دہشت گردوں کو جلد کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے قواعد میں ترمیم کی جائے،

پنجاب حکومت نے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا،معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد، وفاقی حکومت کا بھی سزایافتگان کوفوری سزاکی خاطر قانون میں ترمیم کے لیے پاکستان بارکونسل سمیت چاروں صوبائی بارکونسلوں سے مشاورت کافیصلہ

منگل دسمبر 18:47

اسلام آباد/لاہور( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 دسمبر 2014ء ) دہشت گردی اور قتل جیسے سنگین مقدمات کے مجرموں کی سزائے موت پرفوری عملدرآمد یقینی بنانے کی خاطر ہائی کورٹ کے قواعد میں ترمیم کے لیے پنجاب حکومت کی استدعاپر عدالت عالیہ نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔جس پر رواں ہفتے غور کاامکان ہے جبکہ وفاقی حکومت نے بھی دہشت گردی میں ملوث ملزمان کوفوری سزادینے کے لیے قانون میں ترمیم کے لیے پاکستان بارکونسل سمیت چاروں صوبائی بارکونسلوں سے مشاورت کافیصلہ کیاہے۔

ہا ئی کورٹ رولز جلد سوم کے قاعدہ نمبر 39کے تحت متعلقہ عدالت سے موت کا پروانہ جاری ہونے کے بعد مجرم کو 14دن کے بعد لیکن 21روز سے قبل پھانسی دی جاسکتی ہے۔ جیل رولز میں بھی سزائے موت کیلئے یہی مدت مقرر تھی ،اب حکومت پنجاب نے جیل رولز کے قاعدہ نمبر105میں ترمیم کردی ہے جس کے تحت ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے 24گھنٹے کے بعد بھی سزائے موت دی جاسکتی ہے تاہم اس میں 7دن سے زیادہ تاخیر نہیں ہوسکتی جبکہ ہائی کورٹ رولز کے تحت ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد14دن سے قبل سزائے موت نہیں دی جاسکتی۔

(جاری ہے)

ہائی کورٹ رولز میں ترمیم کی منظوری دے کرسمری رواں ہفتے گورنر پنجاب کو بھجوادی جائے گی، جیل رولز میں ترمیم کے بعد ہائی کورٹ رولز اور جیل رولز میں تضاد کے باعث انسداد دہشت گردی اور سیشن عدالتوں سے متعلقہ مجرموں کے ڈیتھ وارنٹس کے اجراء میں قانونی رکاوٹوں کا سامنا تھا جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے ہائی کورٹ رولز میں ترمیم کی استدعا کی ہے۔ عدالت عالیہ کی رولز کمیٹی کے بعد یہ معاملہ فل کورٹ میں زیر غور آئے گا جس کی منظوری کے بعد سمری گورنر پنجاب کو بھجوائی جائے گی۔معاملے پر رواں ہفتے غور کیے جانے کاامکان ہے ۔

متعلقہ عنوان :