ْبلوچستان ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کے بغیرجاری پی ایس ڈی پی اسکیموں سے متعلق کیس کی سماعت

سیکٹرڈویلپمنٹ پروگرام سے متعلق رپورٹ طلب، صوابدیدی فنڈزکے استعمال کوروکنے کاحکم

پیر اپریل 20:50

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)بلوچستان ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کے بغیرجاری پی ایس ڈی پی اسکیموں سے متعلق کیس کی سماعت،عدالت نے نئے پبلک سیکٹرڈیویلپمنٹ پروگرام سے متعلق رپورٹ طلب کرتے ہوئے صوابدیدی فنڈزکے استعمال کوروکنے کاحکم دیدیا،ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کے بغیرجاری پی ایس ڈی پی اسکیموں سے متعلق درخواست گزارشہری نصرت حسین اورعالم مندوخیل کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل نے کی،درخواست گزاروں کے علاوہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اورلاافسرمحکمہ پی اینڈ ڈی بھی عدالت میں پیش ہوئے،درخواست گزارکاموقف تھا کہ پی ایس ڈی پی میں شامل اسکیموں میں عوامی مفادپیش نظرنہیں رکھاگیا ،جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس تھے کہ حکومت نے ہماری15 مارچ کے فیصلے کی صحیح تشریح نہیں کی،ہماراواضح حکم تھاکہ ہرمنصوبہ سپریم کورٹ کے حکم اور پلاننگ کمیشن کے قواعدکے مطابق ہو،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کاکہناتھا کہ حکومت عدالت کے فیصلے اور کمیشن کے رولز پر سختی سے عمل کررہی ہے،تاہم عدالت نے ترقیاتی اسکیموں کی پیشرفت اورمنظوری سے متعلق کابینہ اجلاس کی روائیداد طلب کرلی،عدالت نے حکم دیا کہ عدالت عظمی کے فیصلے اورپلاننگ کمیشن کے رولز کی سختی سے پاسداری کی جائے،عدالت نے ڈیپارٹمنٹل سب کمیٹی کی قانونی حیثیت سے متعلق بھی جواب طلب کرلیا،عدالت نے اس موقع پر صوابدیدی فنڈزکے استعمال کوروکنے کاحکم دیا،جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس تھے کہ بادشاہوں کی طرح فنڈز کے اعلانات کئے جارہے ہیں،جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی۔