بٹیر فارمنگ کے ذریعے بھاری مالی منافع حاصل کیا جا سکتاہے، ماہرین جنگلی حیات

پیر اپریل 13:38

فیصل آباد۔16 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) ماہرین جنگلی حیات نے کہاہے کہ بٹیر فارمنگ کے ذریعے بھاری مالی منافع حاصل کیا جا سکتاہے کیونکہ بٹیر کا گوشت انتہائی پسندیدہ انسانی خوراک ہے جس کے انڈے اور گوشت زود ہضم ہونے کے علاوہ غذائی اعتبار سے بہترین ہیں یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بٹیرو ں کی کھپت اور مانگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہاہے لہٰذا کاروباری نقطہ نظر سے بٹیر فارمنگ کے روشن امکانات موجود ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایاکہ پاکستان میں بٹیر کی تقریباً 50نسلیں پائی جاتی ہیں جن میں شالمی ، گولڈن، سیاہ ، سفید گوب، پہاڑی وڑھ، دیسی ، چھاتی والا ، کوٹرنکس وغیرہ شامل ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ بٹیر کی نسل بڑی تیزی سے بڑھتی ہے اور 5سی6ہفتوں میں یہ بٹیر کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ انہوںنے بتایاکہ کوٹرنکس کی مختلف نسلوں کی مادہ بٹیر 7سی8ہفتے بعد انڈے دینا شروع کر دیتی ہے اور یہ ایک سال میں 300سے 350 تک انڈے دیتی ہے ۔ انہوںنے بتایاکہ بٹیر چوزوں کا پہلے ہفتے خاص خیال رکھا جانا چاہیے اور درجہ حرارت 95فارن ہائٹ تک ہونا چاہیے تاکہ چوزوں کو مرنے سے بچایا جا سکے۔ انہوںنے بتایاکہ اس ضمن میں مزید معلومات ماہرین جنگلی حیات سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔