیلیاں لاسکتے ہیں ۔لوگوں سے تعلقات بہتر بنا کر اپنے کام یا کاروبارمیں تیزی سے ترقی کر سکتے ہیں۔


تاریخ کے عظیم مصور پکا سو کا کہنا تھا کہ تمام بچے آرٹسٹ پیدا ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کے آرٹسٹ کو بچا کر رکھیں۔نفسیات دان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ تھوڑی سی توجہ اور کوشش سے ہم کچھ نیا سوچنے کی اپنی صلاحیت کو بہتر بناسکتے ہیں ،تخلیقی صلاحیت کو کیسے بہتر بنایا جائے․․․؟اس کے لیے ضروری ہے کہ نئے خیالات کے پیدا ہونے کے عمل کو سمجھا اور ان باتوں کو اپنا یا جائے جو تخلیقی سوچ کو فروغ دیتی ہیں۔

ادیب ،شاعر،آرٹسٹ،انجینئر،سائنسدان اور وکیل،
سب کے لیے تخلیقی عمل ایک جیسا ہی ہوتاہے۔
دیکھیے․․․․!غور کیجیے کہ ایک نیا خیال پہلے سے موجود چیزوں کی نئی ترکیب ہوتا ہے ۔نئی ترکیب اس وقت وجود میں آتی ہے جب ہم پرانی چیزوں کے مابین کوئی تعلق دیکھ سکیں۔جو ذہن چیزوں کے مابین کوئی تعلق دیکھ سکے وہ کئی نئے خیالات پیدا کر سکتاہے۔


ماہر نفسیات جب ایڈورٹائزنگ کے لوگوں کو سوشل سائنس یا نفسیات جیسے مضامین پڑھنے کا مشورہ دیتے ہیں تو ان کا اشارہ اس طرف ہوتا ہے کہ مختلف چیزوں کے درمیان کوئی نیا تعلق دیکھا جائے۔ان کے خیال میں پہلی نظر میں شاید نفسیات اور ایڈورٹائزنگ میں کوئی تعلق نظر نہ آئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایڈورٹائزنگ کے بے شمار آئیڈیاز نفسیات کے میدان سے مستعار لیے گئے ہیں۔


درپیش مسئلے کے تحقیقی حل کے لیے سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس مخصوص مسئلے،شے یا پراڈکٹ کے بارے میں پوری معلومات حاصل کی جائیں ۔اگر آپ ایڈورٹائزنگ سے تعلق رکھتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی پراڈکٹ اور اپنے کسٹمرز کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کریں۔
مشہور فرانسیسی ادیب موپساں کو ایک بڑے ادیب نے کچھ مختلف سوچنے کے لیے یہ مشورہ دیا کہ پیرس کی گلیوں میں جاؤ۔

ایک ٹیکسی چلانے والے کو منتخب کرلو۔وہ تمہیں دوسرے ٹیکسی چلانے والوں جیسا ہی دکھائی دے گا لیکن اسے اس وقت تک غور سے دیکھتے رہو جب تک کہ اسے دنیا کے تمام ٹیکسی چلانے والوں سے مختلف شخصیت کے طور پر نہ دیکھ لو۔مخصوص معلومات کے ساتھ ساتھ اپنی عمومی معلومات میں بھی اضافہ کرتے رہیں۔
جو لوگ نئے خیالات کی تلاش میں ہوتے ہیں ان کے لیے زندگی کا ہر رنگ کشش رکھتا ہے ۔

آپ کو ان کے پاس اسکریپ بُک نظر آئے گی جس میں اخبارات اور میگزینوں کے تراشے نظر آئیں گے ۔اس میں وہ اپنے روز مرہ کے مشاہدات بھی نوٹ کرتے ہیں ۔ان کے پاس کمپیوٹر فولڈ ر ہو گا جس میں آپ کو بے شمار تصویریں اور آرٹیکلز نظر آئیں گے۔اکثر اوقات وہ اپنی اسکریپ بُک یا کمپیوٹر فولڈر سے کوئی شاندار آئیڈیا حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ایسا عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ اس کی توقع نہیں کررہے ہوتے۔


بچوں میں تخلیقی صلاحیت پیدا کی جاسکتی ہے
نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تخلیق کی قوت صرف پیدائشی نہیں ہے بلکہ یہ کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے ۔اس بارے میں امریکا کی مشہور یونیورسٹی میری لینڈ کی ماہر نفسیات ایلس ٹیسن کہتی ہیں ۔تخلیقی کے بارے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک مستحکم اورکسی قدر پر اسرار صفت ہے جو صرف بعض خوش نصیب لوگوں کے پاس ہوتی ہے لیکن تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ تخلیقی قوت کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔


اس تحقیق سے ماں باپ اور اسکولوں کی ذمہ داری میں اضافہ ہوگیا ہے ۔جب ان کے بچوں کے لیے تخلیقی قوت کے تمام راستے کھلے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے انداز میں کریں کہ ان کی تخلیقی قوت بیدار ہو جائے۔
مگر سوال یہ ہے کہ تخلیق ہے کیا․․․․؟
تخلیق کیا ہے ․․․․؟
تخلیق کے معنی ہیں نئی چیز بنانا۔

اس لحاظ سے تخلیق کار کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ نئی باتیں ،نئے طریقے ،نئے راستے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اس کی خیالی تصویر بنانے کی قوت بہت تیز ہوتی ہے ۔اس کی سوچ میں رکاوٹ نہیں آتی ۔وہ جمالیاتی جس کا مالک ہوتا ہے ۔وہ من موجی اورجذباتی ہوتا ہے اور فرسودہ طریقوں کو دہرانے سے اجتناب کرتاہے۔
یہ تمام باتیں ہر بچے میں موجود ہوتی ہیں ۔

نہ صرف بڑے بچے بلکہ چھوٹے بچوں میں بھی یہ تمام باتیں ہوتی ہیں ۔وہ ہر چیز ،ہر کام کو بغور دیکھتے ہیں ،ٹوہ لگاتے ہیں ،کریدتے ہیں ،چھوتے ،سونگھتے ہیں، سوچتے ہیں،کھلونوں سے باتیں کرکے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں ۔اسے اپنی اسکیمیں بتاتے ہیں ۔ایک چیز میں کئی چیزیں ڈال کر دیکھتے ہیں کہ اس سے اب کیا بنے گا۔ایک رنگ میں کئی رنگ ملاتے ہیں ۔

وہ چیزوں کو کبھی علیحدہ رکھتے ہیں تو کبھی ڈھیر لگالیتے ہیں ۔کبھی تقسیم کرتے ہیں توکبھی چھپا دیتے ہیں یعنی تمام امکانات پر غور کرتے ہیں ۔گویا ہر بچہ اپنے آپ میں فلاسفر ،تجزیہ نگار اور تخلیق کار ہوتا ہے ۔
اس کی تخلیقی صلاحیت کو پابند کرنے کی غلطی اکثر والدین سے سرزد ہوتی ہے ۔ایک صاحب کا کہنا ہے کہ میرے ایک دوست ہیں، ان کے دوبچے ہیں ۔

میں انہیں بڑا ذہین سمجھتا تھا کیونکہ وہ باتیں بھی گہری کرتے تھے اور ڈرائنگ تو ایسی عمدہ بناتے تھے کہ بس دیکھتے رہ جائیں ۔عید کی آمد آمد تھی۔میرے دوست نے بچوں سے کہا کہ اس مرتبہ ہم تمہارے ڈیزائن کردہ کارڈ اپنے دوستوں ،رشتہ داروں کو بھیجیں گے ۔چار بائی چھ انچ کے گتے پر سرخ اور سبز رنگ سے پہاڑی اور ندی کی ایک تصویر بنانا،ندی میں کشتی بھی دکھانا۔


بس یہیں پر انہوں نے غلطی کردی تھی۔نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں نے تصویر تو بنادی مگر اس میں وہ بات پیدا نہ ہو سکی جس کے وہ متلاشی تھے۔دراصل انہوں نے بچوں کو پابندیوں میں جکڑ کر ان کے ذوق تخلیق کو قید کردیا۔یہی تجزیہ برینڈ یز یونیورسٹی کی ماہر نفسیات پروفیسر ٹریسا امابیل کا بھی ہے ۔وہ کہتی ہے کہ بچوں کو پابندیوں میں جکڑنے سے ان کا ذوق تخلیق متاثر ہوتا ہے۔

وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے ۔
کام میں وابستی ،لگن ،جوش اور آزادی یہ چیزیں تخلیق کے عمل کو آگے بڑھاتی ہیں ،کامیابی دلاتی ہے ۔اگر نکتہ چینی کی ضرورت ہوتو حوصلہ افزائی اور مدددینے کی نیت سے ہو۔ماں باپ کافرض ہے کہ وہ بچوں کے تجسس کو قائم رکھیں ۔بچے ہوں یا بڑے سب کو جستجو ،تلاش اور نئی بات معلوم ہونے اور نیا کام کرنے کی بے حد خوشی ہوتی ہے ۔


بچوں کی تخلیقی صلاحیب کو بیدار کرنے کا فارمولاہے جستجو ،تلاش ،جوش وخروش ،لگن،آزادی اور خوش دلی۔بچوں میں کھلنڈ ر اپن اور مزاح بدرجہ اتم موجود ہیں ۔اگر آپ کارٹون دیکھتے وقت بچوں کو دیکھیں تو آ پ نے دیکھا ہو گاکہ وہ الٹی سیدھی باتوں اور حماقتوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔تبصرہ کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر میں ہوتا تویوں کر دیتا ۔

بچوں کے اس جذبے کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔بے جاپا بندیاں بچوں کی نشوونما پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ماں باپ ہی بچوں کے لیے ماڈل ہوتے ہیں ۔اگر والد صاحب جھنجھلا جھنجھلا کر اپنی بیوی سے کہیں کہ تم ہی نے بچے کو بگاڑا ہے ۔بچوں کو پالنا اور دیکھنا میرا کام نہیں ،اگر ہر وقت ان کی پیشانی پر تیوری ہو اور وہ بیگم صاحبہ سے بات بات پر اُلجھیں اور بیگم صاحبہ بھی غصے میں رہیں تو بچوں کا ذوق تخلیق کیا بیدار ہو گا۔

ایسے ماحول میں تو ان میں ذوق تخریب پیداہونا شروع ہو جائے گا۔
ماں باپ خوش مزاج ،زندہ دل ،بچوں میں دلچسپی لینے والے ہوں تو ان کے بچے ترقی کے زینے طے کرتے چلے جاتے ہیں ۔بچے تو پودے ہیں ،کھاد ڈالی جائے ،پانی دیا جائے اور پودے کا خاص خیال رکھا جائے تو وہ پودا پھلتا پھولتا ہے۔
ہر بچے میں تخلیق مادہ ہوتا ہے ۔ان میں ذوق تجسس ،جوش وخروش اور کام میں لگن پیدا کی جائے تو ان کے اندر کاتخلیق کار بیدار ہوتا چلاجاتا ہے ۔اس لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو مشورہ دیں ،رہنمائی کریں لیکن ہمت افزا لہجے میں ۔پیار کے ساتھ احتیاط کے ساتھ۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-01

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Bachon Mein Takhleeqi Zouq Paida Kijye !" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.