بند کریں
خواتین مضامینخوبصورتیفیشل مساج آپ کی خوبصورتی کا ضامن

مزید خوبصورتی

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فیشل مساج آپ کی خوبصورتی کا ضامن
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چہرے کی نرمی اور ملائمت کم ہوجاتی ہے اور ایسا عموماََ غیر متوازن غذا اور جلد کی مناسب حفاظت نہ کرنے کے سبب ہوتا ہے۔اس ضمن میں ماہرین آرائش کا خیال ہے کہ فیشل یعنی مساج حفظانِ صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔
نسرین شاہین:
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چہرے کی نرمی اور ملائمت کم ہوجاتی ہے اور ایسا عموماََ غیر متوازن غذا اور جلد کی مناسب حفاظت نہ کرنے کے سبب ہوتا ہے۔اس ضمن میں ماہرین آرائش کا خیال ہے کہ فیشل یعنی مساج حفظانِ صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔کیونکہ چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے اور واپس لانے میں مساج اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ آپ کے جسم میں موجود ٹاکسن اور آپ کے چہرے کے اطراف جمع شدہ غیر ضروری مواد کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔فیشل مساج کے بے شمار فوائد ہیں۔
مساج کی تاریخی اہمیت:
فیشل مساج کی تاریخ خودبنی نوع انسان کی تاریخ جتنی پرانی ہے۔تین ہزار سال قبل از مسیح چین کے ایک بادشاہ فوکی تحریروں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ مساج سے طاقت اور قوت بڑھتی ہے۔یہ ایک ایسا کھلا راز ہے جس کی تائید ہمارے بزرگ خواتین کا تاکید کرکے ننھے بچوں کے جسم پر میدہ اور گھی یا صرف تیل مساج کرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بہت فائدہ مند ہے۔یونان اور روم کی قدیم تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے کی عورتیں مساج سے اپنے آہ کو خوبصورت بناتی تھیں۔ عہد مغلیہ میں سنگترے کا چھلکا‘آٹا‘بیسن‘صندل اور دودھ کی بالائی کو حل کرکے عورتیں چہرے کا مساج کرتی تھیں۔مصر کی دولت مند خواتین پستہ‘بادام‘زعفران‘موم‘کسم کے پھول‘دودھ میں گھِس کر چہرے پر مساج کرتیں تھیں جبکہ غریب گھرانے کی خواتین دودھ سے مساج کرتی تھیں۔
مساج کے فوائد:
مساج کرنے سے نہ صرف چہرے کی صفائی ہوتی ہے بلکہ تازگی بھی ملتی ہے۔اس سے چہرے پر ایک خاض چمک پیدا ہوتی ہے۔چہرے پر جھریاں نہیں پڑتیں۔مساج کرنے سے دوران خون چہرے کی جانب بڑھتا ہے جس سے چہرے کے عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور جلد کی نشودنما بہتر طور پر ہوتی ہے۔مساج چہرے کی خوبصورتی کو بڑھانا ہے۔ اگر چہرہ مساج کے بغیر چالیس سال تک خوبصورت رہ سکتا ہے تو مساج سے چہرے کی خوبصورتی مزید دس پندرہ سال تک بڑھ جائے گی اور اگر مسلسل توجہ دی جائے تو بڑھاپے تک چہرے کو خوبصورت اور جھریوں سے پاک رکھا جاتا ہے۔ اور جلد کی تازگی و شگفتگی برقرار رہتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ نرم وملائم ہوجاتی ہے۔مساج چہرے سے بڑھاپے کے اثرات کو روکتا ہے اور چہرے سے مہاسوں اور دیگر داغ دھبوں کو دور کرنے کے علاوہ چہرے کی سیاہ کیلوں کو اس کی مدد سے نکالا جاسکتا۔ مساج چہرے کے پٹھوں یا مسلز کو مضبوط کرتا ہے۔جلد میں موجود گردوغبار کر باہر نکالتا ہے اور مہاسے اور کیلوں کے نکلنے کے عمل کو روکنے کر کم کرتا ہے۔ مساج کروانے والی خواتین کا کہنا ہے کہ ایک بار مساج کروانے کے بعد اتنا سکون ملتا ہے کہ ہمیں دوبارہ بھی اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ایک بار بیوٹیشن کے سامنے آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائے تو پھر مہینوں کی تھکن رفع ہوجاتی ہے اور چہرہ اور دماغ پُرسکون ہوجاتے ہیں۔ مساج دراصل جلد کو نرم کرنے ایک سادہ سائنسی طریقہ یا ہنر ہے جو جلد کر تروتازہ کرنے کے ساتھ چکنائی اور پسینہ پیدا کرنے والے گلینڈر کے عمل کو بہتر کرتا ہے۔چہرے کو مناسب چکناہٹ کے ساتھ تازہ اور ٹھنڈا رکھتا ہے۔اور سخت وکھردری جلد کو نرم اور لچکدار بناتا ہے۔انسانی جسم میں سفید دودھیا رنگ کی صفا رطوبت لمف پائی جاتی ہے جا نا خالص اور غیر ضروری مواد کو بافتوں سے دور رکھتی ہے اور ایک طرح سے نکاسی کاکام کرتی ہے۔ پریشر مساج آپ کے چہرے کو نئی زندگی بخش سکتا ہے اگر آپ اپنی بیوٹیشن کو اپنی جلد کے مسائل سے آگاہ کریں تو وہ آپ کے لئے صحیح مساج کا انتخاب کر سکتی ہے ۔یہاں تک کہ اگر آپ کو معدے کا بھی کوئی مسئلہ ہو تو آپ ماہرین ِ آرائش سے رجوع کر سکتی ہیں۔ آگر آپ کے چہرے پر کچھ پھنسیاں اور دانے نمودار ہورہے ہیں اور دبانے پر گندا مواد بھی نکلتا ہے تو اس کا بہترین حل یہ ہے کہ صبح سویرے اٹھتے ہی ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک لیموں کا رس نچوڑ کر پی لیں۔یہ پانی جسم میں موجود ٹاکسن کا بھی خاتمہ کرے گا اور آپ کے چہرے کو تازگی بھی بخشے گا۔چہرے کے مساج کے لاتعداد فوائد ہیں۔لیکن مساج سے پہلے آپ کو اپنے روزمرہ معمولات میں کچھ تبدیلی کرنا ہوگی۔مثلا ٹیلی فون پر بھی لمبی گفتگو یا کسی اور تھکا دینے والی مصروفیت سے گریز کریں۔
جلد کے مسائل کی اصل وجہ پانی کا کم استعمال ہے ۔وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ چائے،کافی اور جوس وغیرہ پانی کا نعم البدل ہوسکتے ہیں۔اور جسم کیلئے پانی کی ضروری مقدار کو پورا کرتے ہیں وہ قطعا غلط ہیں کیونکہ تازہ پانی کا کم استعمال ہی جلد کی خرابی کا بڑی وجہ ہے جس کے بعد خرابیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔
مساج اور عمر:
آپ کے چہرے کے مساج کی صحیح عمر کیا ہے؟جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے تو اس کے لئے عمر کا کوئی تعین نہیں ہے یہ تاثرغلط ہے کہ ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکی کو مساج کی ضرورت نہیں ہوتی،اسے بھی ہو سکتی ہے۔اگر وہ جلد کے کسی مسئلے کا شکار ہے اور اس کا فیصلہ ایک ماہر آرائش حسن ہی کر سکتی ہے کہ کس کو مساج کی کب ضرورت ہے۔البتہ ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکی اور اس کی ماں کے مساج میں فرق ہوسکتا ہے ۔کیونکہ لڑکی کی جلد اسی کی طرح کم عمر ہے اور اسے صرف کلینزنگ اور ٹوننگ سے بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔لیکن ایک بات بہر حال طے ہے کہ فیشل مساج حفظانِ صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔ فیشل مساج پچیس سال کی عمرکے بعد کرنا چاہیے کیونکہ اس سے پہلے جلد ناپختہ ہوتی ہے اور مساج چہرے کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔یہ مہینے میں ایک بار ضرور کروانا چاہیے۔ ماہربیوٹیشنز کا کہناہے کہ فیشل مساج کروانے کی عمرکم از کم 20سال ہوتی ہے پھر فیشل کے لئے چہرے کی جلد کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ آیا فیشل کروانے والے چہرے پر دانے کیل مہاسے تو نہیں؟
مساج کیسے کریں:
مساج کرانے عموماََ خواتین پارلر جاتی ہیں لیکن اگر آپ چاہیں تو گھر پر فیشل کر سکتی ہیں۔اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ فیشل عموماََ چار مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔سب سے پہلے چہرے کا مساج کیا جاتا ہے ۔اس کے بعد چہرے کو بھاپ دی جاتی ہے پھر کلینزنگ کی جاتی ہے اور آخر میں جلد کی مناسبت سے ماسک لگایا جاتا ہے۔ ایک ماہر بیوٹیشن کا کہنا ہے کہ فیشل مساج کا آغاز ہمیشہ کلینزنگ سے ہوتا ہے۔کلینزنگ گھر پر بھی ہوسکتی ہے لیکن بہتر ہے کہ کسی پروفیشنل سے کروائی جائے کیونکہ وہ آپ کی جلد کو بہتر طور پر جان کر درست طریقہ کا اختیار کریں گی۔ان کے بعد ٹوننگ ہوتا ہے جس میں چہرے اور گردن کے اطراف ہاتھوں کی حرکات سے خون کی گردش میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ان حرکات سے خون کی گردش میں اضافہ کے ساتھ ساتھ چہرے کی چکنائی کے خاتمے میں بھی مدد ملتی ہے۔جلد نرم ہوجاتی ہے اور چہرہ بہت حد تک تازہ دم ہوجاتا ہے۔ مساج درج بالا ترتیب سے کریں اور ہر مرحلہ تین مرتبہ کریں۔جب تمام مراحل مکمل ہوجائے تو ایک راونڈ مکمل ہوگا۔اس دفعہ پانچ مرتبہ یہ عمل دہرائیں۔مساج مکمل ہونے کے بعد اگلا مرحلہ چہرے کو بھاپ دینے کا ہے۔اس مقصد کے لئے پارلرز میں تو مشینیں موجود ہوتی ہیں لیکن گھر میں بھی بھاپ لی جاسکتی ہے۔وہ اسطرح کہ ایک کھلے برتن میں خوب گرم پانی ڈالیں اور کے اوپر چہرہ جھکادیں۔ساتھ ہی کسی تولیے سے ڈھانپ دیں تاکہ بھاپ باہر نہ نکلے اور صرف چہرے کو لگے۔چونکہ بھاپ لینے سے مسامات کھل جاتے ہیں۔اس لئے آپ دیکھیں گی کی جلد کا تمام میل کچیل صاف ہورہا ہے۔ناک اور تھوڑی پر الگ بلیک ہیڈزہوں تو انہیں ٹیوزر کی مدد سے نکالیں۔چہرہ صاف ہوجائے گا۔اب”ڈیپ کلینزنگ“کریں۔ڈیپ کلینزگ اس کے لئے بازار میں کئی قسم کے اسکرب باآسانی دستیاب ہیں۔اسے چہرے پر نقطوں کی شکل میں لگائیں اور چہرے پر چند قطرے پانی کے ڈال کر پانچ منٹ تک مساج کریں۔ آخری مرحلہ ماسک لگانے کا ہے۔اس سے نہ صرف چہرے کے کھلے مسامات بند ہوجاتے ہیں بلکہ جلد چمکدار اور خوبصورت ہوجاتی ہے۔ماسک گھریلو طریقوں سے بھی بنائے جاسکتے ہیں۔اپنی جلد کی مناسبت سے ماسک کا انتخاب کریں۔ماسک پورے چہرے پر لگایا جاتا ہے۔ماسوائے آنکھوں اور ہونٹوں کے۔اس دوران نہ بات کریں اور نہ چہرے کو ئی اور حرکت دیں۔جسم کو بالکل ڈھیلا چھوڑ کر آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں۔
آنکھوں پر کھیرے کے ٹکرے یا پھر نرم روئی ٹھنڈے پانی یا عرق گلاب میں بھگو کر رکھیں۔ جب ماسک خشک ہوجائے تو اسے تھوڑی سے اوپر کی جانب کھینچ کر اتاریں۔یہ آپ کے چہرے کی شیپ میں نکل جائے گا۔بعض ماسک ایسے ہوتے ہیں جنہیں اتارنے کے لئے چہرہ دھویا جاتا ہے۔اس کے لئے ٹھنڈا پانی استعمال کریں۔آخر میں چہرے پر ٹونر لگائیں۔فیشل مساج کا عمل مکمل ہوگیا۔اب آپ اوٴدیکھیں گی کہ آپ کا چہرہ کس قدر شاداب اور چمکدار نظر آرہا ہے۔یادرہے کہ فیشل مساج کرنے کے فوراََ بعد چولہے کے نزدیک نہ جائیں اس سے چہرے کی جلد پر مضر اثرات پڑتے ہیں۔بہر حال مساج ایک صحت مندا حساس ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے