بند کریں
خواتین مضامینخوبصورتیبرسات کے موسم میں بالوں کی دیکھ بھال

مزید خوبصورتی

پچھلے مضامین - مزید مضامین
برسات کے موسم میں بالوں کی دیکھ بھال
برسات اللہ کی رحمت ہے۔ اسے زحمت نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں بارش بہت کم ہوتی ہے، لیکن جب بھی ہوتی ہے تو مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہ مسائل اجتماعی بھی ہوتے ہیں اور انفرادی بھی ۔
نسرین شاہین :
برسات اللہ کی رحمت ہے۔ اسے زحمت نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں بارش بہت کم ہوتی ہے، لیکن جب بھی ہوتی ہے تو مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہ مسائل اجتماعی بھی ہوتے ہیں اور انفرادی بھی ۔ یہ تو بارش کا منفی پہلو ہے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ بارش سے دل وجان کو سکون ملتا ہے اور گرمی سے نجات بھی، اس لیے برسات کے موسم کا صرف منفی پہلو ہی نہیں، بلکہ مثبت پہلو بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ موسم بہت مزادیتا ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگتی ہے۔ پیڑ اور پودے بارش کے پانی میں نہا کر جھومنے لگتے ہیں اور پرندے خوشی سے چہچہانے لگتے ہیں۔ یہ موشم انسانوں پر ہی نہیں، بلکہ چرند اور پرند پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ خواتین برسات کے موسم میں اپنے بالوں کے مسائل سے دوچار ہوجاتی ہیں، کیوں کہ برسات کا موسم بالوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ ذیل میں چند ایسے طریقے دیے جارہے ہیں، جن پر عمل کرکے آپ برسات کے موسم میں پیداہونے والے بالوں کے مسائل پر قابو پاسکتی ہیں اور اپنے بالوں کو خوبصورت اور دیدہ زیب بناسکتی ہیں۔
بارش میں بھیگنے کے بعد بال روکھے اور سخت ہوجاتے ہیں۔ یہ بال آسانی سے نہین سلجھتے اور نہ آپ کے قابو میں آتے ہیں۔ ایسے موقع پر سب سے پہلے تو بالوں کو گیلا کریں اور پھرشیمپو لگائیں۔ شیمپو لگانے کے بعد بالوں کو خوب اچھی طرح دھولیں۔ بال شیمپو سے روزانہ نہیں دھونے چاہییں، ورنہ خراب ہوجاتے ہیں۔ بالوں کو شیمپو سے روز دھونا آپ کے ان مسائل میں اضافہ کردے گا، جن سے آپ پہلے ہی پریشان ہیں۔ ہفتے میں دوسے تین بار بالوں کو اس شیمپو سے دھوئیں، جو آپ کے بالوں کو موافق ہو۔ اس سے آپ کے بال صاف ستھرے بھی رہیں گے اور دیکھنے میں اچھے بھی لگیں گے۔ اس طرح بالوں کی قدرتی چمک اور لچک میں فرق بھی نہیں آتا اور بال الجھاؤ کا کم سے کم شکار ہوتے ہیں ۔ بالوں کو دھونے سے بعد ان کی کنڈیشننگ بھی ضروری ہے، تاکہ خشک بالوں کو قابو میں رکھا جاسکے۔
برسات کے موسم میں نمی ( HUMIDITY) کی زیادتی بالوں کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ یہ اُس وقت بھی آپ کے بالوں کو متاثر کرتی ہے، جب آپ سارا دن گھر میں رہتی ہیں۔ ایسا ان دنوں میں زیادہ ہوتا ہے، جب ہوا میں نمی کا تناسب بڑھ جاتا ہے اور آپ کے بال الجھے الجھے یاروکھے روکھے نظر آتے ہیں۔ اس کا انحصار آپ کے بالوں کی قسم پربھی ہے۔ باریک اور موٹے بال بے رونق ہوجاتے ہیں، جب کہ لیریے دار اور گھنگریالے بال اُلجھاؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس کا بہترین حل یہ ہے آپ بالوں کو بنانے کا انداز (STYLE) بدل دیں۔ نیاانداز دینے کے لیے حیل (GELL) کا استعمال کریں۔ جیل کی وجہ سے بالوں کے اوپر ایک باریک سی تہ جم جاتی ہے، جس سے بالوں کو نمی سے تحفظ ملتا ہے۔
بارش کے دنوں میں اپنے بالوں کو زبردستی وہ انداز دینے کی کوشش نہ کریں، جس سے آپ خود مطمئن نہ ہوں اور اسے درست محسوس کرتی ہوں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کے بال گھنگریالے ہیں تو ان کو سیدھا نہ کریں اور اگر سیدھے ہیں تو گھنگریالے نہ کریں، کیو کہ بال اگر نمی کی تھوڑی سی مقدار بھی اپنے اندر جذب کرلیں گے تو واپس اپنی پرانی حالت میں آجائیں گی۔ اس کے بجائے بالوں کو ان کی قدرتی حالت میں رہنے دیں اور بالوں کا ایسا انداز اپنائیں، جو آپ پر مناسب اور خوب صورت لگے۔ باریک ، پتلے اور سیدھے بالوں کے لیے بالوں کو پیچھے کی طرف کھینچ کر چوٹی یا پھر جوڑا بنالیں۔
چوں کہ بارش کے موسم کے دوران ہوا میں نمی کی زیادتی ہوتی ہے، اس لیے اس موسم میں بال زیادہ توجہ مانگتے ہیں۔ نمی کی زیادتی کی وجہ سے نہ صرف بال چکنے، بلکہ بے جان بھی ہوجاتے ہیں۔ کھوپڑی سے پسینا خارج ہوتا ہے،جس کی وجہ سے سرمیں کھجلی اور بے چینی ہوتی ہے اور بال بھی گرنے لگتے ہیں۔ یہ موسم بالوں کے لیے ناموافق ہوتا ہے، اس لیے جو بال گرتے ہیں، ان کے لیے کسی علاج کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، کیوں کہ موسم کے گزرتے ہی بالوں کے یہ سارے مسایل ختم ہوجاتے ہیں۔ بالوں کو قدرتی انداز میں رکھیں۔ الجھے ہوئے بالوں کو سلجھانے کے لیے عموماََ چند مخصوص کریموں کا سہارا لیا جاتا ہے، مگر ان کے اثرات منفی ہوسکتے ہیں، کیوں کہ ان کے ذریعے سے بالوں میں مزید نمی داخل ہوجاتی ہے اور بال مزید چکنے اور چپچپے ہوجاتے ہیں۔ برسات کے دنوں میں بہترہوگا کہ بالوں میں چکنائی اور نمی پیدا کرنے والی کریمیں استعمال نہ کی جائیں۔ ان کے بجائے ایسی کریمیں استعمال کریں، جو بالوں میں خشک اثرات پیدا کرتی ہوں ۔
بہتر ہوگا کہ بالوں میں لگانے والی کریمیں کم سے کم استعمال کی جائیں۔ اس کے علاوہ اس موسم میں کوئی کیمیائی ٹریٹ منٹ بھی نہ کروائیں، مثلاََ بالوں کو رنگوانا، سیدھے بالون کو گھنگریالے بنوانا یا گھنگریالے بالوں کو سیدھا کروانا۔ بالوں کو خشک کرنے کے لیے ڈرئرمشین کا استعمال تو بالکل نہ کریں، کیوں کہ اس سے بالوں پر مسلسل گرم ہوا پڑتی ہے، جس سے بال کمزور ہوکر ٹوٹنے لگتے ہیں اور دو منھ والے بن جاتے ہیں۔
اگر بارش میں بال بھیگ جائیں تو بالوں کو شیمپو سے دھوئیں اور قدرتی ہوا میں خشک کرلیں۔ گیلے بالوں میں کنگھا آہستہ آہستہ کریں۔ اگر تیزی سے کریں گی تو بال گیلے ہونے کی وجہ سے آسانی سے ٹوٹ جائیں گے۔ بارش میں بال بھیگنے کے بعد ان میں خشکی ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ سوتے وقت بالوں میں سرسوں یا ناریل کا تیل لگاکر سوئیں۔ تیل لگانے سے بال چمک دار ہوجاتے ہیں اور ان کا روکھا پن ختم ہوجاتا ہے۔ اُلجھے ہوئے اور بے رونق بالوں کو چھپانے کے لیے آپ ایک رنگین اسکارف بھی باندھ سکتی ہیں۔ اس طریقے سے بھی بارش کے موسم کی نمی سے بال محفوظ رہ سکتے ہیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے