بند کریں
خواتین مضامینگھریلو ٹوٹکےجلے ہوئے حصوں کو سکون پہنچانے والی گھریلو ترکیبیں

مزید گھریلو ٹوٹکے

پچھلے مضامین - مزید مضامین
جلے ہوئے حصوں کو سکون پہنچانے والی گھریلو ترکیبیں
حادثہ کہیں بھی اور کسی بھی جگہ پیش آسکتا ہے، خاص طور پر جب آپ باورچی خانے میں کھانا پکارہی ہوتی ہیں۔ باورچی خانے میں ہاتھ پیروں کا جل جانا عام سی بات ہے۔
حادثہ کہیں بھی اور کسی بھی جگہ پیش آسکتا ہے، خاص طور پر جب آپ باورچی خانے میں کھانا پکارہی ہوتی ہیں۔ باورچی خانے میں ہاتھ پیروں کا جل جانا عام سی بات ہے۔ ذیل میں چند گھریلوترکیبیں دی جارہی ہیں، جن کے ذریعے سے آپ پانی یاتیل کی جلن دور کرکے سکون حاصل کرسکتی ہیں۔ جلنے کے بعد فوراََ ذیل میں دی گئی چیزوں کو استعمال کرنا چاہیے۔
شہد :
شہد دافع عفونت (ANTISEPTIC) ہے اور زخموں کو مندمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جل جانے کی صورت میں شہد کو متاثرہ حصے پر اچھی طرح سے لگالیں، جلن دور ہوجائے گی۔
سرکہ :
سرکہ تقریباََ ہر گھر میں ہوتا ہے۔ جسم کاکوئی حصہ جل جانے کی صورت میں سرکے میں پانی ملاکر پتلا کرلیں اور پھر متاثرہ حصے پر لگالیجیے۔ اسے براہ راست نہ لگائیے، بلکہ صاف کپڑے کو پانی ملے سرکے میں ڈبو کر متاثرہ حصے پر لپیٹ لیجیے۔ اگر جلن دور نہ ہو تو تھوڑی دیر بعد کپڑے کو دوبارہ سرکے میں ڈبوئیں اور متاثرہ جگہ پر رکھ کر نرمی سے دبائیں۔ جلی ہوئی جگہ پر سرکہ لگانے سے قبل بہتر ہوگا کہ اپنے معالج سے بھی مشورہ کرلیں۔
گھیکوار :
جل جانے پر گھیکوار (ایلوویرا) کا گودا براہ راست متاثرہ جگہ پرلگالیں۔ گھیکوار جتنا تازہ ہوگا، اتناہی زیادہ فائدہ پہنچائے گا۔ گھیکوار کاگودا جسم کے جلے ہوئے حصوں کو جلد مندمل کردیتا ہے۔
لیونڈرکاپتلا تیل :
اسطوخودوس (لیونڈر) کی بھینی خوشبو کی بناپر اسے گھروں میں استعمال کیاجاتا ہے۔ اس کا تیل جلی ہوئی جگہ پر لگانے سے آرام آجات ہے۔ اگر لیونڈر کے تیل میں گھیکوار کاگودا، حیاتن ج اور ھ (وٹامنز سی اور ای) بھی شامل کرلی جائیں تو یہ آمیزہ زیادہ فائدہ مند ہوجاتا ہے۔ اسے دن میں کئی بارلگایاجاسکتا ہے۔
کیلے کا چھلکا :
کیلے کا چھلکا اس جگہ پر رکھ دیں، جہاں جلن ہورہی ہو اور جب تک وہ سیاہ نہ ہوجائے، اسے نہ ہٹائیں۔ یہ جلی ہوئی جگہ کو تیزی سے مندمل کردیتا ہے۔
دہی :
جلی ہوئی جگہ پر دہی لگانے سے ٹھنڈک پہدا ہوجاتی ہے، لیکن اسے فوراََ نہیں لگانا چاہیے، بلکہ 30 منٹ کے بعد لگاناچاہیے۔ جسم کا زیادہ حصہ جل جانے کی صورت میں متاثرہ فرد کو فوراََ کسی قریبی ہسپتال لے جانا چاہیے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے