عدالت نے خاتون کو برہنہ کرنے کی تحقیقات ڈی آئی جی کے سپرد کردی

پیر اپریل 17:48

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)سندھ ہائیکورٹ نے منشیات فروشی کا الزام لگاکر پولیس اہلکاروں کی جانب سے خاتون کو برہنہ کرنے سے متعلق تحقیقات ڈی آئی جی ویسٹ کے سپرد کردی۔ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو منشیات فروشی کا الزام لگاکر پولیس اہلکاروں کی جانب سے خاتون کو برہنہ کرنے سے متعلق سماعت ہوئی۔ عدالت نے خاتون کو برہنہ کرنے کی تحقیقات ڈی آئی جی کے سپرد کرتے ہوئے 2 مئی تک تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

(جاری ہے)

عدالت کو بتایا گیا واقعہ میں ملوث ایس ایچ او اقبال مارکیٹ کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے تحقیقات مکمل ہونے تک ایچ ایس او کو فیلڈ پوسٹنگ نہ دینے کا حکم برقرار رکھا۔ دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ 24 مارچ کو 17 پولیس اہلکار گھر میں گھسے۔ بوڑھی والدہ کو علیحدہ کمرے میں بند کردیا۔ ڈیڑھ سال بیٹی پر بندوق تان کر برہنہ ہونے پر مجبور کیا۔ پولیس اہلکار 3 روز گھر میں رہے۔ ساس کی جانب سے اعلی حکام کو شکایت پر رہائی ملی۔ ایس ایچ او اقبال مارکیٹ منہ بند رکھنے کے لیے دھمکاتے رہے۔ پولیس رپورٹر کے مطابق منشیات فروشی کی اطلاع چھاپہ مارا گیا تھا۔