SherKhawar Bachoon Ko Bimariyon Se Dorr Rakhain!

شیر خوار بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھیے!

منگل اکتوبر

SherKhawar Bachoon Ko Bimariyon Se Dorr Rakhain!

کھیلتے کودتے معصوم بچے گھر میں خوشیاں بکھیرتے ہیں۔اگر ان کی صحت ٹھیک نہ رہے تو سارے گھر کا ماحول اداس ہو جاتا ہے۔خاص کر والدین پریشان ہوتے ہیں۔شیر خوار بچہ جب بیمار ہوتا ہے تو وہ اپنی تکلیف کسی کو بتا نہیں سکتا۔بچے کی حرکات وسکنا ت ہی سے اس کی تکالیف کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔کسی تکلیف کے نہ ہونے کی صورت میں تندرست بچہ خوش وخرم رہتاہے۔

دودھ رغبت سے پیتا ہے اور آرام سے گہری نیند سوتا ہے لیکن اگر بچہ کسی تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو پھر روتا ہے،بے چین رہتا ہے۔دودھ رغبت سے نہیں پیتا۔اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچے کے حالات پر گہری نظر رکھیں ۔اگر بچے کے معمولات میں فرق آجائے تو اس کے اسباب جاننے کی کوشش کریں۔
شیر خوار بچوں کو معمولی امراض میں دوا دینے سے احتیاط کرنا چاہیے۔

(جاری ہے)

دیکھاگیا ہے کہ بچے کو ہونے والے کئی امراض عموماً ماں کی غذائی بد احتیاطی اور بد پرہیزی سے ہوتے ہیں۔اس لیے انہیں مناسب تدابیر سے رفع کرنا چاہیے اور ماں کی غذا میں احتیاط ہونی چاہیے۔اگر معمولی اور گھریلو تدابیر سے مسئلہ نہ حل ہوتو معالج کے مشورے سے علاج کریں۔خود علاجی مناسب نہیں ہے۔ایسے چند عمومی امراض جن سے والدین کو آگاہ ہونا چاہیے ذیل میں دیے جارہے ہیں۔


بچوں کا ایک مرض قے آنا
بعض اوقات بچے زیادہ دودھ پی لیتے ہیں یا تیزے سے دودھ پینے کے سبب دودھ پینے کے بعد قے کر دیتے ہیں ۔بعض اوقات دودھ کی خرابی کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔تاہم یہ کوئی خطرے کی بات نہیں ہے۔اس کے لیے مناسب تدبیر یہ ہے کہ بچے کو دودھ اس کے ہضم کے مطابق پلایا جائے۔دودھ صاف ہو،فیڈر کو نیم گرم پانی سے صاف کیا جائے۔

قے روکنے کے لیے پودینہ اور چھوٹی الائچی مفیدبتائی جاتی ہے۔
قبض
پیدائش کے کچھ دیر بعد بچے کو خود بخود کالے رنگ کی اجابت ہو جاتی ہے جو بعد میں زردرنگ کی ہوتی ہے ۔بچے کو قبض ہو جائے تو تیار شدہ گھٹی بھی ملتی ہے۔اسے پیٹ صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتاہے۔تاہم بلا ضرورت گھٹی کا استعمال مناسب نہیں ہے۔
زبان کا جڑنا(تندوا)
اس مرض میں زبان نیچے کی طرف تالو سے اتنی زیادہ چمٹی ہوتی ہے جس سے بچہ ماں کا دودھ اچھی طرح نہیں پی سکتا اور بڑا ہو کر ٹھیک طرح بولنے کے بجائے تتلا کر بولتا ہے۔

اس کا علاج جراحی کا عمل ہے ۔کسی اچھے ماہر معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔
دستوں کی بیماری
شیر خوار بچوں کو عموماً دستوں کا مرض ہو جاتا ہے۔اس کا سبب بد ہضمی ہے ۔اس کے لیے بچے کے نظام ہضم کو درست رکھنے کی کوشش کی جائے۔جو بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں عموماً انھیں یہ شکایت کم ہوتی ہے۔ایسی صورت میں عرق چہار (چاروں عرق ملے ہوئے)مفید بتایا جاتاہے۔


سرخ دانے
بعض بچوں کی جلد حساس ہوتی ہے۔پیدائش کے بعد سرخ دانے نکل آتے ہیں۔پیشاب سے ڈائپربھیگ جاتا ہے۔پیشاب کی تیزابیت سے جلد متاثر ہوجاتی ہے۔بعض اوقات تھوڑی سی بھی گرمی سے جلد متاثر ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں جلد پر سرخ دانے نکل آتے ہیں ۔ان دانوں سے پریشان نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی دوائیاں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ ازخود ٹھیک ہوجاتے ہیں۔بچے کی
جلد پر پاؤڈر چھڑک دیا کریں یہی کافی ہے۔
یرقان
بعض بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد یا ایک دور وز بعد یرقان ہو جاتاہے۔آنکھیں پیلی ہو جاتی ہیں۔یہ عام طبعی قسم کا یرقان ہے جسے پیدائشی یرقان کہتے ہیں ۔ایسے بچوں کو ماں کا دودھ پلانا مناسب ہے،ایسے بچوں کو ہلکی دھوپ یا لائٹ میں لٹانا چاہیے۔

عام طور پر ایک ہفتے میں یرقان ختم ہو جاتاہے۔
آنکھیں دُکھنا
اس مرض میں بچے کی آنکھیں دُکھتی ہیں جس کی وجہ بچے کی آنکھوں کی صفائی سے غفلت ہے۔بچے کی آنکھیں ہمیشہ صاف رکھی جائیں۔
کساح (ہڈیوں کا نرم پڑجانا)
اس بیماری کا سبب دوران حمل زچہ کو مناسب غذا نہ ملتا ہے۔جس سے بچے کی ہڈیاں نرم پڑ جاتی ہیں۔

بعض اوقات یہ پیدائشی طور پر بھی نرم ہو تی ہیں۔جن بچوں میں یہ تکلیف ہو ان کے دانت دیر سے نکلتے ہیں ۔معالج کے مشورے سے علاج کیا جائے۔بچے عام طور پر ناک ،کان اور گلے کی بیماریوں سے متاثر ہو تے ہیں۔ ڈبے کا دودھ پینے والوں کے مقابلے میں ماں کا دودھ پینے والوں میں قوت مدافعت زیادہ ہو تی ہے۔نیز مختلف عمروں میں حفاظتی ٹیکوں کے کورس کراکر بھی مختلف بیماریوں کے خلاف بچے کی قوت مدافعت کو بڑھایا جا سکتاہے۔

عام طور پر ابتدائی عمر میں بچوں میں ناک،حلق ،سینے اور بعض اوقات کان اور سانس جیسی تکالیف میں مبتلا ہو جانے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بچے کی دیکھ بھال نہیں کی جارہی ہے یا اس کی دیکھ بھال کم کی جارہی ہے۔یہ بیماریاں زیادہ تیزی سے اس وقت بچے کو لپیٹ میں لے لیتی ہیں ۔جب بچے باہر کھیلنا شروع کرتے ہیں یا دوسرے بچوں میں میل جول بڑھاتے ہیں۔


بچوں کو نزلہ،زکام ،بھی ہوتا رہتا ہے اور اس کے ساتھ بخار بھی ہو سکتا ہے ایسے میں بچے چڑ چڑے ہو جاتے ہیں والدین کو چاہیے کہ وہ متاثرہ بچے کو بستر پر لٹادیں، اسے توجہ دیں اور اسے زیادہ پانی پلائیں۔اگر بخار زیادہ ہو جائے تو ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی جائیں ۔بعض بچوں کو بار بار اس قسم کے انفیکشن ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے بچوں کے گلے(ٹانسلز)اور حلق کے غدود بڑھ جاتے ہیں ۔

ٹانسلز گلے میں انفیکشن کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ریڈینائڈز ایسی بافتیں یا ریشے ہوتے ہیں جو ناک کی جڑ میں آگے بڑھتے ہیں اور یہاں جراثیم روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کے پھولنے سے منہ سے سانس لینا پڑتی ہیں۔
پانی کی طرح اجابت ہونے کو ڈائریا ،دست،اسہال یا لوزموشن کہتے ہیں،چھوٹے بچوں میں اسہال کی بیماری زیادہ سنگین حالات ونتائج پر مضمر ہوتی ہے کیونکہ بچوں میں اس بیماری کے اثرات برداشت کرنے کی طاقت بہت کم ہوتی ہے۔

بار بار پتلی اجابت آنے سے نمکیات کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔بچوں کے اسہال کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔بچوں کا ڈائر یا عام طور پر جراثیم اور متعدی وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ بعض مائیں مختلف وجوہات کی بنا پربچے کو اپنا دودھ نہیں پلاتیں ہیں جس سے بچے میں قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور طرح طرح کے جراثیم بچے کو اپنی لپیٹ میں لیکر مختلف امراض خصوصاً پیٹ کے امراض میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ماں کے گندے ہاتھ،گندے برتن کا استعمال اور مجموعی طور پر صفائی کا خیال نہ رکھنے سے بچے کو اسہال کا مرض ہو جاتاہے ۔بچے کو بوتل والا دودھ دینے سے بھی ڈائریا ہو سکتا ہے۔بعض بچوں کے منہ میں گندی نپل دی جاتی ہے جو کہ بچہ گندے ہاتھوں سے خود ہی چوستا رہتا ہے اس کے اثرات بہت بُرے ہوتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-10-01

Your Thoughts and Comments

Special Myths About Parenthood - Bachon Ki Parwarish Aur Ghalat Nazriat article for women, read "Sherkhawar Bachoon Ko Bimariyon Se Dorr Rakhain!" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.