Wadi E Soon Or Camping Gala

وادئ سون اور کیمپنگ گالا

ڈاکٹر سید محمد عظیم شاہ بُخاری بدھ اکتوبر

Wadi E Soon Or Camping Gala
یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ پچھلے چند سالوں سے حکومتِ پاکستان نے سیاحت کے فروغ کے لیئے بھر پور اقدامات اُٹھائے ہیں اور آج بھی اس میدان میں بہت محنت کر رہی ہے اور اِس ضمن میں پنجاب حکومت اور اسکے سیاحتی ادارے ٹوارزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب کا کردار بھی نہایت اہم اور قابلِ داد ہے۔ اس سال پنجاب حکومت اور ٹی ڈی سی پی نے پنجاب میں دو سیاحتی مقامات کو ڈیویلپ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جن میں ایک ضلع ڈیرہ غازی خان کا علاقہ کوہِ سلیمان و فورٹ منرو اور دوسرا ضلع خوشاب میں واقع وادئ سون سکیسرشامل ہیں۔


وادئ سون سکیسر ضلع خوشاب کے شمال میں واقع ایک خوبصورت وادی ہے جو لاہور سے صرف چار گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ یہاں منفرد ساخت کے حامل پہاڑوں کے بیچ پنجاب کی چند خوبصورت جھیلیں، چشمے، باغات اور آثارِ قدیمہ واقع ہیں جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔

(جاری ہے)

وادی سون کی مٹی زیادہ تر بھر بھری ہے اور یہاں کے پہاڑ ریتلی چٹانوں اور چونے کے پتھر پر مشتمل ہیں جبکہ یہاں کی زراعت کا دارومداربرسات پر ہے۔

سون سیسر کی بلندی سطحِ سمندر سے پانچ ہزار دس فٹ بلند ہے۔ اور یہ وادی پچاس کلومیٹر لمبی اور نو کلومیٹر چوڑی ہے جہاں پنجاب اُڑیال اور چنکارہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
اس وادی کی مسحور کن خوبصورتی کو عوام الناس کے سامنے لانے اور ایکو ٹوارزم کو پروموٹ کرنے کے لیئےحکومتِ پنجاب کے ادارے ٹوارزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب نے میڈیا کے نمائندوں، بلاگرز، اینکرز، وی لاگرز، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور فنونِ لطیفہ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے لیئے دو روزہ سون ویلی ٹور اور کیمپنگ گالا کا اہتمام کیا، جس میں کیمپنگ، شامِ موسیقی، ہائیکنگ، بوٹنگ اور سائیکلنگ سمیت وادئ سون کا بھرپور ٹور شامل تھا۔


ٹور کے پہلے روز جو جگہ سب سے پہلے دکھائی گئی وہ ''کنہٹی باغ '' تھا جو1933 میں ضلع شاہپور کے انگریز انجینیئر میجر ویٹ برن نے بنوایا تھا۔ اس کا نام باغ میں موجود ایک دلکش آبشار کے پاس واقع چٹان ''کنہٹ'' سے نکلا ہے ۔ باغ میں موجود نباتات میں بادام، خوبانی، انناس اور ویلنشیا کے درختوں سمیت کئی قسم کی جڑی بوٹیاں اور پودے شامل ہیں ۔ اس خوبصورت باغ میں سیاحوں کے لیئے ایک کیمپبگ سائیٹ بنائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ایک ریسٹ ہاؤس بھی موجود ہے۔
اس کے بعد ہمیں ''کھبیکی جھیل'' لے جایا گیا جو قدرت کا ایک حسین شاہکار ہے۔ اس جھیل کا نام قریبی گاؤں کھبیکی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ آج سے تین سال پہلے جب میں یہاں گیا تھا تو یہ پانی کی ایک عام جھیل کے علاوہ کچھ نہ تھی جس کے کناروں پر کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ لیکن پنجاب حکومت کے وادئ سون کو ڈویلپ کرنے کے منصوبے کے بعد اس کی حالت ہی بدل گئی ہے۔

یہاں ٹی ڈی سی پی کا ایک خوبصورت ریزاٹ بنایا گیا ہے جہاں کھانے پینے کی تمام سہولیات موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ یہاں سائیکنگ اور بوٹنگ کی سہولیات بھی میسر ہیں۔ نئے بنچوں اور روشنیوں کی قطار نے اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔ اسی جھیل کے کنارے منعقد ہونے والی شامِ موسیقی، کیمپنگ اور آتش بازی نے ٹور کا مزہ دوبالا کر دیا جہاں مقامی فنکاروں اور سرگودھا سے آئے نوجوانوں کے میوزیکل بینڈ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

جھیل کے پاس ہی ایک ''برڈ واچ ٹاور'' بنایا گیا ہے تاکہ سیاح اس جگہ سے جھیل پر آنے والے سائیبیریا کے ہجرتی پرندوں کا نظارہ کر سکیں۔
اگلے دن ہمیں ''ڈٰیپ شریف'' کا تالاب دکھایا گیا۔ مرکزی سڑک سے اندر کی طرف تقریباً ایک کلومیٹر تک کا پیدل سفر کرنے کے بعد جب آپ سفید پہاڑیوں کے بیچ موجود ایک گہرے سبز پانی کا شفاف تالاب دیکھتے ہیں تو آپ کی تمام تھکن دور ہو جاتی ہے۔

اِسے اوپر سے بہہ کہ آنے والی ایک آبشار بھر رہی ہے۔ یہ چشمہ اور تالاب اپنے آپ میں ایک عجوبہ ہی معلوم ہوتا ہے جو چٹیل پہاڑوں اور ویران راستوں کے بیچ اپنی بہار دکھا رہا ہے۔ اسکا پانی سبز،شفاف اور میٹھا ہے۔ اس کے قریب ہی حضرت سراج الدین نقشبندی رح کی درگاہ واقع ہے جس کی وجہ سے اس جگہ کو ''ڈیپ شریف'' کہا جاتا ہے۔
آخر میں ہمیں وادئ سون کے خوبصورت راستوں پر سے سکیسر بیس لے جایا گیا۔

جہاں بیس کمانڈر کی طرف سے پُرخلوص ظہرانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہاں ہمیں سکیسر کا مندر، پرانا زیتون کا درخت، پُرانی غاریں، ائیر بیس میوزیم، ہیلی پیڈ اور زیتون کا باغ دکھایا گیا۔ ان سب جگہوں کی تاریخ و اہمیت کے بارے میں خصوصی طور پر بتایا گیا۔ اسی مقام پر ہم نے زِپ لائن اور تیر اندازی جیسی بھرپور سرگرمیوں سے لطف اٹھایا جس کے لیئے ہم سب نے پاکستان ائیر فورس کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

یوں یہ بھرپور تاریخی و معلاموتی ٹرپ اپنے اختتام کو پہنچا۔ بلاشبہ یہ ایک منظم اور زبردست ٹرپ تھا جس سے یقینناً ٹوارزم کو پھلنے پھولنے کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔
اس تفریحی دورے کیلیئے میں پی ٹی ڈی سی کے چیئرمین، مینیجنگ ڈائریکٹر اور جنرل مینیجر سمیت تمام منتظمین کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔
پاکستان زندہ باد
تاریخ اشاعت: 2019-10-30

Your Thoughts and Comments