بند کریں
خواتین مضامینخوبصورتیمسکارا آنکھوں کو دلکش بنائے

مزید خوبصورتی

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مسکارا آنکھوں کو دلکش بنائے
اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر چیز خواہ وی جسم کا کوئی بھی حصہ ہو بلاشبہ لاجواب ہے مگر طاہری خوبصورتی کے معیار کو پرکھنے کیلئے سب سے زیادہ اہمیت بلاشبہ آنکھوں کو دی جاتی ہے۔۔۔
صبا حسین:
اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہر چیز خواہ وی جسم کا کوئی بھی حصہ ہو بلاشبہ لاجواب ہے مگر طاہری خوبصورتی کے معیار کو پرکھنے کیلئے سب سے زیادہ اہمیت بلاشبہ آنکھوں کو دی جاتی ہے۔ خواتین آنکھوں کے معاملے میں پرانے وقتوں سے ہی حساس نظرآتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خوبصورتی اور دلکشی کے معاملے میں اللہ رب العزت نے ہر انسان کو منفرد ویکتا بنیا ہے۔
اس قدرتی شاہکار کو مزید جاذب نظربنانے کیلئے خواتین بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ مسکارا بھی آنکھوں ہی کی خوبصورتی میں اضافے کیلئے سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمومی طورپر ایک چھوٹے سے گول برش کے ساتھ ایک ٹیوب کی شکل میں بازار میں دستیاب ہے جسے آنکھوں کو مزید گہرا، کالا، پلکوں کو گھنی اور لمبی دکھانے کیلئے لگایا جاتا ہے۔
مسکارا قدیم مصرسے شروع ہوا جب سخت موسم نے لوگوں کو اپنے جسم اور جلدی امراض سے بچنے کیلئے مختلف قسم کی چیزوں کے استعمال پر مجبور کیا۔ ہزاروں سالوں میں یہ احتیاطی تدابیر فیشن میں تبدیل ہوگئیں۔ کول جو کہ میک اپ کے سامان میں سب سے زیادہ استعمال کی جاتا تھاآہستہ آہستہ مصر کے لوگوں میں اس کا استعمال بڑھنے لگا جسے آنکھوں اور پلکوں پر جراثیموں آلو وہ ہوا اور مٹی سے بچنے کیلئے لگایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات پر بھی یقین رکھتے تھے کہ یہ آفات کو ان سے دور رکھے گا۔ قیمتی پتھروں کو پیس کر حاصل کیے جانے والے اس محلول کو رمل کا نام دیا گیا جو آنکھوں کی حفاظت کیلئے عام طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ جیسے جیسے مصر میں کیمیائی اجزاء اور میک اپ کے سامان کی صنعت نے ترقی کی انہی قیمتی پتھروں کو پیس کر تیار کی جانے والی اشیاء بیرونی ممالک میں بھی برآمد کی جانے لگیں۔ روم کے لوگوں نے اسے فیشن اور مذہبی رسومات کے حصے کے طور پر قبول کیا۔
ملکہ وکٹوریہ کے دور میں اس کا استعمال خواتین میں ایک فیشن اور روایت کے طور پر بہت مقبول ہوا۔ اس وقت سے خواتین نے اپنے بناؤ سنگھار پر گھنٹوں صرف کرنے شروع کیے اور مسکارا ہر عورت کے چہرے کی شادابی وخوبصورتی کیلئے ایک اہم جزوبن گیا۔
مسکارا جس شکل میں آج ہمارے سامنے موجود ہے یہ بھی ملکہ برطانیہ کے دور ہی سے شروع ہوا اور 1913ء میں ایک فرانسیسی کیمیادان نے اسے ایک غیرزہریلے غیر نقصان دہ مسکارے کے طور پر متعارف کروایا مگر یہ بھی کوئی مکمل مسکارا نہ تھا۔ اس کے باوجود یہ پورپ میں مقبول عام ہوا جہاں بہت ممالک میں آج بھی مسکارا کو ، رمل کہا جاتا ہے۔ اسے ساری دنیا میں پھیلانے اور تشہیر کا کام ایک امریکی کیمیادان نے رمل ہی کے لفظی ترجمہ مسکارا کے نام سے کیا۔ اکیسویں صدی یہ خواتین کے سنگھار کا ایک اہم اور لازمی جزوبن چکا ہے جس کے بغیر خواتین خود کو نامکمل محسوس کرتی ہیں ۔ مسکارا خواتین کے سنگھار کا لازمی جزو ہے یہ آنکھوں میں نہ ہو تو انسان کا سنگھارا دھورارہتا ہے۔

(1) ووٹ وصول ہوئے