بی آئی ایس پی کے تحت 2012 تا 2017 6 برس میں 5.28 ملین مستحقین میں 466.24 ارب روپے تقسیم کیے گئے

پیر اپریل 20:43

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 2012 سے 2017 تک کے عرصہ 6 برس کے دوران 5.28 ملین مستحقین میں 466.24 ارب روپے تقسیم کیے گئے جن میںسے صوبہ سند ھ، خیبر پختونخواہ، جنوبی پنجاب،بلوچستان، اور آزاد کشمیر سے ایک لاکھ 25 ہزار714 افراد کی ادائیگیاں بھی روکی گئی ہیں، بی آئی ایس پی نے یہ ادائیگیاں 2015 میں روکی تھیں لیکن ورلڈ بینک کی جانب سے اس معاملے پر نوٹس لینے کی وجہ سے اس وقت ان افراد کی ادائیگیاں چپکے سے بحال کر دی گئیں تھیںبی آئی ایس پی زرائع کے مطابق 2012 میں پروگرام سے استفادہ کرنے والے 42 لاکھ 13ہزار 643مستحقین میں 42.30 ارب روپے کی رقوم تقسیم کی گئی تھیں۔

2013 میں 42 لاکھ 17 ہزار 977 استفادہ کرنے والوں میں 53.033 ارب روپے کی رقوم تقسیم کی گئیںاسی طرح 2014 میں استفادہ کرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 47 لاکھ 32 ہزار 263 ہو گئی اور تقسیم کی گئی رقوم بھی بڑھ کر تقریبادوگنا ہو گئیں اور76.04 ارب تقسیم کیے گئے۔

(جاری ہے)

2015 میں پروگرام سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 51 لاکھ 2 ہزار 529 تھی اور تقسیم کی گئی رقوم بڑھا کر 92.21 ارب کر دی گئیں2016 میں استفادہ کرنے والوں کی تعداد 52 لاکھ 63 ہزار 221ہو گئی اور استفادہ کرنے والوں میں 99.94 ارب تقسیم کیے گئے اور 2017 میں استفادہ کرنے والوں کی تعداد 52 لاکھ86 ہزار122 ہو گئی اور پروگرام سے استفادہ کرنے والوں میں 102.75 ارب روپے تقسیم کیے گئے جبکہ موجودہ حکومت نے ایک لاکھ 25 ہزار714 مشتبہ استفادہ کرنے والے افراد کی ادائیگیاں بھی اس دوران روکی گئی ہیں جن میں سندھ سے 55 ہزار 773،پنجاب سے 44 ہزار 603،خیبر پختونخوا سے 16 ہزار 35،بلوچستان سے 6ہزار 373،آزاد کشمیر سے 1880،گلگت بلتستان سے 1050مشتبہ استفادہ کرنے والے افراد کی ادائیگیاں روکی گئی ہیں۔

عباس شاہد