مسلمانوں کی اعلیٰ ظرفی کی مثال ، سکھ برادری کو لنگر کی تیاری اور تقسیم کے لیے تاریخی مسجد کی پیشکش

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ دسمبر 13:31

چندی گڑھ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 30 دسمبر 2017ء):چندی گڑھ میں مسلمانوں نے سکھوں کے مدد کے لیے مسجد کے دروازے کھول دئے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم برداری نے سکھ برادری کو تاریخی مسجد کی پیشکش کی ۔ سکھ برادری کو لنگر تیار کرنے اور اسے تقسیم کرنے کے لیے مغلیہ دور کی تاریخی مسجد استعمال کرنے کی پیشکش کی گئی۔سکھوں کا میلہ ہر سال دسمبر میں منایا جاتا ہے جو تین روز تک جا ری رہتا ہے۔

اس میلے کو گرو گوبند سنگھ کے چھوٹے صاحبزادوں کی شہادت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔مسلم کمیونٹٰ نے مغلیہ دور کی لال مسجد کو مجدد الف ثانی مسجد بھی کہا جاتا ہے ، اس مسجدمیں سکھ برادری کو سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والوں نے بتایا کہ ہم گذشتہ تین روز سے یہاں لنگر تیار کرنے کے ساتھ ساتھ تقسیم بھی کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

مسجد کی بیسمنٹ کو بھی اشیائے خوردونوش کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔دو گاﺅں کے گردواروں نے مجموعی طور پر یہ لنگر تیار کیا اور گاﺅں کے رہائشی اس کام میں گردواروں کی انتظامیہ کی مد د کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کے استعمال کے لیے ہم نے انچارج سے اجازت طلب کی جس پر مسلمانوں نے اپنی مسجد کی زمین استعمال کرنے کی خوشی خوشی اجازت دے دی۔

لال مسجد کے انچارج خلیفہ سید محمد صادق رضا نے کہا کہ ہمیں سکھ برادری کی مدد کر کے خوشی ہوئی۔انہوںنے کہا کہ مذاہب کے مابین کوئی خلش نہیں ہے ، یہ محض حکمران ہی ہیں جو ان کو الگ رکھنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ماضی میں بھی سکھوں کی تمام جنگیں مسلمانوں سے نہیں بلکہ حکم انوں سے ہوئیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مسلمانوں کے اس اقدام کو خوب سراہا جا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ مسلم برادری کے اس اقدام سے بین المذاہب ہم آہنگی میںاضافہ ہو گا۔