عراق میں خود کش حملوں ، بم دھماکوں و جھڑپوں میں ایک امریکی فوجی سمیت 90 افراد ہلاک ، 125 سے زائد زخمی،دھماکوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں و گاڑیاں بھی تباہ، اسکندریہ میں بم دھماکے سے مسجد کے مرکزی دروازے کو نقصان پہنچا۔اپ ڈیٹ

منگل مارچ 21:43

بغداد/ رمادی/ الانبار/تلعفر ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔27مارچ۔2007ء) عراق کے شمال مغربی شہر تلعفر میں مارکیٹوں میں دو خود کش حملوں میں 50 افراد ہلاک اور 105 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ مارٹر حملوں ، بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں ایک امریکی فوجی اور دو امریکی عمر رسیدہ خواتین سمیت 40 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ متعدد گاڑیاں اور عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔

جبکہ اسکندریہ میں ایک مسجد کے قریب بم دھماکے میں مسجد کے مرکزی دروازے کو نقصان پہنچا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق منگل کی شام 4 بج کر بغداد کے شمال مغربی شہر تلعفر میں خود کش حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھرے ٹرک مارکیٹوں کی عمارتوں سے ٹکرائے جس کے نتیجے میں کم از کم 50افراد ہلاک اور 105 سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ دھماکوں کے نتیجے میں کئی گاڑیاں و عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔

(جاری ہے)

پولیس کے مطابق زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق کئی افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کیلئے امدادی کام شروع کر دئیے گئے ہیں جبکہ امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے صوبہ نینوا کے شہر تلعفر کے میئر نجم عبداللہ نے بتایا کہ شہر میں ہونے والے دھماکوں میں 50 افراد ہلاک اور 105 سے زائد زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت کاروں نے کار بم دھماکوں کے ذریعے مارکیٹوں کونشانہ بنایا جس میں بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقے کی مصروف ترین مارکیٹیں تھیں۔ نجم عبداللہ نے بتایا کہ دونوں دھماکے چند منٹوں کے فرق سے یکے بعد دیگرے ہوئے جس سے پورا علاقہ لرز گیا۔ جبکہ واقعہ کے بعد عراقی و امریکی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے ۔

واضح رہے کہ صوبہ نینوا کا شہر تلعفر شام کی سرحد کے قریب بغداد سے 90 میل کے فاصلے پر شمال مغرب کی جانب واقع ہے جوکہ اکثر مزاحمت کاروں کے حملوں کی زد میں رہتا ہے اور یہ خود کش دھماکے شہر کے شمال او روسطی علاقوں میں مصروف مارکیٹوں میں ہوئے ہیں۔ دوسری جانب شمالی شہر رمادی میں ایک خود کش حملہ آور نے خود کو ایک ریسٹورنٹ کے باہر دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں18 افرا ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عراقی پولیس افسران بھی شامل ہیں۔

جبکہ امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ صوبہ الانبار میں عرب قبائل کے درمیان جنگجوؤں سے مل کر لڑنے کے اتفاق کے بعد مغربی صوبے میں خود کش حملوں میں اضافہ ہو اہے۔ ادہر بغداد کے شمالی شہر ابو شیر میں ایک گھر پر مارٹر گولے گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 5 افراد ہلاک اور 15 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ادہر بغداد کے جنوب مشرق میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے سے ایک عراقی پولیس اہلکار مارا گیا۔

بغداد میں وزارت خزانہ کی عمارت پر فائرنگ اور مارٹر حملے میں ایک فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ امریکی فوج کے مطابق اسکندریہ شہر میں مارٹر حملوں میں 6 شہری مارے گئے ہیں ۔ دوسری جانب الوصف مسجد کے قریب امریکی و عراقی فوج کی مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں 2 مزاحمت کار ہلاک ہو گئے۔ موصل میں دو پولیس اہلکار اور دو شہری فائرنگ سے ہلاک ہوئے جبکہ شمالی شہر کرکوک میں ایک سال سے رہائش پذیر دو امریکی عمر رسیدہ خواتین کے گھر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے انہیں ہلاک کر دیا جبکہ مغربی صوبہ الانبار میں مزاحمت کاروں کے ساتھ لڑائی میں ایک امریکی فوجی مارا گیا جس کی ہلاکت کی امریکی فوج نے تصدیق کر دی ہے جبکہ اسکندریہ میں مسلح افراد نے ایک مسجد کو بم دھماکے سے اڑا دیا جس سے مسجد کے مرکزی دروازے کو شدید نقصان پہنچا۔