حافظ نعیم الرحمن کی تاجر و صنعتکار تنظیموں سے ملاقات

،بجلی اور پانی کے بحران پر تبادلہ خیال بجلی اور پانی کے بحران کے خلاف0 2 اپریل کو وزیر اعلیٰ ہائوس کا گھیرائو اور 27اپریل کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے،حافظ نعیم الرحمن

پیر اپریل 21:54

حافظ نعیم الرحمن کی تاجر و صنعتکار تنظیموں سے ملاقات
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں جماعت اسلامی کے ایک وفد نے کراچی میں بجلی و پانی سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے جاری عوامی جدو جہد میں دیگر طبقات کو شامل کر نے اور ان کے مسائل کو اُجاگر کر نے کے لیے نارتھ کراچی انڈسٹری اینڈ ٹریڈ ایسوسی ایشن (نکاٹی)کے سر پرست اعلیٰ کیپٹن ریٹائرڈ اے معز خان ،صدر محمد شاہد صابر ،سجاد ایچ وزیر ،محمد فاروق اور فیڈر بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر بابر خان سے ملاقات کی اور بجلی اور پانی کے بحران سے پیدا ہونے والی صورتحال بالخصوص تاجروں و صنعتکاروں کے مسائل پر تبادلہ ٴ خیال کیا ۔

حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ جماعت اسلامی بجلی و پانی کے بحران کے حل کے لیے اور حکومت کی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی اور نا اہلی و ناقص کارکردگی کے خلاف بھر پور احتجاجی تحریک چلارہی ہے اور اس سلسلے میں 20اپریل کو وزیر اعلیٰ ہائوس کا گھیرائو کرنے اور اس کے باوجود بھی حکومت نے کوئی سنجیدہ کوشش اور اقدامات نہ کیے تو 27اپریل کو کراچی میں پر امن ہڑ تال کی جائے گی ۔

(جاری ہے)

جماعت اسلامی کے وفد میں سیکریٹری کراچی عبد الوہاب ،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ،سابق ٹائون ناظم گلبرگ ٹائون فاروق نعمت اللہ ،کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے نگراں عمران شاہد اور عبد الرحمن بھی شامل تھے ۔تاجر و صنعتکار تنظمیوں کے رہنمائوں نے جماعت اسلامی کی آمد پر ان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ہم کراچی کے مسائل پر آواز اُٹھانے اور حل کے لیے جدو جہد کر نے پر حافظ نعیم الرحمن اور ان کی پوری ٹیم کو خراج ِ تحسین پیش کر تے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے ای ایس سی کی نج کاری سے بہت نقصان ہوا ہے ۔یہ ادارہ ابراج گروپ کے پاس جانے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے ۔۔بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت سے پوری انڈسٹری متاثر ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے فیلڈ کے اندر مقابلے اور مسابقت کی نفا ہو اور کسی ایک کمپنی کی اجارہ داری نہیں ہو نی چاہیئے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے اووربلنگ اور ایوریج بلنگ بہت بڑا مسئلہ ہے جس کا کاٹیج انڈسٹری کو بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ لوڈشیڈنگ سے پیداوار کم ہوتی ہے اور ایکسپورٹ کا ہدف پورا نہیں ہو تا ۔سوئی سدرن گیس اور کے الیکٹرک کے جھگڑے اور تنازع میں کراچی کے شہری اور صنعتکار پس رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی بھی اہم مسئلہ ہے جس میں منصفانہ تقسیم کا نہ ہو نا بہت اہم ہے کیونکہ ہم کو لائن سے تو پانی نہیں ملتا لیکن مہنگے داموں ٹینکرز سے مل جا تا ہے ۔

پانی ہفتے میں صرف 2دن آتا ہے ۔تاجر رہنمائوں نے کہا کہ RLNGہمیں کافی مہنگی پڑتی ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم کے ای ایس سی کی نجکاری کے وقت سے جدو جہد کر رہے ہیں اور ہم نے ہر قسم کا آئینی و قانونی اور جمہوری طریقہ اختیار کیا ہے ۔سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ہماری پٹیشن دو سال سے زیر ِ التواء ہے ۔ہم نے نیپرا کے اندر بھی کراچی کا مقدمہ لڑا ہے اور نیپرا نے کو کے الیکٹرک کو ٹیرف میں اضافے سے روکا ہے ۔

نیپرا کو اس پر تیار کیا کہ وہ کے الیکٹرک کے حوالے سے اپنے اجلاس کراچی میں کر ے اور ایسا ہوا ۔حافظ نعیم الرحمن نے تاجروں سے اپیل کی کہ وہ اجتماعی مسائل کے حل کے کی جدو جہد میں ہمارا ساتھ دیں ۔کراچی کو ہر کوئی نچوڑتا ہے لیکن کوئی اسے اون کر نے پر تیار نہیں ۔کراچی کی نمائندگی اور مینڈیٹ کا دعویٰ رکھنے والوں نے کچھ بھی نہیں کیا ۔انہوں نے فیکٹریوں اورکارخانوں سے بھتے لینے کی منظم مہم تو چلائی اور بڑی ہڑتالیں کیں لیکن کراچی کے مسائل کے حل کے لیے کبھی کوئی ہڑتال نہیں کی۔

متعلقہ عنوان :