مخالفین اپنی سیاست چمکانے کیلئے بی آرٹی کیخلاف منفی پروپیگنڈاکررہے ہیں، وزیرٹرانسپورٹ

پیر اپریل 22:12

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ وماس ٹرانزٹ ملک شاہ محمد وزیر نے کہا ہے کہ بعض سیاسی جماعتیں اپنی سیاست چمکانے کے لئے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے خلاف عوام کو گمراہ کرنے کے لئے منفی پروپیگنڈہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی خصوصی دلچسپی اورپشاور کے عوام کے بھر پور تعاون سے یہ منصوبہ اب تکمیل کی جانب تیزی سے گامزن ہے اورموجودہ حکومت کے دورمیں ہی اسے مکمل کیاجائے گا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے پیرکے روز پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تعمیر پر پیش رفت اورعوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کانوٹس لیتے ہوئے ایک خصوصی اجلاس کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ وماس ٹرانزٹ شریف حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان نثار اور بی آر ٹی کے فوکل پرسن خورشید خان کے علاوہ دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

اس موقع پر بی آر ٹی کے فوکل پرسن نے معاون خصوصی کو سوشل میڈیا اوردیگر ذرائع سے موصول ہونے والی شکایات سے متعلق تفصیلی طورپر آگاہ کیا ۔ملک شاہ محمد نے ان شکایات کافوری نوٹس لیتے ہوئے پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت بی آر ٹی منصوبے کے کنٹریکٹر اور دیگرمتعلقہ حکام کو ان شکایات کے فوری ازالے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ بی آر ٹی منصوبہ پشاور کے عوام کے بھرپور تعاون کی بدولت ہی کی میابی کی جانب گامزن ہے۔

انہوںنے کہا کہ حکومت کوعوام کی تکالیف کابھرپور احساس ہے اور ان کو درپیش مشکلات کو ہرممکن دور کیاجائے گا۔ انہوں نے بی آر ٹی منصوبے سے متصل تمام سڑکو ںکی اسفالٹنگ اورکارپٹنگ کے علاوہ تعمیراتی ملبہ ہٹانے اورسڑکوں کی صفائی کاعمل دس دن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو اور گرد وغبار کابھی فوری خاتمہ ہو۔

ملک شاہ محمد نے ہدایت کی کہ رات کے اوقات میںٹریفک کو کسی صورت بند نہ کیا جائے اورحفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہوئے عوام کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوںنے کہا کہ بی آرٹی ایک عوامی فلاحی منصوبہ ہے جس کے معیار اور بروقت تکمیل پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا۔ معاون خصوصی نے سیاسی مخالفین اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس وسیع ترعوامی مفاد کے منصوبے پر محض تنقید نہ کریں۔

حکومت تنقید برائے اصلاح کو خوش آمدید کہے گی۔انہوںنے کہا کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک تاریخی اورجغرافیائی اہمیت کاحامل شہر ہے لیکن اس جدیددور میں بھی یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کانظام نہ ہونا سابقہ حکومتوں کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملک شاہ محمد نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بی آر ٹی کی صورت میںپشاور اورصوبے کے عوام کو جدید سہولیات سے آراستہ ایک پائیدار ٹرانسپورٹ کانظام فراہم کردیا ہے جو آئندہ کئی دہائیوں تک سفری ضروریات پوری کرے گا۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ کے معاو ن خصوصی سے ممبر صوبائی اسمبلی شوکت یوسفزئی کی سربراہی میںٹرانسپورٹروں کے وفد نے بھی ملاقات کی۔ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صوبائی رہنما حاجی ظاہر شاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ٹرانسپورٹروںنے معاون خصوصی کو ان کو درپیش مسائل اوربعض تحفظات سے تفصیلی طورپر آگاہ کیا۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی نے ٹرانسپورٹروں کے مسائل غور سے سنے اوراس سلسلے میں ان کے مستقل حل کے لئے ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ کے سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی ۔

کمیٹی میںڈپٹی ڈائریکٹر ٹرانسپورٹ اور ٹرانسپورٹروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی بس ٹرمینل سے متعلق قانون کے مطابق اپنی سفارشات ایک ہفتے کے اندر وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کو پیش کرے گا جسے حتمی منظور ی کے لئے صوبائی حکومت کو پیش کیاجائے گا۔