بند کریں
خواتین مضامینخوبصورتیامرود جلد کو خوبصورت بنائے

مزید خوبصورتی

پچھلے مضامین - مزید مضامین
امرود جلد کو خوبصورت بنائے
باداموں کی ساخت کی آنکھیں بھی پُرکشش اورجاذب نظر سمجھی جاتی ہیں اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایسی آنکھیں صرف مشرقی خواتین کی ہی ہوتی ہیں اور دنیا کے کسی اور خطے کی خواتین کی آنکھیں اس ساخت کی نہیں ہوتیں
اس وقت مارکیٹ میں امرود دستیاب ہے جو ہر ایک کا پسندیدہ پھل ہے لیکن خواتین کیلئے خوشخبری ہے کہ امرود کا استعمال جلد کو خوبصورت بنانے میں نہایت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق امرود کھانے کے علاوہ اس کے پتوں کا رس چہرے پر لگانے یا پتے اُبال کر اس کے پانی سے منہ دھونے سے چہرے کی دلکشی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور امرود میں موجود وٹامنز اور پوٹاشیم جلد کو جھریوں سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جلد کی حفاظت کے علاوہ امردو ہاضمہ بہتر بنانے، فشار خون کو معمول پر رکھنے اور وزن کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
بادامی آنکھیں
چہرے کی دلکشی نکھاریں
باداموں کی ساخت کی آنکھیں بھی پُرکشش اورجاذب نظر سمجھی جاتی ہیں اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایسی آنکھیں صرف مشرقی خواتین کی ہی ہوتی ہیں اور دنیا کے کسی اور خطے کی خواتین کی آنکھیں اس ساخت کی نہیں ہوتیں اور بلاشبہ مشرقی خواتین جن کی آنکھیں بادامی صاخت کی ہوں وہ اپنی آنکھوں پر فخر کر سکتی ہیں۔ بادامی آنکھوں پر میک اپ کرنا بھی مشکل نہیں ہوتا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آنکھ کے اوپری پپوٹے پر نرم آئی پنسل سے گہری لائن کھینچیں اور پورے پپوٹے پر آئی شیڈویا بلش آن لگائیے۔ رخساروں کے گرد فاوٴنڈیشن لگائیے۔ رخساروں کی ہڈیوں کے نیچے کریم بلش لگائیے اس طرح بادامی آنکھوں کا تاثر خوب اُبھر آئے گا اور آنکھیں دلکش معلوم ہوں گی۔
خوش مزاج خواتین کا دل مضبوط ہوتا ہے
حالیہ تحقیق کے مطابق زندگی کے روشن پہلو دیکھنے والی خوش مزاج خواتین کادل مضطرب ہوتا ہے۔ ان خواتین میں دل کے حملوں یا موت کے خطرات سنجیدہ یا رنجیدہ رہنے والی خواتین کی بہ نسبت کم ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف پیٹس برگ کے ماہرین نے ایک مطالعاتی جائزے کی روشنی میں بتایا کہ خوش رہنا اور روشن پہلووٴں کو دیکھنا یقینا صحت کیلئے مفید ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ٹینڈل نے نئی تحقیق کی رو سے بتایا کہ میں بحیثیت ڈاکٹر خواتین کو مشورہ دوں گا کہ زندگی کے تاریک پہلووٴں کو دیکھنے کی عادت ترک کر دیں۔ مثبت انداز فکر کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں ماہرین نے طویل عرصے پر محیط ریسرچ میں 79 ہزار خواتین کی صحت ان کے انداز فکر کے درمیان مطالعہ کیا تو انہیں پتہ چلا کہ جو خواتین چیزوں کے روش پہلو دیکھنے کی عادی تھیں یا جو رجائیت پسندی سے کام لیتی تھی ان میں دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا خطرہ منفی انداز فکر رکھنے والی خواتین کی نسبت 9فیصد کم تھا۔
اس تحقیق کے نتائج کی روشنی میں بھی واضح ہوا ہے کہ رجائیت پسند خواتین میں مایوسی اور تمباکو نوشی جیسی عادت میں مبتلا ہونے کے امکان بھی کم تھا۔ وہ جوان تھی ان کی تعلیمی قابلیت اور آمدنی کی سطح بھی نسبتاََ زیادہ تھی او اس کے ساتھ ساتھ یہ خواتین زیادہ مذہبی بھی تھیں۔ اس دوران اس بات کے واضح ثبوت بھی ملے ہیں کہ ہماری صحت پر ہمارا رویہ اور سوچ کس طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ صحت کو بہتر بنانے کیلئے رویوں کو کس طرح تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

(2) ووٹ وصول ہوئے