Concealer Chehray Ki Khamian Chupanay Ka Moasar Zariya

کنسیلر چہرے کی خامیاں چھپانے کا موٴثر ذریعہ

Concealer Chehray Ki Khamian Chupanay Ka Moasar Zariya

نسرین شاہین:
جلد ہمارے جم کا سب سے بڑا عضو ہے اور ہمارے جسم کے ہر حصے کو پوری طرح ڈھانکے ہوئے ہے۔ ہر عورت خوبصورت جلد کی خواہش مند ہوتی ہے ۔ وہ اپنی خواہش پوری کر سکتی ہے یعنی ہر عورت خوبصورت جلدکی مالک بن سکتی ہے چاہے اس کی عمر یا رنگ کچھ بھی ہو۔ اس کا انحصار اس بات پر مضمر ہے کہ آپ اپنی جلد کی ساخت ارو کارکردگی کو سمجھ لیں اور اس کی صحیح طریقہ سے دیکھ دبھال کریں۔


یہ بھی درست ہے کہ بہت کم خواتین ایسی ہونگی جن کی جلد پر فیکٹ ہوتی ہو ورنہ چھوٹی موٹی خامیاں اور داغ دھبے تو ہر جلد میں موجود ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ محنت طلب سات میک اپ کرتے وقت ان کو چھپانا ہوتا ہے۔ اس کا علاج یہ نہیں کہ خوب گہرا میک اپ کیا جائے بلکہ اس کا آسان حل کنسیلر آپکی میک کٹ کا اہم جز ہے۔

(جاری ہے)

جو چہرے کی خامیاں چھپانے کا موٴثر ذریعہ ہے۔

اب تو ان خامیوں کو پوشیدہ کرنے کے لئے انواع و اقسام کے کنسیلر بازار میں دستیاب ہیں جن میں اسے آپ اپنی پسند اور جلد کی ساخت کے مطابق انتخاب کر سکتی ہیں لیکن پھر بھی ہم آپ کو کچھ ضروری باتین بتانا چاہتے ہیں تاکہ آپ اپنی مرضی کا کنسیلرخریدنے میں مہارت حاصل کر لیں اوراپنی جلد سے متعلق مسائل کو حل کر کے خوبصورت جلد کی مالک بھی بن سکیں۔


رنگ کا انتخاب:
مارکیٹ میں چہرے کی رنگت کے حساب سے کنسیلر با آسانی دستیاب ہیں۔ کنسیلر لیتے وقت سب سے پہلے رنگ کا خیال رکھیں۔ ہمیشہ ایسے کنسیلر کا انتخاب کریں جس کا شیڈ آپ کی جلد سے قریب تر ہو، یعنی جلد کی رنگت سے مطابقت رکھتا ہو۔ عموماََ کنسیلر شیڈ کو ہاتھ کی پشت پر چیک کر لیا جاتا ہے کہ کرل میچ ہو رہا ہے یا نہیں۔

حالانکہ ہاتھوں اور چہرے کی جلد میں اکثر فرق ہوتا ہے۔ اس لئے یہ بہتر ہے کہ چہرے پر ہی لگا کر دیکھا جائے۔
ہلکے رنگ کا کنسیلر مناسب رہتا ہے البتہ گہرے رنگ کا کنسیلرمناسب نہیں ہوتا کیونکہ داغ دھبے جلد سے زیادہ گہرے رنگ کے ہوتے ہیں اس لئے جلد سے ملتے جلتے کرل کے کنسیلر ہی پوری ہم آہنگی پیدا کر سکتے ہیں۔
اگر آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے ہیں تو انہیں چھپانے کیلئے بڑی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

آپ کنسیلر لگانے کے طریقے سے ناواقف ہیں خود نہ لگائیے یا پھر سیکھ کر لگائیے تاکہ مناسب نتائج حاصل ہوسکیں۔ اکثر خواتین آنکھوں کے حلقے چھپانے کیلئے کنسیلر لگاتے وقت سیاہ حلقوں پر ہلکے رنگ کے کنسیلر کا انتخاب کرتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں آنکھوں کے حلقوں میں ہلکا گرے رنگ نمایاں ہو جاتا ہے جو کہ چہرے پر بدنما دکھائی دیتا ہے۔ اس طرح کے مسائل سے نجات حاصل کرنے کیلئے اپنی جلد کی قدرتی رنگ سے کئی شیڈز ہلکا کنسیلر استعمال کرنے کے بجائے ایسے رنگ کا کنسیلر استعمال کریں جو جلد سے صرف آدھ شیڈ ہلکا ہو۔


سیاہ حلقے اگر بہت زیادہ گہرے ہیں تو کنسیلر جلد کی رنگت سے ہلکا ہونا چاہیے۔ ویسے کنسیلر کئی رنگوں میں ہوتے ہیں۔ جن میں کچھ مخصوص رنگوں کے کنسیلر سیاہ حلقوں اور داغ دھبوں کو چھپانے کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے استعمال سے اپنے آنکھوں کے نیچے حلقوں کی رنگت کے حوالے سے جاننا نہایت ضروری ہے۔ مثلاََ اگر آنکھوں کے نیچے حلقوں کی رنگت سرخی مائل یا گلابی ہے تو ہلکے پیلے رنگ کا کنسیلر مناسب رہے گا۔

کیوں کہ پیلا رنگ سرخی پن کو چھپانے میں اہم ہوتا ہے۔اگر حلقوں کی رنگت براوٴن یا سیاہ ہے تو ہلکے گلابی شیڈز کے کنسیلر کا انتخاب کریں۔گلابی رنگ براوٴن اور سیاہ حلقوں کو پوشیدہ کرنے میں مناسب ہوتا ہے۔ حلقوں کی رنگت اگر نیلی مائل ہے تو ہلکے اورنج رنگ کے کنسیلر کا استعمال کریں۔ گہری جلد کی رنگت کے لئے ہلکے یا گہرے اورنج کنسیلر زیادہ موزوں رہتے ہیں۔

اور اگر آنکھوں کی موجودگی ہے تو انہیں چھپانے کیلئے سفید کنسیلر مناسب رہتا ہے ، کیوں کہ سفید کنسیلر جلد کی رنگت کو ہلکا کر دیتا ہے۔کنسیلر کے رنگ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔
کنسیلر کی اقسام:
آج کل ہر قسم کے شیڈز کنسیلر میں دستیاب ہیں لیکن اس میں زیادہ تر یہ چیز نہیں دیکھی جاتی کہ یہ خشک جلد کیلئے ہے ، چکنی جلد کیلئے ہے یا نارمل کیلئے ہے۔

کیونکہ یہ پورے چہرے پر Apply نہیں ہوتا بلکہ صرف منتخب جگہوں پر جہاں داغ دھبے یا نشانات وغیرہ ہوں وہاں لگایا جاتا ہے، البتہ کنسیلر کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں، بعض میں موئسچرائزر اور بعض میں سن اسکرین شامل ہوتا ہے اور بعض معدنیاتی پانی سے تیار کئے جاتے ہیں۔کنسیلر کئی اقسام کے ہوتے ہیں۔
ٹھوس اسٹک کنسیلر:
لپ اسٹک کی شکل کا ہوتا ہے جسے براہِ راست جلد پر موجود داغ دھبوں پرلگایا جاتا ہے۔

اسے لگانا بہت آسان ہوتا ہے۔ یہ حلقوں کو بھی پوشیدہ کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے اور چہرے کے داغ دھبوں کو چھپانے کا کام بھی دیتا ہے۔ البتہ حساس جلد کیلئے کنسیلر کی یہ قسم مناسب نہیں ہوتی کیوں کہ حساس جلد پر اسے بلینڈ کرنا کافی دشوار ہوتا ہے۔
اسٹک کنسیلر:
عام طور پر اس کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے۔ کون کہ اس کا استعمال آسان ہوتا ہے ۔

ساخت کے لحاظ سے یہ مختلف ہوتے ہیں۔گاڑھے اور کریمی ہوتے ہیں۔ ان می کریمی کنسیلر سیاہ حلقوں کیلئے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔
ٹیوب کنسیلر:
لیکیوئڈ شکل میں ہوتے ہیں۔ انہیں بلینڈ کرنا بہت ہی اسان ہوتا ہے۔
پینسل کنسیلر:
پینسل کی شکل میں ہونے کی وجہ سے آنکھوں کے نیچے باریک لائنوں کو چھپانے کیلئے بہترین ثابت ہوتے ہیں۔


پوٹ کسنیلر:
گاڑھا ہوتا ہے اور اسٹک کے مقابلے میں زیادہ بہتر کام کرتے ہیں۔یہ کنسیلر آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے چھپانے میں بہترین ہوتا ہے۔
ہانی لانٹر پین کنسیلر:
جلد کے داغ دھبوں اور حلقوں کے چھپانے کا کام نہیں کرتا، بلکہ اس کو لگانے سے داغ دھبے اور جلد کے تقائص ہلکے ہو جاتے ہیں۔غرضیکہ کا سمیٹک انڈسٹری نے مختلف اقسام کے کنسیلر مارکیٹ میں متعارف کرائے ہیں ان کی خصوصیات کے مطابق انہیں خریدار اور استعمال کیا جاتا ہے۔


کنسیلر کی ضرورت اور استعمال
کنسیلر کی ضرورت کن خواتین کو ہوتی ہے؟ اس کا جوا ب یہ دیا جا سکتا ہے کہ کسنیلر کے استعمال کی ضرورت کا انحصار ہر خاتون کے مسئلے پر ہوتا ہے۔ یعنی کنسیلر کے استعمال کی ضرورت پر خاتون کو ان کے چہرے پر موجود خامیوں کے حساب سے پڑتی ہے ۔ کنسیلر میک اپ سے چہرے پر واضح دھبوں اور آنکھوں کے گرد حلقوں کو چھپانا بہت آسان ہوتاہے۔


کنسیلر کا درست طریقے سے استعمال نہ صرف سیاہ حلقوں کو چھپانے بلکہ جلد کو تروتازگی کا تاثر فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کنسیلر اپلائی کرنے کا بنیادی طریقہ معلوم ہونا نہایت ضروری ہے۔ کنسیلر کے استعمال کا طریقہ تمام اقسام کی جلدوں پر ایک جیسا ہی ہے کہ ایک نقطے کو احتیاط کے ساتھ بلینڈ کرنا ہوتا ہے کیونکہ اگر صحیح طریقے سے بلینڈ نہ کیا جائے تو چہرے پر سفید دھبے نمایاں ہو کر جلد کو مزید بد نما بنا دیتے ہیں۔


سب سے پہلے داغ دھبوں پر نقطے کی شکل میں کنسیلر لگائیں۔ برش یا انگلی کی مدد سے بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ برش زیادہ مناسب رہتا ہے کیوں کہ انگلی سے کنسیلر بلینڈ کرنا مشکل ہوتا ہے اور گہری سطح تک نہیں لگایا جا سکتا۔ برش کا استعمال بھی درست طریقے سے کیا جائے۔ آنکھوں کے نیچے کونوں پر کنسلیر لگانے کیلئے بڑا برش زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کیلئے چپٹے اور گول برش مناسب رہتے ہیں۔ انگلی سے لگانے کی صورت میں، کنسیلر لگانے کے بعد انگلی سے آہستہ آہستہ تھپتھپائیں تاکہ وہ دھبوں کو اپنے اندرجذب کر لیے۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ جلد کی ٹون کے ساتھ پوری طرح بلینڈ ہوجائے، اس سے کنسیلر کا رنگ جلد کی رنگت سے ہلکا معلوم ہوگا اور بُرا نہیں لگے گا۔کنسیلر لگنے کا کام بڑی مہارت سے کرنا چاہیے۔

اس کے بعد جب بیس (Base) بنائی جائے گی تو چہرہ نارمل ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ آنکھوں کے گرد حلقے ہیں تو نہایت آہستگی سے آنکھوں کے نیچے چند نقطے لگائیں اور پھر انگلی کی مدد سے تھپتھپائیں اور آہستہ آہستہ پھیلا دیں۔
چہرے کے داغ دھبوں کے مقابلے میں آنکھوں کے گرد حلقوں کی جگہ کافی بڑی ہے اس لئے خاصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ بے احتیاطی برتنے پر ایک گہرے دائرے کی جگہ دو ہلکے دائرے نظر آنے لگیں گئے۔

بہتر طریقہ یہ ہے کہ آئینے کے سامنے بیٹھ جائیں اور آئینہ دیکھتے ہوئے آنکھوں کے گرد حلقوں پر نقطے لگائیے اور پھر کنسیلر لگا کر درمیانی انگلی سے مہارت کے ساتھ پھیلانے کی کوشش کریں۔بیرونی گوشے سے اندرونی گوشے کی طرف انگلی سے ملیں کیونکہ یہ حصہ بڑا نازک اور حساس ہوتا ہے۔اس لیے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آنکھوں کے نیچے حلقوں کے بجائے جمع شدہ چربی ہے تو اس کے لئے اول تو کنسیلر کا استعمال ہی نہ کریں اور پھر بڑی مہارت سے لگائیں یہ حلقے مد ہم نظر آئیں گے۔


جلد پر اگر داغ دھبوں کے بجائے مہاسے ہیں تو ایسی صورت میں کنسیلر بہت کم استعمال کرنا چاہیے کیوں کہ اس کا سیاہ مادہ مسامات کو بند کرکے مہاسوں کے مسئلے کو اور سنگین بنا سکتا ہے تاہم اس کیلئے وہ کنسیلر استعمال کریں جو زیادہ گاڑھانہ ہو اور خوشبو سے پاک ہو تو جلد کیلئے مناسب رہتا ہے ۔ مہاسوں کو چھپانے کیلئے جلد کی رنگت کے عین مطابق فاوٴنڈیشن لگانے سے قبل چہرے پر کوئی Day Cerm لگائیں اور پھر کسنیلر لگا کر اسفنج سے پھیلالیں اور پھر اپنا میک اپ شروع کریں۔


دیگر استعمال
اب یہ دیکھیں کہ آپ کے چہرے رگیں ٹوٹی ہوئی نظر تو نہیں آرہی ہیں یا پھر آپ کے مسامات کافی چوڑے تو نہیں کیو نکہ ایسی صورت میں ذرا زیادہ مقدار میں کنسیلر استعمال کرنا پڑتا ہے لیکن اس طرح مسامات بالکل بند نہ ہو جائیں تاہم ایسا آپ ہمیشہ نہ کریں بلکہ کوئی بہت خاص موقع ہو تو کریں اور اس کے بعد میک اپ اتارنے کے لئے بھی، اسٹر نجینٹ کلینزنگ لوش استعمال کریں۔


ہونٹ کی ناہمواری چھپانے کے لئے بھی کنسیلر مددگار ہے۔ پہلے ان کے بیرونی خطوط کنسیلر کی مدد سے چھپادیں اور پھر لپ لائنز کی مدد سے یہ خطوط ہموار شکل میں دوبارہ کھینچ لیں۔
چہرے پر پیدائشی نشانات، تل مسے اور دوسرے داغ دھبے دور کرنے کیلئے صحیح شیڈ کا کنسیلر کا انتخاب کریں اور کنسیلرلگانے سے پہلے اپنے چہرے پر دن کی کریم(Day Cream) اچھی طرح مل لیں پھر اسفنج سے آہستہ آہستہ چہرے کو تھپتھپائیں۔


اب چہرے پر فاوٴنڈیشن لگانے سے پہلے سفید پاوٴڈر چہرے پر لگائیں تاکہ فاوٴنڈیشن قائم رہ سکے۔ فاوٴنڈیشن لگانے کیلئے اسفنج کا استعمال کریں ، اسفنج پر فاوٴنڈیشن لے کر چہرے پر آہستہ سے لگائیے تا کہ پورے چہرے پر فاوٴنڈیشن اچھی طرح لگ جائے۔
اب فوم کے اسفنج سے چہرے کو ایک بار تھپتھپائیں اور ایک نمبر کم شیڈ کا پاوٴڈر لگائیں۔ اس کے بعد نارمل میک اپ کرنا شروع کر دیں۔

یقینا خواتین کو مندرجہ بالا معلومات کے بعد اپنا مطلوبہ کنسیلر منتخب کرنے میں آسانی ہوگئی۔ یادر رکھیں! کنسیلرآپ کی میک اپ کٹ کا وہ اہم جز ہے جو چہرے کی ہر خامی کو خوبی میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اسلئے، کنسیلر کی موجودگی میک اپ کٹ میں ضروری ہے تاکہ میک اپ کرتے وقت آپ کو پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے۔ داغ دھبوں اور مہاسوں سے پاک صاف چہرے پر میک اپ خوب رنگ جماتا ہے یہ بات ہر عورت اچھی طرح جانتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے چہرے جلد خوب اچھی اور صاف ستھری ہو۔ کنسیلر چہرے کی تمام خامیاں چھپانے کا موٴثر ذریعہ ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2015-05-07

Your Thoughts and Comments

Special Beauty article for women, read "Concealer Chehray Ki Khamian Chupanay Ka Moasar Zariya" and dozens of other articles for women in Urdu to change the way they live life. Read interesting tips & Suggestions in UrduPoint women section.