کاشتکار جدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں،کمشنر ساہیوال

پیر اپریل 17:55

ملتان۔16 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) کمشنر ساہیوال ڈویژن علی بہادر قاضی نے کہا ہے کہ زراعت کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے کیونکہ ملک کی 70فیصد آبادی کا روز گار زراعت سے وابستہ ہے ،کاشتکار وں کو چاہیے کہ وہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائیں تا کہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی فصلوں کے بہتر نرخ بھی مل سکیں ،وہ یہاں جناح ہال میں محکمہ زراعت کے زیر اہتمام 7مختلف اجناس کے ڈویژنل مقابلوں میں پوزیشن حاصل کرنے والے کاشتکاروں میں مختلف زرعی آلات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں ڈائریکٹر زراعت محمد فاروق جاوید،ڈپٹی ڈائریکٹر امتیاز احمد ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلیم نثار اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات نوید عصمت کاہلوں سمیت کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،انہو ںنے کہا کہ صوبائی حکومت نے زرعی پیداوار میں اضافے کے لئے کاشتکاروں کو رعایتی قرضہ جات ،کھادوں اور بیجو ں پر سبسڈی اور مختلف مقابلوں کے ذریعے جدید زرعی مشینری کی تقسیم جیسے اقدامات اٹھائے ہیں جس سے پیداوار میں اضافہ ممکن ہوا ہے ،ڈائریکٹر زراعت محمد فاروق جاوید نے بتایا کہ سات فصلوں اور پھلوں آم ،کپاس،کینو،چاول،مکئی ،امرود اور آلو کی پیداوار کے مقابلے کروائے گئے ہیں جس میں ڈویژن بھر میں 1584کاشتکاروں نے حصہ لیا جن میں سے پوزیشن حاصل کرنے والوں میں 70لاکھ70ہزارروپے مالیت کے جدید زرعی آلات تقسیم کئے گئے،آم کی پیداوار میں ساہیوال ضلع کے کاشتکار سردار نجیب احمد کو پہلا انعام دیا گیا جبکہ چاول کی پیداوار میں ضلع ساہیوال کے محمد رمضان ،ضلع اوکاڑہ کے محمد ظفر اقبال اور ضلع پاکپتن کے محمد عامر ،آلو کی پیداوار میں ساہیوال کے ملک پہلوان ،اوکاڑہ کے ناصر علی خان او رپاکپتن کے رانا محمد احسان ،امرود کی پیداوار میں ساہیوال کی شہلہ شہناز ،اوکاڑہ کے احسان علی خان ،کنو کی پیداوار میں ساہیوال کی عفت آراء اور اوکاڑہ کے محمد صدیق،کپاس کی پیداوار میں ساہیوال کے زاہد علی ،اوکاڑہ کے محمد اصغر اور پاکپتن کے طارق نذیر جبکہ مکئی کی پیداوار میں ساہیوال کے فیصل علی ،اوکاڑہ کے اشفاق احمد اور پاکپتن کے ملک علی گوہر کو پہلا انعام دیا گیا،تقریب میں صوبہ بھر میں امرود کی پیداوار میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر چک نمبر 109/7-Rکے کاشتکا ر محمد حیات کو لیزر لینڈ لیولر کا انعام بھی دیا گیا -

متعلقہ عنوان :