خانانی اینڈ کالیا کیس دس سالہ پرانا ،اکثر و بیشتر شواہد مٹا دیے گئے ، وزارت داخلہ

معاملے کا از سر نواحیاء ایک مشکل ترین کام ہے ، اربوں روپوں کا سرمایہ صرف ایک چینل سے بیرون ملک بھیجا گیا، اہم کیس کو از سر نو فعال کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے، شکوک و شبہات ڈالنے والے حلقے تنقید کی بجائے معاونت اور رہنمائی کریں ، ترجمان

پیر اپریل 20:29

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2017ء)ترجمان وزارتِ داخلہ نے خانانی اینڈ کالیا منی لانڈرنگ کیس سے متعلق شائع ہونیوالے ایک اداریئے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ملکی مفاد میں اورنہایت نیک نیتی سے شروع کئے جانے والے کسی کام میں چند حلقوں کی جانب سے رہنمائی اور معاونت کی بجائے بے جا تنقید اور کیڑے نکالنے کی روش اختیار کی جاتی ہے۔

خانانی اینڈ کالیا کیس اس سلسلے میں ایک واضح مثال ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیرِ داخلہ نے گذشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں ایک اخباری خبر کی وضاحت کرتے ہوئے خانانی اینڈ کالیا کیس سے متعلق کچھ حقائق قوم کے سامنے رکھے۔ وزیرِ داخلہ کے بیان کو نظر انداز کرتے ہوئے اور صرف چند الفاظ پر زور دیتے ہوئے کچھ حلقوں کی جانب سے یہ کہا جا نا کہ وزیر داخلہ عوام کو مزید نئی اطلاعات فراہم کرنے کی بجائے کچھ کر کے دکھائیں یقینا زمینی حقائق سے پہلو تہی کرنے کے مترادف ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ ایسے حلقے اس طرح کے بیانات داغنے سے پہلے کم از کم زمینی حقائق کا تو مطالعہ کریں تاکہ ان پر کسی حد تک اصل صورتحال واضح ہو سکے۔ ترجمان نے کہا کہ جیسا کہ وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ خانانی اینڈ کالیا کیس بنیادی طور پر ایک دس سال پرانا کیس ہے۔ اس وقت کے حکمرانوں کی عدم توجہ، قصداً کمزور تفتیش، ناقص پیروی اورریکارڈ کے غائب کئے جانے کی وجہ سے اس کیس کا فیصلہ عدالت کی جانب سے ملزمان کے بری ہونے کی صورت میں سامنے آیا جس کی اس وقت کی حکومت کی جانب سے سرے سے کوئی مزید پیروی ہی نہ کی گئی۔

وزیرِ داخلہ کے نوٹس میں یہ کیس اس وقت آیا جن خانانی اینڈ کالیا کمپنی کے ایک مالک الطاف خانانی پر امریکہ میں فرد جرم عائد کی گئی۔ اس مسئلے کو از سرر نو اٹھانے میں بڑا مسئلہ ڈبل جیوپرڈی کی قانونی شق یعنی کہ ایک مقدمے میں عدالت سے بری ہونے کی صورت میں اسی کیس میں از سر نو تفتیش نہیں ہو سکتی۔ دوئم جب سارے شواہد اور خاص طور پر ڈیجیٹل ریکارڈ مثلاً کمپیوٹرز، سرور اور دیگر آلات اسی کمپنی کو ہی واپس کر دیے گئے ہوں جن پر الزام ہو توایسے حالات میں بے جا تنقید کرنے والے حلقے خود ہی بتائیں کہ وہ کون سی بنیاد ہے جن پر ان کے بقول کچھ کر دکھانے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔

ان سب باتوں کے باوجود انتہائی محنت اور جانفشانی سے اور مختلف اطراف سے قانونی رائے لینے کے بعد انکوائری کا ایک نئے زاویے سے آغاز کیا گیا اور کیونکہ اس کے سارے تانے بانے غیر ممالک کو ترسیل شدہ رقوم سے ملتے ہیں اس لئے برطانیہ، امریکہ اور متحدہ عرب امارات سے معاونت مانگی گئی ہے کیونکہ ان ترسیلات میں مرکزی کردار الذرونی نامی کمپنی کا تھا جو کہ متحدہ عرب امارات میں واقع ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یہ واضح کرنا نہایت ضروری ہے کہ ایک دس سالہ پرانے کیس جس کے اکثر و بیشتر شواہد مٹا دیے گئے ہیں اور مٹانے والے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں تو اس معاملے کا از سر نواحیاء ایک مشکل ترین کام ہے مگر چونکہ اربوں روپوں کا سرمایہ صرف ایک چینل سے بیرون ملک بھیجا گیا اس لئے اس نہایت اہم کیس کو از سر نو فعال کرنے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم شکوک و شبہات ڈالنے والے حلقوں سے صرف یہی کہیں گے کہ وہ اس اہم معاملے میں بے جا و غیر ضروری تنقید کی روش اختیار کرنے کی بجائے ہماری معاونت اور رہنمائی کریں تاکہ معاملے کو کسی طور قانون کے مطابق حل کرنے اور انصاف تک پہنچانے کی کوشش کی جا سکے۔